ہیٹ اسٹروک: ہلاکتوں کی تعداد 1242 ہوگئی

27 جون 2015
— پی پی آئی فائل فوٹو
— پی پی آئی فائل فوٹو

کراچی: سندھ کے مختلف علا قوں میں گرم موسم کی شدت میں کمی تو آگئی ہے تاہم ہیٹ اسٹروک سے مزید 32 افراد ہلاک ہوگئے یوں گذشتہ ایک ہفتے میں ہیٹ اسٹروک سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1242 ہوگئی ہے۔

ہفتے کے روز کراچی میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ہسپتالوں نے 32 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ جن میں سے 13افراد جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، 11 عباسی شہید ہسپتال، 2 قطر ہسپتال ، 3 کے ایم سی ہسپتال اور 3 شہر کے دیگر ہسپتالوں میں ہلاک ہوئے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کراچی سمیت سندھ بھر میں گرمی کی شدت کے باعث ہزاروں افراد ہیٹ اسٹروک کے مرض کا شکار ہوکر ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے عہدیدار فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ایدھی سرد خانے میں گذشتہ ہفتے سے اب تک 200 نامعلوم افراد کی لاشوں کو لایا گیا ہے۔ ان میں سے 140 لاشوں کو لاوارث قرار دے کر ایدھی سینٹر کے مواچ گوٹھ قبرستان میں دفن کردیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق گشتہ ایک ہفتے کے دوران اب تک ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائی ڈریشن (پانی کی کمی) کے مرض میں مبتلہ 80 ہزار مریضوں کو کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں لایا جاچکا ہیں۔

واضح رہے کہ گرمی کا شکار ہو کر ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے مزدوروں کی ہے۔

گذشتہ روز ہیٹ اسٹروک کے باعث مزید 105 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری گرمی کی شدت میں جمعرات کے روز سے کافی کمی آئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں لائے جانے والے ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں جمعرات سے نمایاں طور پر کمی آئی، اس لیے کہ کراچی کا موسم ابرآلود ہوگیا ہے اور ہوائیں چل رہی ہیں، تاہم یہ گرمی کی شدت کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہا۔

ایک سرکاری عہدے دار نے بتایا ’’جمعرات کو کم از کم 90 افراد کی اموات کراچی میں اور 15 کی اموات سندھ کے دیگر اضلاع میں ہوئیں‘، ان میں حیدرآباد، ٹھٹّہ، مٹیاری اور بے نظیر آباد سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں ہفتے کے روز سے ایک ہزار چالیس افراد جبکہ سندھ کے دیگر حصوں میں 76 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت اور روزے نے خاص طور پر بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں کو ہیٹ اسٹروک کا شکار ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔

مردہ خانوں میں گنجائش ختم ہوجانے کی وجہ سے ہسپتالوں کے فرش پر میتوں کے بیگز رکھے ہوئے نظر آئے۔

سرکاری ہسپتالوں کے حکام نے شکایت کی کہ انہیں صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی خاص مدد نہیں کی گئی۔ جو کچھ بھی مدد ملی وہ عام لوگوں کی جانب سے تھی۔

ایک سرکاری ہسپتال کے عہدے دار نے بتایا ’’عوام دل کھول کر عطیات دے رہے ہیں اور انہوں نے ہمیں مریضوں کے لیے پانی کی بوتلوں سے لے کر دواؤں تک ہر چیز دی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’مریضوں کی عیادت کے لیے آنے والے سرکاری حکام اور سیاسی رہنماؤں کی بڑی تعداد فوٹو شوٹ کے لیے آرہی ہے۔‘‘

تبصرے (0) بند ہیں