ایان علی کی درخواست ضمانت پھر مسترد

29 جون 2015

ای میل

منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار سپر ماڈل ایان علی —۔فوٹو/ اے پی
منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار سپر ماڈل ایان علی —۔فوٹو/ اے پی

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ماڈل ایان علی کی درخواست ضمانت خارج کردی ہے۔

پیر کو لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس عبدالسمیع خان نے ماڈل ایان علی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران کسٹمز کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ایان علی کے پاس سے اسلام آباد ایئرپورٹ کی حدود میں ساڑھے 5 لاکھ ڈالر برآمد ہوئے، جنہیں وہ بیرون ملک اسمگل کرنا چاہتی تھیں، لہذا ملزمہ کی درخواست ضمانت خارج کی جائے۔

جبکہ ماڈل کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ان کی موکلہ ائیرپورٹ اپنے بھائی کو لینے گئی تھیں، اگر انھیں منی لانڈرنگ کرنا ہوتی تو وہ اتنی آسانی سے گرفتاری نہ دیتیں۔

گزشتہ سماعت کے دوران بھی وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کے روبرو اپنے دلائل میں کہا تھا کہ ایان علی نے بورڈنگ کارڈ حاصل کیا اور نہ ہی ان کے پاسپورٹ پر بیرون ملک ایگزٹ کی مہر لگی، ان کی موکلہ کو منی لانڈرنگ کے قوانین کا علم نہیں تھا جبکہ کسٹم حکام نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ایان علی کے خلاف منی لانڈرنگ کا بے بنیاد مقدمہ درج کررکھا ہے۔

وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر جسٹس عبدالسمیع خان نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، بعد ازاں ایان علی کی درخواست ضمانت خارج کردی گئی۔

مزید پڑھیں:ایان علی کی درخواست ضمانت خارج

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں راولپنڈی کی کسٹم عدالت نے ایان علی کی ضمانت کی درخواست خارج کردی تھی،جس کے بعد ماڈل نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت جمع کرائی۔

تاہم لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمود مقبول باجوہ نے کیس کی سماعت سے معذرت کرکے یہ کہہ کر معاملہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیا کہ جسٹس عبدالسمیع خان پر مشتمل ایپلٹ بینچ موجود ہے اس لیے مناسب یہی ہے کہ کیس کی سماعت ان کے پاس منتقل کر دی جائے۔

سپر ماڈل ایان علی کو رواں برس 14 مارچ کو اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دبئی جاتے ہوئے اُس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب دورانِ چیکنگ ان کے سامان میں سے 5 لاکھ امریکی ڈالر برآمد ہوئے تھے۔