ڈگری یافتہ یا تعلیم یافتہ؟

09 ستمبر 2015

Email


ہمارے فرسودہ تعلیمی نظام میں صرف رٹا لگا کر پوزیشن کے ساتھ ڈگری حاصل کرنے کو ہی قابلیت گردانا جاتا ہے۔ — Reuters/File
ہمارے فرسودہ تعلیمی نظام میں صرف رٹا لگا کر پوزیشن کے ساتھ ڈگری حاصل کرنے کو ہی قابلیت گردانا جاتا ہے۔ — Reuters/File

دنیائے اسلام میں پاکستان ایک ایسا ملک بن کر ابھر رہا ہے جس کے ہونہار طالب علم کبھی دنیا کے کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بن رہے ہیں اور کبھی اے اور او لیول کے امتحانات میں سب سے زیادہ اے گریڈ لے رہے ہیں۔ کبھی تندور پر روٹیاں لگانے والا جامعہ پنجاب کے بی اے کے امتحان میں اوّل آتا ہے تو کبھی کھیتی باڑی کرنے والا۔

کیا یہ تمام ریکارڈز بنانے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ نوجوان پیدا کر رہے ہیں؟ یا پھر طالب علم ڈگری یافتہ تو بن رہے ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ تعلیمی میدان میں تو ریکارڈ پر ریکارڈ بن رہے ہیں مگر عملی میدان میں یہ ریکارڈ بنانے والے ہونہار طالب علم کوئی بھی اہم معرکہ سر انجام دینے میں ناکام رہتے ہیں۔

کسی بھی امتحان کے نتائج آنے کے بعد ہمارا میڈیا پوزیشن ہولڈرز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ پوزیشن ہولڈر کے علاوہ گھر والوں اور حتیٰ کہ اس کے دوستوں کے انٹرویوز بھی نشر کیے جاتے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیاں بڑے بڑے بینرز اور اشتہارات کے ذریعے پوزیشن لینے والے طلبہ و طالبات کی تصویریں لگا کر اپنی تشہیر کرتے ہیں۔

پڑھیے: ذریعہ تعلیم کیا ہو؟

حکومت کی جانب سے بھی نقد انعامات کے علاوہ عمرہ کروانے کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ انعامات بانٹنے کی تقریب میں "معمولی تعلیم یافتہ" وزیر تعلیم پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے تقاریر کرتے ہیں۔

مگر کیا یہ پوزیشن ہولڈرز مختلف امتحانات میں نمایاں پوزیشنز لینے کے باوجود عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں؟

اس تصنیف کا مقصد کسی کا مذاق اڑانا نہیں بلکہ پاکستان میں رائج تعلیمی نظام کی افادیت اور اس کے فرسودہ پن کو آشکار کرنا ہے جس سے پڑھ کر میں بھی یہ تصنیف لکھنے کے قابل ہوا ہوں۔

اگر کاغذوں میں دیکھا جائے یا پھر حکومتی عہدیداروں کی تقریریں سنی جائیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں شرحِ خواندگی بڑھ رہی ہے اور ممکن ہے کہ یہ حقیقت بھی ہو۔ مگر موجودہ دور میں آج بھی ہم نے اخبار پڑھ لینے والے یا خط لکھ لینے والے کو خواندہ ہی مانا ہے۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بی اے کرنے والوں کو کیا صحیح معنوں میں گریجویٹ کہا جا سکتا ہے؟

حیران کن طور پر پچھلے کچھ سالوں سے جامعہ پنجاب کے بی اے کے امتحانات میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے کا تعلق نچلے متوسط طبقے سے ہوتا ہے۔ جس سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پڑھائی کے لیے دولت کا ہونا لازمی نہیں اور کوئی بھی مزدور یا فیکٹری میں کام کرنے والے کا بیٹا یا بیٹی محنت کے ذریعے نمایاں پوزیشن حاصل کرسکتا ہے۔

پڑھیے: وقت ضائع کرنے پر حاصل کریں ڈگری

مگر کیا وجہ ہے کہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں ہزاروں روپے دے کر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ان امتحانات میں پوزیشنز حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں؟

میرے نزدیک اس کی وجہ ہمارا فرسودہ تعلیمی نظام ہے جس میں رٹّا لگا کر پڑھنے والا تو پوزیشن حاصل کرسکتا ہے مگر کسی بھی تعلیمی ادارے میں دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والا نمایاں پوزیشن حاصل نہیں کرسکتا۔

تعلیم صرف یہ نہیں کہ امتحانات میں پوزیشن حاصل کر کے ڈگری لے لی جائے بلکہ تعلیم میں وہ ماحول بھی نمایاں رول ادا کرتا ہے جو کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں پایا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ہونے والی غیر نصابی سرگرمیاں نتائج پر تو نہیں مگر اسٹوڈنٹس کی شخصیت پر ضرور گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

اس کے علاوہ بی اے کے امتحانات میں پوزیشن لینے والے طالب علموں کے مضامین بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ جیسے کہ کچھ مضامین ایسے ہیں جن میں زیادہ نمبرز لینا قدرے آسان ہوتا ہے۔ جیسے کہ پنجابی، کشمیریات، عربی، اور فارسی۔

لیکن تعلیمی اداروں میں ان مضامین کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی اور اس کی وجہ یہ کہ ریگولر اسٹوڈنٹس معاشیات، شماریات اور سِوکس جیسے مضامین میں دلچسپی لیتے ہیں۔ جن کو استعمال کرتے ہوئے وہ عملی زندگی میں نوکریاں حاصل کرتے ہیں۔

2012 کے جامعہ پنجاب کے بے اے کے امتحانات میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے محسن علی کا کہنا تھا کہ اس نے 6 ماہ میں بی اے کی تیاری کر کے اوّل پوزیشن حاصل کی ہے۔

جانیے: کیا اصلی ڈگریاں جعلی ڈگریوں سے بہتر ہیں؟

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو اسٹوڈنٹ دو سال کسی ادارے میں پڑھتا ہے وہ بقیہ ڈیڑھ سال ضائع کرتا ہے کیونکہ اگر 6 ماہ میں پڑھ کر ہی اوّل پوزیشن حاصل کی جاسکتی ہے تو دو سال کالج یا یونیورسٹی جا کر ہزاروں روپے برباد کرنے کا کیا فائدہ؟

حالیہ آنے والی تعلیمی اداروں کی درجہ بندی میں جامعہ پنجاب کو پاکستان کی تیسری بہترین یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے اور حالیہ کچھ سالوں میں بی اے کے نتائج کو دیکھ کر جامعہ پنجاب کی افادیت کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔

اول پوزیشن حاصل کرنے والے یہی طلبہ جب کسی مشکل مضمون میں ماسٹرز کرتے ہیں تو بمشکل 3 سی جی پی اے لے پاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جو پوزیشن لینا ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے، اب اس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، کیونکہ عالمی معیار کی یونیورسٹیوں، یا پاکستان ہی کی بہتر یونیورسٹیوں میں پوزیشن دیکھ کر داخلہ نہیں دیا جاتا، بلکہ وہاں پر جدید تحقیق کی مدد سے داخلہ ٹیسٹ تیار کیے جاتے ہیں جن کو پاس کرنے کی قابلیت کم از کم ہماری یونیورسٹیوں سے تو نہیں مل سکتی۔ اور جاب سیکٹر میں تو ویسے بھی کوئی پوزیشن کو نہیں پوچھتا، وہاں صرف قابلیت دیکھی جاتی ہے۔

لہٰذا جہاں پوزیشن لینے والوں کی مدح سرائی اور نہ لے سکنے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، تو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ پوزیشن یا اے گریڈ کو ہی قابلیت کی واحد علامت کے طور پر نہ گردانا جائے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ جہاں مستحق اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اعلیٰ انعامات سے نوازے، وہیں ان کے ساتھ ساتھ ان دوسرے طلبہ کے لیے بھی مواقع اور وظائف مہیا کرے جو ہوتے تو ہونہار ہیں، لیکن پوزیشن لینے میں ناکام رہتے ہیں۔


متعلقہ مضامین

مِس امپورٹنٹ سوال بتا دیں!

کیا تعلیم کا مقصد صرف نوکری ہے؟

اعلیٰ تعلیم ایک منافع بخش کاروبار