کیا اصلی ڈگریاں جعلی ڈگریوں سے بہتر ہیں؟

اپ ڈیٹ 08 جون 2015

ای میل

وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بات کو سمجھ لیں کہ کچھ چیزوں کے ساتھ مزید نہیں کھیلا جا سکتا، اور تعلیم ان چیزوں میں سے ایک ہے۔ — تصویر ماہ رخ منصور
وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بات کو سمجھ لیں کہ کچھ چیزوں کے ساتھ مزید نہیں کھیلا جا سکتا، اور تعلیم ان چیزوں میں سے ایک ہے۔ — تصویر ماہ رخ منصور

پاکستان میں جعلی ڈگریوں کے کاروبار پر تحقیقات جاری ہیں۔ اب ایک اچھا موقع ہے کہ اس موضوع سے ہٹ کر ہمارے ملک میں تعلیم کی دگرگوں صورتحال پر بھی کچھ سوالات پوچھے جائیں۔

ہماری تعلیمی 'صنعت' میں بہرحال مشتبہ کام بڑھتے جا رہے ہیں، اور اس کی وجوہات پر تفتیش ہونی چاہیے۔ تعلیمی ماڈلز میں پاکستان کا نمبر دنیا بھر میں 133 واں ہے۔

غلطیاں یہاں پر ہوئیں:

خواندگی اور تعلیم میں فرق نہ کر پانا — زوال کی ابتداء

1990 کی دہائی کے وسط میں میڈیا اور سول سوسائٹی نے کم شرحِ خواندگی پر شدید تنقید کی۔ ہر کوئی کم شرحِ خواندگی پر تنقید کرتا، اور سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے پر زور دیتا نظر آتا تھا۔

جب حکومتیں اس مسئلے پر کام کرنے پر آمادہ ہوئیں، تو انہوں نے شرحِ خواندگی کا مطلب صرف خواندگی، یا پڑھنا لکھنا ہی سمجھا۔ لہٰذا پڑھے لکھے ہونے کا معیار اپنا نام لکھنا ٹھہرا، اور تمام وسائل کو صرف اس بنیادی معیار کے حصول پر صرف کیا جانے لگا، بجائے اس کے کہ اگلی نسلوں کو باقاعدہ تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔

پڑھیے: گوسڑو ماستر تعلیم کے لیے خطرہ

تعلیمی ماڈل کی توجہ بچوں کو اسکول بھیجنے پر تھی، لیکن ان کی تعلیم پر سمجھوتہ کر لیا گیا۔ تدریس کا معیار اب بھی ویسے کا ویسا ہی تھا لہٰذا معیارِ تعلیم بہتر ہونے کے بجائے خراب ہی ہوتا گیا۔

کوئی بھی یہ نہیں جانتا تھا کہ ہمارے قومی نصاب کا مقصد کیا ہے، اور اسکولوں اور کالجوں میں پڑھایا جانے والا مواد کس طرح اس مقصد کے حصول میں مددگار ہے، اگر کوئی مقصد ہے تو۔ مختلف موضوعات اکٹھے کر کے انہیں مضامین کا نام دے دیا گیا، بغیر یہ تحقیق کیے کہ ان کا بچوں کے ذہنوں پر کیا اثر ہوگا۔

اب ہر حکومت کو یہ دعویٰ کرنا آسان لگنے لگا، کہ "ہمارے دورِ حکومت میں شرحِ خواندگی میں اضافہ ہوا ہے۔"

خواندگی کی طلب، اور ڈگریوں کی رسد

اس معاملے میں اصلی ڈگریاں بھی اتنی ہی ناکارہ تھیں جتنی کہ جعلی۔ طلباء کی ایک زبردست تعداد نے نئی تعلیمی صنعت کو ایندھن فراہم کیا۔ یہ نئی تعلیمی صنعت ڈگری دینے والے ادارے تھے، جو تعلیم و تحقیق کے بجائے صرف امتحان پاس کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

بورڈ کے امتحانات کے لیے گیس پیپر اب تک دستیاب ہیں۔ امتحانات سے ایک یا دو دن پہلے ملنے والے ان پیپرز کے لیے طلباء اور والدین ہمیشہ ہی شدت سے منتظر رہتے ہیں۔ یہ امکانی پیپرز ہوتے ہیں کہ امتحان میں کون سے سوالات آسکتے ہیں۔

سال گزرنے کے ساتھ ساتھ گیس پیپرز نے کتابوں کی جگہ لے لی ہے، اور اس ذہنیت کو تقویت ملی ہے کہ یہی وہ شارٹ کٹ ہے جس کی زندگی میں کامیابی کے لیے ضرورت ہے۔

سادہ لفظوں میں کہیں تو رسد طلب پوری کر رہی تھی، بھلے ہی غلط طریقے سے، لیکن کسی کو پرواہ نہیں تھی۔

پڑھیے: اعلیٰ تعلیم ایک منافع بخش کاروبار

طرح طرح کے نظام

سرکاری نظامِ تعلیم کی ناکامی پر نجی نظامِ تعلیم سامنے آیا، اور خدا ہی جانتا ہے کہ اس کے آج کتنے سسٹم موجود ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں طرح طرح کے مختلف نصاب ایک ہی ساتھ چل رہے ہوں، وہاں اور کیا امید کی جا سکتی ہے؟

سرکاری شعبے میں ہمارے پاس شہر شہر امتحانی بورڈز ہیں اور ایک فیڈرل بورڈ ہے۔ سرکاری شعبے میں مختلف اقسام کے اسکول موجود ہیں۔ پرائیوٹ سیکٹر میں ہمارے پاس اے، بی، سی کیٹیگریز موجود ہیں، اور حال ہی میں ڈی کیٹیگری بھی سامنے آرہی ہے جس میں مدرسے اور لبرل تعلیمی نظام کا امتزاج ہے۔

غیر مصدقہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کا ڈگریاں 'بانٹنا' ایک الگ ہی موضوع ہے، اور انہیں روکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔

اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں

اگر آپ ہمارے خود ساختہ اسکالرز کا جائزہ لیں، تو آپ پر حقیقت آشکار ہوجائے گی۔ ایک وقت تھا جب بیچلرز کی ڈگری رکھتے ہوئے بھی وہ اپنے سبجیکٹ کے ماہر کہلواتے تھے، لیکن اب پی ایچ ڈی رکھنے والوں کو بھی اپنے سبجیکٹ کی بنیادی باتیں نہیں معلوم ہوتیں۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کئی ایسے پی ایچ ڈی اسکالرز کے خلاف ایکشن لیا، جو سرکاری یونیورسٹیوں میں پروفیسر ہیں، لیکن تحقیق کے لیے مواد نقل کرتے ہیں، تحقیق کے لیے جھوٹے ڈیٹا کا سہارا لیتے ہیں، یعنی تعلیمی بے ایمانی یا intellectual dishonesty میں ملوث ہیں۔

تعلیم نے یوں اپنا تقدس کھو دیا ہے، جس کی وجہ سے تباہی یقینی ہے۔

حتمی بات

ریاست کے ہر نئے کرپٹ چہرے، اور ہمارے تباہ ہوتے تعلیمی نظام کے درمیان ایک کنکشن موجود ہے۔ ایک اخلاقیات کی ناکامی کی وجہ ہے، اور ایک اس کی علامت۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بات کو سمجھ لیں کہ کچھ چیزوں کے ساتھ مزید نہیں کھیلا جا سکتا، اور تعلیم ان چیزوں میں سے ایک ہے۔

ایک بے مقصد تعلیمی ماڈل دہشتگردی سے زیادہ نقصاندہ ہو سکتا ہے۔ حکام کو ایک بحث کا آغاز کرنا چاہیے، تاکہ ہمارے پاس موجود طرح طرح کے نصابوں کی بنیادوں پر اتفاق کیا جا سکے۔ ہمیں اخلاقیات اور ایمانداری کی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے، نا کہ شارٹ کٹس اور استحصال کی تعلیم پر۔

وہی قومیں ترقی کرتی ہیں، جو مسائل کی جڑ پر توجہ دیتی ہیں، جبکہ جنونی لوگ 'سب اچھا ہے' کی وجہ سے مارے جاتے ہیں، کیونکہ انہیں اپنی لاعلمی سے محبت ہوتی ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔