میانمار: تودہ گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد

23 نومبر 2015

ای میل

خیال کیا جارہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد قریب واقع پتھروں کی کام کرنے والے مزدوروں کی تھی  — فوٹو: اے ایف پی
خیال کیا جارہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد قریب واقع پتھروں کی کام کرنے والے مزدوروں کی تھی — فوٹو: اے ایف پی

ینگون: میانمار میں قیمتی پتھروں کی کان کے قریب مٹی کا تودہ گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100 سے زائد ہوگئی ہے، جبکہ اب بھی کئی افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے سرکاری اخبار گلوبل نیو لائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ میانمار اور چین کی سرحدی ریاست کاچن کے علاقے ہپاکانت میں گرنے والے تودے کے ملبے سے اب تک 104 لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔

خیال کیا جارہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد قریب واقع پتھروں کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں کی تھی تاہم حکام کی جانب سے ابھی اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ میانمار کو زیورات میں استعمال ہونے والے قیمتی پتھر ’فیروزہ‘ کے حوالے دنیا بھر میں اہمیت حاصل ہے۔

میانمار میں پائے جانے والے اعلیٰ قسم کے فیروزہ پتھر سے ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

میانمار سے فیروزہ پتھر زیادہ تر چین میں برآمد اور اسمگل کیے جاتے ہیں جہاں انہیں مقدس مانا جاتا ہے اور اسے ’اسٹون آف ہیون‘ (جنت کا پتھر) بھی کہا جاتا ہے۔

ایڈووکیسی گروپ گلوبل وٹنس کی اکتوبر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال میانمار سے 31 ارب ڈالر مالیت کے قیمتی پتھر برآمد کیے گئے۔

تاہم ٹھوس حفاظتی اقدامات نہ اٹھائے جانے کی وجہ سے پتھروں کی کانوں میں اکثر حادثات و واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔