غیرت کے نام پر قتل: 2 بھائیوں کو سزائے موت

اپ ڈیٹ 29 فروری 2016

ای میل

لاہور: صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ایک مقامی عدالت نے سگی بہن اور بہنوئی کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے 2 بھائیوں کو 2,2 مرتبہ سزائے موت کا حکم دے دیا۔

احسن بٹ اور ذیشان بٹ نے 2009 میں اپنی سگی بہن صبا اور اس کے شوہر شفیق کو محبت کی شادی کرنے پر قتل کردیا تھا۔

صبا اور ان کے شوہر شفیق کے قتل کا مقدمہ تھانہ یکی گیٹ میں درج کیا گیا تھا۔

لاہور میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نوید اقبال نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے دونوں بھائیوں کا جرم ثابت ہونے پر 2,2 مرتبہ سزائے موت اور 10,10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

پاکستان میں ہر سال غیرت کے نام پر ایک ہزار سے زائد خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایسا اکثر خاندان کے افراد کی جانب سے ہوتا ہے۔

معروف پاکستانی فلمساز شرمین عبید چنائے بھی غیرت کے نام پر قتل جیسی لعنت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور اسی سلسلے میں ان کی ڈاکیومیٹری 'اے گرل ان دی ریور: دی پرائس آف فورگیونس' پر انھیں آسکر ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔

'اے گرل ان دی ریور' شرمین عبید چنائے فلمز اور ہوم باکس آفس (ایچ بی او) کی مشترکہ پروڈکشن ہے، جس میں ایک 18 سالہ لڑکی کی زندگی کا احوال بیان کیا گیا جو عزت کے نام پر قتل کی کوشش میں بچ جاتی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کا بھی اس سے قبل کہنا تھا کہ اسلام میں غیرت کے نام پر قتل کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور حکومت ایسے ظالمانہ اقدام کو روکنے کے لئے قانون سازی کررہی ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق 2015 میں 500 مرد و خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔