پاناما لیکس: صرف وزیراعظم کے خاندان کے احتساب کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2017

ای میل

اسلام آباد: قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے پاناما لیکس پر بننے والے کمیشن سے صرف وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے احتساب کا مطالبہ کردیا۔

ڈان نیوز کے مطابق سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ 1947 سے کرپشن کی تحقیقات کسی صورت قبول نہیں۔

مزید پڑھیں: جلسوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، عمران خان

خورشید شاہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے—ڈان نیوز۔
خورشید شاہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے—ڈان نیوز۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ملک کے سربراہ ہیں، اسی لئے تحقیقات کا آغاز ان سے ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا وزیراعظم کے خاندان پر الزامات کی وضاحت کیلئے عوام کے پیسوں سے اشتہاری مہم پر بھی تشویش ہے۔

'حکومت کی جانب سے 10 کروڑ روپے کے اشتہارات چلانا غیر ضروری تھا'

یہ بھی پڑھیں: 'دھرنوں کی نہیں، ترقی کی سیاست کرتے ہیں'

ادھر لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ لاکھوں کروڑوں ڈالر بوریوں اور ڈبوں میں بند ہوکر تو بیرون ملک نہیں گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کے بجائے جلسوں کیلئے نکل گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان کا وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ

دوسری جانب اسلام آباد میں میڈیاسے گفتگومیں پاکستان عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات عمر ریاض عباسی نے کہاکہ پاناما پیپرز پر چیف جسٹس ازخود نوٹس لیں ۔

عوامی تحریک نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔

پاناما لیکس

رواں ماہ کے آغاز میں آف شور ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے مالی معاملات عیاں ہو گئے۔

آف شور اکاؤنٹس کیا ہوتے ہیں؟

- کسی بھی دوسرے ملک میں آف شور بینک اکاؤنٹس اور دیگر مالیاتی لین دین کے نگران اداروں سے یا ٹیکس سے بچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

- کمپنیاں یا شخصیات اس کے لیے عموماً شیل کمپنیوں کا استعمال کرتی ہیں جس کا مقصد اصل مالکان کے ناموں اور اس میں استعمال فنڈز کو چھپانا ہوتا ہے۔

ان دستاویزات میں روس کے صدر ولادیمیر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا، آئس لینڈ کے وزیر اعظم اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

پاناما پیپرز کی جانب سے International Consortium of Investigative Journalists کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے اس ڈیٹا میں وزیراعظم نواز شریف کے اہل خانہ کی آف شور ہولڈنگز کا ذکر بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاناما لیکس:وزیراعظم کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان

ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، وزیراعظم کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔

موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی اس معلومات کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا گیا ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔