سندھ شدید بیمار ہے سائیں

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2016

ای میل

آٹھ سالوں سے حکومت میں ہونے کے بعد اب پیپلز پارٹی کو سندھ کا شعبہ صحت ٹھیک کرنے کے لیے اور کتنا وقت درکار ہے؟ — اے ایف پی/فائل
آٹھ سالوں سے حکومت میں ہونے کے بعد اب پیپلز پارٹی کو سندھ کا شعبہ صحت ٹھیک کرنے کے لیے اور کتنا وقت درکار ہے؟ — اے ایف پی/فائل

صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مسلسل آٹھ برس طویل دور اقتدار میں اس صوبے میں جو ترقی ہوئی ہے، وہ صوبے کے بنیادی ڈھانچے کی خستہ حالی اور عوام تک تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی سے صاف واضح ہے۔

دوسرے شعبہ جات کو چھوڑیے، واحد شعبہء صحت کی حالت دیکھ لیجیے۔ صحت کی بہتر سہولیات کا فقدان صرف تھر میں ہی نہیں، بلکہ سندھ کے دیگر اضلاع کے بڑے ہسپتالوں کی حالت زار عوام تک معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں شعبہء صحت کا کردار بتا رہی ہے۔

اس کی ایک مثال گزشتہ ماہ صوبہ سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر کے ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ رکھنے والے سول ہسپتال سکھر میں دیکھنے کو ملی جہاں ڈاکٹروں کی غفلت اور بچوں کے وارڈ میں انکیوبیٹر خراب ہونے کی وجہ سے ایک ہی دن میں 6 بچے فوت ہو گئے۔

اسی طرح بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری رہا اور ہفتے کے اندر تعداد 11 تک پہنچ گئی۔

بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ بچوں کے وارڈ میں ایک تو انکیوبیٹر خراب تھا اور دوسرا بستروں کی بھی شدید کمی تھی۔

ہمارے ملک میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے مختلف مسائل کا حل نہیں ڈھونڈا جاتا، بلکہ پراجیکٹس کی دوڑ میں ادارے قائم کر دیے جاتے ہیں۔ باقی اس سے پھر کوئی سروکار نہیں کہ جس علاقے میں ادارہ قائم کیا جا رہا ہے، وہاں آبادی کتنی ہے اور کیا ادارہ اتنے لوگوں کا بوجھ اٹھا بھی پائے گا یا نہیں؟

پڑھیے: علاج اچھا، پر غریب کے لیے نہیں

یہی حال سکھر سول ہسپتال کا بھی ہے۔ ہسپتال میں اس قدر بستروں کی کمی ہے کہ ایک مقامی اخبار کے مطابق ہسپتال میں ایک بستر پر دو بچوں کو داخل کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً علاج تو دور مسائل اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔

سکھر ہسپتال کی ایسی صورتحال کے باوجود حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی فوراً نوٹس لینے کے بجائے اس پورے معاملے پر یہ مؤقف پیش کر رہی ہے کہ ہسپتال کی حالت پہلے سے کافی زیادہ خراب ہے جسے ٹھیک کرنے میں وقت درکار ہے۔

حد تو یہ ہے کہ آج تک سندھ میں ایک سرکاری ریسکیو سروس بھی نہیں ہے، حالانکہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں ایسی سروس موجود ہے۔ سندھ کے عوام ایدھی، چھیپا اور دیگر مقامی تنظیموں کی فلاحی ایمبولینسوں کے ہی منتظر رہتے ہیں جو کہ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بہرحال کم ہیں۔

میں پیپلز پارٹی کے نمائندگان سے پوچھتا ہوں کہ آپ اب تک آپ کیا کر رہے تھے؟ آپ کتنی بار صوبائی راج پر تخت نشین ہوئے ہیں؟ آپ کو اور کتنا وقت درکار ہے؟

صحرا کی کہانی تو شہروں سے بھی درد بھری ہے، جہاں بچوں کی اموات کا سلسلہ نہ جانے کب سے جاری ہے۔ کچھ دن پہلے مزید تین بچوں کی موت واقع ہوئی۔ گزشتہ 7 سے 8 مہینوں میں سینکڑوں بجے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھ چکے ہیں۔

سندھ میں کروڑوں روپے کے بجٹ سے چلنے والے سرکاری ہسپتال طبی عملے اور زیادہ تر ڈاکٹروں کی غیر حاضری، اور ادویات و دیگر ضروری سہولیات کی شدید کمی کا شکار ہیں۔

جہاں ضلعی سطح کے ہسپتالوں کا یہ حال ہو وہاں تعلقہ سطح کے ہسپتالوں کی حالت کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کچھ تعلقہ ہسپتال سوائے ایک سرکاری عمارت کے اور کچھ بھی نہیں ہیں۔

ہسپتالوں کے حوالے سے اقدامات کا تو پتہ نہیں البتہ دوروں کا دور دورہ رہتا ہے۔ وزیر صحت اور دیگر رہنما ہسپتالوں کا دورہ کرتے ہیں، ہدایات جاری ہوتی ہیں، میڈیا سے گفتگو ہوتی ہیں مگر سلسلہ جوں کا توں جاری رہتا ہے۔

کچھ دن پہلے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے سکھر کے سرکاری ہسپتال کا اچانک دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران ہسپتال کی ناقص حالت کے مناظر ٹی وی چینلز پر نشر بھی ہوئے۔ مگر انہوں نے بجائے حکومت کی غلطی تسلیم کرنے کے وہی باتیں دہرائیں جو ہمیشہ سے دہرائی جاتی رہی ہیں، یعنی وقت لگے گا، ایسا کچھ نہیں ہے، اخباری اطلاعات غلط ہیں، وغیرہ۔

پڑھیے: معذوری کی وجہ: ڈاکٹروں کی غفلت

ہمارے پاس سیاست کا ایک کلچر ہے جو شاید دنیا میں اور کہیں نہیں پایا جاتا، اور تقریباً تمام سیاستدان اس کلچر کا حصہ ہیں۔ اس کلچر میں جوشیلے خطاب، پرانے وقتوں کے رہنماؤں کی شخصیت کو کیش کرنا، لسانی اور صوبائی منجن بیچنا، اگر وفاق میں کسی دوسری جماعت کی حکومت ہے تو اپنی ہر غلطی وفاقی حکومت پر ڈال دینا، اور دیگر غیر ضروری اور لایعنی بنیادوں پر اپنی سیاست چمکانا ہے۔

یہی حال سندھ حکومت کا بھی ہے جو گذشتہ آٹھ سالوں سے حکومت میں ہونے کے باوجود نظامِ صحت میں اصلاحات لانے میں ناکام رہی ہے اور جب بھی اس جانب ان کی توجہ دلائی جائے تو وہی پرانے دکھڑے، وفاقی حکومت پر الزامات، مارشل لاؤں کو موردِ الزام ٹھہرانا، اور اپنی کوتاہیوں سے صرفِ نظر کرنا۔

صحت کی سہولیات کی فراہمی کسی بھی ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتی ہے اور ریاست کی جانب سے بہتر صحت کا حصول ہر ایک شہری کا حق بھی ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمارا ملک عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق صحت کے شعبے میں سالانہ اپنی جی ڈی پی کا 2 اعشاریہ 8 فیصد حصہ خرچ کرتا ہے۔ یہ رقم نہ تو بطور ترقی پذیر ممالک کے کم ہے، بلکہ بیشتر جنوبی ایشیائی ممالک سے بھی کم ہے۔

پر اگر یہ 2.8 فیصد بھی صحیح سے استعمال ہوجائے تو کیا بات ہے۔ سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکز کا حال دیکھ کر یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ اگر حکومت پیسہ جاری کر بھی دے، تو بھی وہ درست جگہ استعمال نہیں ہوتا۔

سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں، اور گاؤں گوٹھوں میں رہنے والی آبادی غیر متوازن غذا، ماحولیاتی آلودگی اور وبائی بیماریوں کا شکار ہو کر جب سرکاری ہسپتال کا رخ کرتی ہے تو صحت کے ناقص انتظام ان کی مشکلات میں اضافے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے۔

قائم علی شاہ صاحب کے بعد سندھ میں وزارت اعلیٰ کے منصب پر اب ایک نئے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ براجمان ہوئے۔ لیکن جب میں نے ان کے اپنے انتخابی حلقے واقعہ بھان سید آباد کے ہسپتال کی حالت معلوم کی تو مجھے کافی افسوس ہوا کہ وہاں ڈاکٹر اور عملہ نہیں ہے اور لوگ صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔

پڑھیے: اگر کچھ بچے مر گئے تو کیا ہوا؟

میڈیا اطلاعات کے مطابق ہسپتال کے سابق ایم ایس کے تبادلے کے بعد ہسپتال میں علاج معالجہ تعطل کا شکار ہے۔ وہاں 15 ڈاکٹرز کی جگہ صرف دو ڈاکٹرز کو مقرر کیا گیا ہے مگر وہ بھی ہمیشہ اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتے ہیں۔

دوسری جانب ضلع دادو کے سول ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی کے باوجود سیکریٹری صحت نے سات ڈاکٹرز کا وہاں سے تبادلہ کر دیا ہے۔ اس طرح وہاں ڈاکٹرز کی شدید کمی ہو گئی ہے۔

ایک خبر کے مطابق سول ہسپتال میں ایک بھی سرجن یا فزیشن موجود نہیں ہے۔ جبکہ بچوں کے ڈاکٹر سمیت دماغ اور ناک کا بھی ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔

اگر ایسا حال وزیر اعلیٰ سندھ کے اپنے علاقے کا ہے تو باقی علاقوں کا حال کیا پوچھنا؟

نئے وزیرِ اعلیٰ سندھ سے صوبے بھر کے عوام تبدیلیوں کی امید لگا بیٹھے ہیں۔ امید ہے کہ وزیر اعلیٰ بھلے ہی اپنے حلقے سے شروع کریں مگر صوبے میں صحت اور ہسپتالوں کی بہتری کے لیے انقلابی و عملی اقدامات اٹھائیں گے۔

کم از کم آٹھ سالوں کے بعد تو 'مزید وقت چاہیے' کی گردان ختم ہونی چاہیے۔