لاہور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے 30 ستمبر کو رائے ونڈ کی جانب مارچ کا اعلان کردیا۔

اتوار کو اسلام آباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ رائے ونڈ مارچ کی تیاریاں 24 ستمبر سے شروع ہوں گی، ہم پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ 30 ستمبر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہوگا، جو اسے روکنے کی کوشش کرے گا اسے بڑی مار پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک راستہ کرپشن پر خاموشی اور دوسرا راستہ نیا پاکستان بنانے کا راستہ ہے، اور ہم نے اس کا انتخاب کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹس کو ہمیں سبق پڑھاتا ہے کہ چپ ہو کر بیٹھ جائیں اور 2018 کے انتخابات کا انتظار کریں، اور یہ اداروں کو تباہ کرکے ملک کو لوٹتے رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک قانون عام عوام کے لیے ہے جبکہ بڑے لوگوں کے لیے علیحدہ قانون ہو، جبکہ ملک کا سب سے کرپٹ ترین شخص ملک کا وزیر اعظم بن جائیں، اور نہ صرف وہ بلکہ ان کا خاندان اور وزیر بھی ملک کے خزانے کو لوٹتے رہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ جب ہم سپریم کورٹ جائیں، تو رجسٹرار کہیں کہ پاناما لیکس پر آپ کی درخواست مضحکہ خیز ہے، جب پارلیمان میں اس پر بات کریں تو کہا جائے کہ جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، جبکہ شوکت خانم اور نمل میں کرپشن کی باتیں ہونے لگتی ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین کے مطابق عوام کا مینڈیٹ چوری ہوا مگر چیف الیکشن کمشنر نے کسی کو سزا نہیں، ہمیں اس الیکشن کمیشن سے کوئی امید نہیں، جبکہ پاناما پیپرز کے انکشافات پر نیب نے نواز شریف کو نوٹس کیوں جاری نہیں کیا۔

عمران خان نے وزیراعظم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو معلوم ہے کہ اگلا الیکشن ہارے تو جیل میں ہوں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 6 ستمبر کو کراچی میں جلسے کے دوران عمران خان نے 24 ستمبر کو رائیونڈ کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملانے کے لیے اس تاریخ میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا۔

اس سے قبل 4 ستمبر کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کو کرپشن کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے،انہوں نے پاناما لیکس پر وزیر اعظم سے چار سوالوں کےجواب بھی طلب کیے۔

مزید پڑھیں : عید کے بعد رخ رائے ونڈ کی طرف ہوگا، عمران خان

انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ لندن میں خریدی گئی جائیداد کے دستاویز دکھائیں، یہ بتائیں کہ فلیٹس خریدنے کیلئے اربوں روپے کہاں سے آئے، یہ پیسے بیرون ملک کیسے گئے اور کیا اس پر ٹیکس ادا کیا گیا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں