عمران خان کا 24 ستمبر کو رائے ونڈ مارچ کا اعلان

اپ ڈیٹ 06 ستمبر 2016

ای میل

کراچی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کراچی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 24 ستمبر کو رائے ونڈ مارچ کا اعلان کردیا۔

کراچی کے نشتر پارک میں پی ٹی آئی کے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پوری قوم کو مل کر وزیراعظم نواز شریف سے کرپشن پر جواب لینا ہوگا اورساتھ ہی تجویز بھی دی کہ کرپشن ٹھیک کرنے کیلئے پہلے اداروں کو ٹھیک کرنا ہوگا۔

پی ٹی آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ متحدہ بانی کی اشتعال انگیزی کے بعد انھوں نے کراچی جلسے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے کراچی کو پاکستان کا معاشی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'کراچی والوں کو بتانے آیا ہوں کے آپ اکیلے نہیں ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں 20 سے 25 سال پہلے خوف طاری کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'ماضی میں عمران خان متحدہ سے این او سی لے کر جلسہ کرتے تھے'

انھوں نے الطاف حسین پر عظیم طارق کے قتل کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 1985 میں بانی متحدہ نے کراچی میں ظلم وستم کا آغاز کیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر کراچی کے مستقبل کا فیصلہ کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی والوں کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ کتنے محب وطن ہیں، 'مہاجروں کو اپنی محب وطنی کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں'۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے جان قربان کرنے والوں کو اس کی قدر ہے، 'مہاجروں کے حقوق کیلئے ساتھ کھڑا رہوں گا'۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے اعلان کیا کہ '24 ستمبر کو پورے ملک سے لوگوں کو رائے ونڈ لے کرآؤں گا'۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے ہماری پٹیشن کو غیر سنجیدہ قرار دے کر خارج کیا، اگر سپریم کورٹ انصاف نہیں دے گی تو سڑکوں پر نکلنے کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں رہ جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: رائے ونڈ پر حملہ کرنے نہیں احتجاج کیلئے جارہے ہیں، جہانگیر ترین

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے کراچی میں جلسے سے قبل مسلم لیگ نواز کے رہنما طلال چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان ماضی میں کراچی میں جلسہ کرنے کیلئے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے این او سی لیتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے پی ٹی آئی کو کراچی میں جلسے کی اجازت دیئے جانے کے باعث عمران خان مذکورہ جلسوں میں متحدہ کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے تھے۔

طلال چوہدری نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی آج ایم کیو ایم کے خلاف کسی بھی قسم کی بات کرنے سے پہلے ان سوالات کا جواب ضرور دیں کہ 2012 میں دونوں جماعتوں میں ٹیلی فونک رابطوں کے علاوہ اور کیا جوڑ توڑ ہوا تھا۔

مسلم لیگ کےرہنما نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جب پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں دھرنا دینا تھا تو اس وقت ایم کیو ایم نے حکومت کو ضمانت دے کر عمران خان کو دھرنے کیلئے این او سی دلوائی تھی۔

واضح رہے کہ عمران خان نے کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری کے سوالوں کے جواب تو نہ دیئے تاہم حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: عید کے بعد رخ رائے ونڈ کی طرف ہوگا، عمران خان

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے 4 سمتبر کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران دو ٹوک الفاظ میں کہہ تھا کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کو کرپشن کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے،انہوں نے پاناما لیکس پر وزیر اعظم سے چار سوالوں کےجواب بھی طلب کیے۔

انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ لندن میں خریدی گئی جائیداد کے دستاویز دکھائیں، یہ بتائیں کہ فلیٹس خریدنے کیلئے اربوں روپے کہاں سے آئے، یہ پیسے بیرون ملک کیسے گئے اور کیا اس پر ٹیکس ادا کیا گیا۔

عمران خان کے اس مطالبے پر مسلم لیگ نواز کے سینیٹر مشاہد اللہ خان پی ٹی آئی چیئرمین کو کرپٹ قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ان سوالوں کے جواب دینا ضروری نہیں۔