پاناما،بہاماس لیکس میں شامل افراد کی معلومات لینے کی ہدایت

ای میل

اسحٰق ڈار اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں — فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی
اسحٰق ڈار اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں — فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی

وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیکس ہیونز سے پاناما اور بہاماس لیکس میں شامل افراد سے متعلق معلومات لینے کی ہدایت کردی۔

پاناما اور بہاماس لیکس پر ایف بی آر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی کارروائی کے حوالے سے اسلام آباد میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت جائزہ اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وزارت خزانہ، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے سینئر آفیشلز کے علاوہ وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے ریونیو ہارون اختر بھی موجود تھے۔

وزیر خزانہ نے ایف بی آر کے چیئرمین کو ہدایت کی وہ پاناما اور بہاماس لیکس میں شامل افراد سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے وزارت خارجہ کے ذریعے 9 ٹیکس ہیونز سے معلومات حاصل کریں، تاہم اضافی معلومات حاصل کرنے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما کے بعد بہاماس لیکس: مزید 150 پاکستانیوں کے نام افشاء

ان ٹیکس ہیونز میں پاناما اور بہاماس کے علاوہ برٹش ورجن آئلینڈ، سیشیلے، نیو، سمووا، اینگوئلا، موریشس اور جرسی شامل ہیں۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاناما اور بہاماس لیکس میں جن افراد کے نام آئے انہیں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 176 کے تحت نوٹسز جاری کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس میں 444 افراد اور 270 کمپنیوں کے نام سامنے آئے، بہاماس لیکس میں 150 پاکستانیوں کے نام سامنے آئے جن میں سے 110 افراد کو ٹریس کرلیا گیا ہے جبکہ 40 افراد کے پتوں کو ٹریک کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جاری کیے نوٹسز پر 133 افراد اور کمپنیوں نے جواب داخل کرادیا، جبکہ جن افراد اور کمپنیوں نے نوٹس کا جواب نہیں دیا انہیں جرمانے کے قانونی نوٹس بھیجے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: شریف خاندان کی 'آف شور' کمپنیوں کا انکشاف

واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں پاناما لیکس میں 400 سے زائد پاکستانیوں کی خفیہ آف شور کمپنیوں کا انکشاف کیا گیا تھا، جس میں شریف خاندان کے افراد کے علاوہ کئی دیگر سیاستدانوں کے نام بھی شامل تھے، تاہم اس حوالے سے تاحال جامع تحقیقات شروع نہیں ہوسکی۔

پاناما کے بعد گزشتہ ماہ بہاماس لیکس بھی منظر عام پر آئے تھے جن میں مزید 150 پاکستانی شہریوں کے نام شامل ہیں جن کی بہاماس میں آفشور کمپنیاں ہیں۔