2016 میں پاکستان کی کئی نامور شخصیات نے شادی کرکے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا، ان میں سے کئی کی شادیوں پر خبریں بھی ذرائع ابلاغ کی شہہ سرخیوں کا حصہ بنیں لیکن 2 ایسی شادیاں تھیں، جو سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنیں۔

میڈیا کی زیادہ توجہ حاصل کرنے والی پہلی شادی اداکارہ عروہ حسین اور فرحان سعید کی تھی، اس شادی میں پورے پاکستان کی تمام مقبول شخصیات نے شرکت کی، نہایت شاندار اور مہنگے ملبوسات کی رونمائی کی گئی، ڈانس سے شادی کی رونق میں مزید اضافہ کیا گیا، اس شادی میں متعدد ڈھولکیاں رکھ کر تقریبات کو یادگار بنانے کی کوشش کی گئی، سوشل میڈیا کو تصاویر سے بھر دیا گیا، دلہا اور دلہن کے عروسی جوڑے مہنگے ترین ڈیزائنرز نے بنائے اور نہ جانے کیا کیا، جس کا میں اور آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔

دوسری شادی اداکارہ یاسرہ رضوی اور عبدالہادی کی تھی، جسے نہایت سادگی سے منعقد کیا گیا، لڑکے اور لڑکی کے درمیان عمر کے بڑے فرق کو مسئلہ نہیں بنایا گیا، شادی کی تقریبات بہت زیادہ دھوم دھام سے نہیں رکھی گئیں، دلہن نے نہایت سادہ عروسی ملبوسات پہنے، میڈیا کے ہر جگہ پہنچ جانے والے کیمروں کی دخل اندازی بھی کم ہی دیکھنے میں آئی، جبکہ اس میں مقبول شخصیات بھی نظر نہ آئیں، سب سے اہم بات دلہن نے شوہر سے حق مہر میں فجر کی نماز کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔

اب یہ دونوں شادیاں پاکستان کی نامور اداکاراوں کی تھی، دونوں ہی ایک دوسرے سے بلکل برعکس ہیں، تاہم ہم یہاں غلط اور صحیح پر بات نہیں کر رہے، کیوں کہ انسان اپنی زندگی میں محنت کرتا ہے، تو یہ اس کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی شادی کس طرح کرے، اسے اپنے گھر والوں اور اپنے لیے کیسے یادگار بنائے، یہ اس کا اپنا ذاتی معاملہ ہے۔

مزید پڑھیں: عروہ اور فرحان کی شادی بری نظیر کیوں؟

دوسری جانب اگر کوئی اپنی شادی سادگی سے کرنے اور حق مہر میں نماز فجر کی ادائیگی کا مطالبہ کرے تو اس کا بھی یہ اپنا مسئلہ ہے، اس نے مجھے یا آپ کو تنقید کرنے یا تبصرہ کرنے کا حق نہیں دیا۔

لیکن ایک پاکستانی ہونے کے باعث میرا سوال اس پاکستانی عوام سے ہی ہے، کہ آخر ہم کس حال میں خوش ہیں؟ آخر کیا ہے، جسے دیکھ کر ہم کہیں کہ ہاں یہ ٹھیک ہے، یا یہی ہونا چاہیے تھا، پہلی بات تو یہ کہ ہم ہوتے کون ہے یہ فیصلہ کرنے والے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، اور جب بات ہماری اپنی زندگی کی آتی ہے تو ہم کس کی سنتے ہیں؟

اصل میں ہم پاکستانیوں نے کیا کیا؟، ہم نے دو شادیوں کو بحث کا موضوع بنایا، پہلے ہم نے عروہ اور فرحان پر اس لیے تنقید کی کہ انہوں نے اپنی شادی میں مہنگے عروسی ملبوسات پہنے، بہت ساری عالیشان تقریبات منعقد کیں جس کو میڈیا کی بھر پور توجہ بھی ملی، اور یہ سب دیکھنے کے بعد خوشی کے اس موقع پر دولہا دلہن اور ان کے خاندان پر خود نمائی کے ساتھ ساتھ غلط تاثر پھیلانے کا الزام دھر دیا۔

دوسری جانب جب اداکارہ یاسرا نے اپنی شادی نہایت کم خرچ میں کرنے کا ارادہ کیا، حق مہر میں نماز فجر کی ادائیگی کا مطالبہ رکھا،اور عمر کے طویل فرق کو معمہ بننے نہیں دیا، تو ہم نے ان کو بھی نہیں بخشا، تنقید کی کہ حق مہر میں ایسا مطالبہ کرنا مناسب نہیں، آخر ہم ہیں کون؟، ہم کیوں تیار بیٹھے رہتے ہیں کہ کب کوئی کسی قدم کے لیے آگے بڑھے اور ہم کی بورڈ پر انگلیاں چلانا شروع کردیں، کیونکہ ہم دوسروں پر الزامات اور تنقید کی بوچھاڑ فرض سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 10 سال چھوٹے شوہر سے نماز فجر کے مطالبے پر تنقید

کیا ہم نے خود کو دیکھا ہے؟ ہم اپنی زندگی میں کتنے اچھے عمل کرلیتے ہیں؟ ہم خود اپنے گھر کی تقریبات کس طرح انجام دیتے ہیں؟ ہم خود روزانہ کتنوں کا دل دکھا کر بھی مطمئن زندگی گزار رہے ہیں، تو کیا کبھی ہم نے کوئی ایسی مثال قائم کی ہے، جس کو خود نہیں بلکہ لوگوں نے قابل تقلید عمل قرار دیا ہو؟

حق مہر میں پیسوں یا نمازِ فجر کا مطالبہ کرنا ایک لڑکی کا حق ہے، یا پھر اپنی شادی کو یادگار بنانے کے لیے اس پر ڈھیروں پیسے خرچ کرنا کسی کی ذاتی مرضی ہے، اور وہ خود اپنے خدا کے آگے جواب دہ ہے، لیکن ہم کون ہوتے ہیں سزاء اور جزاء کا فیصلہ کرنے والے؟ کیا ہم نے سوچا ہے کہ ہمیں بھی تو خدا کے آگے جوابدہ ہونا ہے۔

اگر کوئی مہنگی ترین شادی کرتا ہے، تو ہم اسے تنقید کا نشانہ بناتے بھی نہیں رکتے، اور اگر کوئی اپنے حساب سے ایک بہتر عمل کرتا ہے تو ہمارے لیے وہ بھی مسئلہ ہے۔

دنیا بہتر اور بدتر دونوں طرح کے اعمال کی آماجگاہ ہے، ہر کوئی اپنے حساب سے اپنے لیے اچھا اور برا منتخب کرتا ہے، جزاء اور سزا دینے کا اختیار ہمیں نہیں، اس لیے مختار بن کر فیصلے سنانے بھی نہیں چاہیئں۔

سوچنے کی بات ہے کہ یہی وہ معاشرہ ہے جس میں ہم زندہ ہیں، اور جس میں ہماری آنے والی نسلیں تربیت حاصل کریں گی، اور شاید ہم اس کے ہی قابل ہیں!