سندھ: '5 سال میں بچوں پر تشدد کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا'

اپ ڈیٹ 31 جنوری 2017

ای میل

کراچی: سندھ کے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2010 سے 2014 کے دوران سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ میں گھروں پر کام کرنے والے بچوں پر تشدد کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔

سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران صوبائی سوشل ویلفیئر کی وزیر شمیم ممتاز نے بتایا کہ '2010، 2011، 2012، 2013 اور 2014 میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ میں کوئی کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا ہے'۔

ایوان میں ان غریب بچوں پر کام کے دوران تشدد میں اضافے کے حوالے سے بحث جاری تھی، جو اپنے اہل خانہ کی کفالت کیلئے گھروں میں کام کاج کرتے ہیں۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ متعلقہ قوانین کی موجودگی کے باوجود یہ لعنت عروج پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا محکمہ مکمل طور پر اپنے فرائض سے آگاہ ہے اور اگر کہیں اس قسم کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں تو ان پر نظر رکھی جاتی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی رکن صوبائی اسمبلی ناہید بیگم نے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بے نظیر وومن سپورٹ پروگرام کے آغاز اور اس کو بند کرنے کے سال جبکہ اس کی وجوہات کے بارے میں بھی استفسار کیا۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ سوال ان کے محکمہ کے حوالے سے نہیں ہے کیونکہ مذکورہ پروگرام کبھی ان کے محکمہ کے تحت شروع نہیں ہوا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والی رکن صوبائی اسمبلی نصرت سہر عباسی نے صوبے میں معذور افراد کے اداروں کی تعداد اور 2009 سے 2013 کے درمیان ان کیلئے مختص بجٹ کے بارے میں سوال کیا۔

جس پر صوبائی وزیر نے بتایا کہ سندھ میں معذوروں کی دیکھ بحال کے 18 مراکز قائم ہیں جن میں 13 بچوں اور 5 بالغوں کیلئے ہیں۔

ان میں سے 5 ادارے کراچی جبکہ دیگر ادارے حیدرآباد، میرپور خاص، سکھر، خیرپور، دادو، بدین، ٹھٹہ، سانگھڑ، شہید بے نظر آباد، لاڑکانہ، جیکب آباد، شکارپور، کشمور میں قائم ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ہر ادارے کیلئے 60 لاکھ روپے کا بجٹ مختص ہے۔

نصرت سہر عباسی نے جولائی 2014 میں لاڑکانہ کے دارالامان سے 3 خواتین کے فرار ہونے کے واقعے کی تفصیلات اور اس کی وجوہات پر استفسار کیا۔

صوبائی وزیر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی 2014 کو 3 خواتین، نصرت بلیدی، نورن چانڈیو اور مسکان شیخ نے سینٹر کے مین ہال میں لگی کھڑکی کی لوہے کی سلاخیں کاٹیں اور فرار ہوگئیں۔

انھوں نے بتایا کہ اسی روز لاڑکانہ کے ولید پولیس اسٹیشن میں واقعے کی ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی اور اس میں سینٹر کے دو چوکیداروں، عطاء محمد اور اللہ بخش کو نامزد کیا گیا تھا، تاہم انھیں عدالت نے 10 اگست 2016 کو رہا کردیا جبکہ پولیس مذکورہ خواتین تک رسائی حاصل نہیں کرسکی۔

ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی دلاور قریشی نے دارالامان میں خواتین کو داخل کرانے کے طریقہ کار کے حوالے سے استفسار کیا۔

جس پر صوبائی وزیر نے بتایا کہ ایسی خواتین جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور عدالت ان کی رہائش کے حوالے سے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کرتی ہے، اس کے علاوہ وہ خواتین جن کے پاس گھریلوں مسائل یا دیگر کی وجہ سے رہائش کا انتظام موجود نہیں ہوتا وہ اس سہولت سے استفادہ حاصل کرسکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سینٹرز قیدی خواتین کی ان کے اہل خانہ سے ملاقات، انھیں مذہبی تعلیم کی فراہمی، بنیادی تعلیم، طبی سہولیات اور عدالتوں میں جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ڈاکٹر سہراب سرکی نے جیکب آباد میں موجود سوشل ویلفیئر سینٹرز کی تعداد اور ان کے ملازمین کی تعداد کے بارے میں استفسار کیا، جس پر انھیں صوبائی وزیر نے بتایا کہ جیکب آباد میں 6 سینٹرز کام کررہے ہیں جن میں مجموعی طور پر 66 ملازمین موجود ہیں۔

ان میں ایک معذور بچوں کی بحالی، کمیونٹی ڈویلپمنٹ سینٹر، تین خواتین کے ویلفیئر سینٹرز اور ایک دارالامان ہے۔

یہ رپورٹ 31 جنوری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی