شمسی توانائی کا استعمال کوئی پرویز ہودبھائی سے سیکھے

20 فروری 2017

ای میل

معروف سائنسدان ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کے گھر کی چھت پر 2.8 کلوواٹ صلاحیت کے 10 سولر پینلز نصب ہیں جو دن بھر میں اتنی بجلی پیدا کر لیتے ہیں، جس سے گرمیوں میں اے سی، لائٹیں، ایک فرج اور بجلی کے دوسرے آلات چلائے جا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کے پاس ایک سولر گیزر بھی ہے جو انہیں "اسلام آباد کی سرد ترین راتوں میں بھی" گرم پانی فراہم کرتا ہے۔

نیوکلیئر فزکس کے ماہر ڈاکٹر ہودبھائی مانتے ہیں کہ اگر گھر مناسب طریقے سے ڈیزائن کیا گیا ہو تو بجلی کی بے انتہا بچت کی جا سکتی ہے۔ ان کا گھر نہایت ہوادار ہے جبکہ پورے گھر کی انسولیشن بھی کروائی گئی ہے، جس کی وجہ سے ان کا گھر گرمیوں میں "کافی ٹھنڈا" اور سردیوں میں "کافی گرم" رہتا ہے۔

دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک غیر رسمی گفتگو میں ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے اپنے لائف اسٹائل میں لائی گئی ان تبدیلیوں کا تذکرہ کیا جن سے ماحولیاتی آلودگی میں ان کا حصہ کم سے کم ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان میں توانائی کے مسائل پر بھی بات چیت کی۔

ذوفین: کیا آپ کا گھر اور اس میں موجود تمام آلات مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلتے ہیں؟

ہودبھائی: نہیں، شمسی توانائی ہماری تمام ضروریات پوری نہیں کرتی، مگر اس سے ہماری بجلی کی 60 فیصد اور گرم پانی کی 90 فیصد ضروریات پوری ہوجاتی ہیں۔

ذوفین: پھر آپ شمسی توانائی کے علاوہ توانائی کے اور کن ذرائع کا استعمال کرتے ہیں؟ کیا ابر آلود دن زیادہ ہوتے ہیں؟

ہودبھائی: ہم ہر ماہ کھانا پکانے کے لیے ایک گیس سلنڈر خریدتے ہیں اور رات کے وقت گرڈ سے بجلی حاصل کرتے ہیں۔ شمسی توانائی سال میں تقریباً 310 دن دستیاب رہتی ہے۔

ذوفین: آپ کا بجلی کا بل کتنا آتا ہے؟

ہودبھائی: بہت زیادہ! مجھے لگتا ہے کہ ہمارا میٹر خراب ہے اور مجھ میں اتنی برداشت نہیں ہے کہ میں آئیسکو کے دفتر جا کر ان سے بحث کروں۔ ہمارے سولر پینل ہماری ضرورت سے کہیں زیادہ شمسی توانائی پیدا کرتے ہیں مگر زیادہ تر ضائع ہوجاتی ہے کیوں کہ ہم اضافی بجلی گرڈ کو فراہم نہیں کر سکتے۔

ذوفین: یہ تو بہت غلط بات ہے۔ کیا اس کا کوئی حل موجود ہے؟

ہودبھائی: بالکل موجود ہے! یورپ، امریکا اور چین میں اضافی شمسی توانائی گرڈ میں شامل کی جا سکتی ہے اور صارف بل صرف تب ادا کرتا ہے جب اس کی گرڈ سے استعمال شدہ بجلی گرڈ کو دی گئی شمسی توانائی سے زیادہ ہو۔ اسے ریورس میٹرنگ کہا جاتا ہے۔ اگر صارف کی پیدا کردہ شمسی توانائی زیادہ ہے تو اسے کیش میں ادائیگی کی جاتی ہے۔

میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں ریورس میٹرنگ کی پارلیمنٹ نے منظوری دے رکھی ہے اور کچھ لوگ اس کا فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں، مگر اس کے لیے خصوصی میٹر درکار ہیں جو ابھی عام نہیں ہیں۔ ایسے میٹر گرڈ سے گھر تک آنے والی اور گھر سے گرڈ تک جانے والی بجلی دونوں کی پیمائش کر سکتے ہیں۔

ذوفین: کیا آپ کو دیکھنے کے بعد اور لوگوں نے بھی اپنے گھر کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی کوشش کی ہے؟

ہودبھائی: مجھ سے کئی لوگوں نے اس حوالے سے دریافت کیا ہے اور میں ایک دو لوگوں کو جانتا ہوں، جنہوں نے یہ سسٹم اپنے گھر پر لگوائے ہیں۔ سولر گیزر بہت سستے ہیں اور میں نے ان میں سے کچھ کو چھتوں پر دیکھا بھی ہے۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ لوگ آخر گیس سے چلنے والے گیزر خریدتے ہی کیوں ہیں، جن پر اتنا خرچہ آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سولر گیزر نہ صرف سستے ہیں بلکہ ماحول دوست بھی ہیں۔

ذوفین: کیا سولر پینلز اور بیٹریوں کی دیکھ بھال پر بہت خرچ آتا ہے؟

ہودبھائی: انہیں نصب کرنے کے چار سال بعد جو واحد مرحلہ درپیش تھا، وہ چھت پر موجود پینلز سے مٹی صاف کرنا اور کنٹرول پینل کو ہوا سے صاف کرنا تھا۔ سولر گیزر میں ایک الیکٹرک راڈ ہے جو اضافی گرمائش کے لیے موجود ہے۔ ایک دفعہ یہ کوائل جل گئی تھی مگر بہت کم پیسوں میں دوسری آ گئی۔ بیٹریاں چار سال سے اب تک تو چل رہی ہیں، مگر شاید ایک سے دو سالوں میں انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ ان کا استعمال یا تو رات کے وقت ہوتا ہے یا پھر جب بھی بجلی چلی جائے، جو کہ بہت زیادہ جاتی ہے۔

ذوفین: کیا آپ کو لگتا ہے کہ جوہری توانائی سے زیادہ بہتر شمسی توانائی ہے؟

ہودبھائی: جی ہاں، اور اس کی وجہ صاف ظاہر ہے۔ شمسی توانائی ایٹمی توانائی سے کہیں محفوظ ہے اور اب یہ تیل اور گیس سے زیادہ سستی بھی ہے۔ ایٹمی توانائی میں اگر تمام اخراجات کا حساب رکھا جائے تو یہ اتنی سستی نہیں ہے۔ شمسی توانائی صرف دن کے وقت دستیاب ہوسکتی ہے، اس لیے دن میں پیدا کی گئی بجلی کو محفوظ کرنے کے لیے بہتر بیٹریاں درکار ہیں اور زیادہ صلاحیت والی بیٹریوں کی تیاری کے ساتھ یہ مسئلہ بھی حل ہوتا جا رہا ہے۔

ذوفین: آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کا چوتھا ایٹمی بجلی گھر پچھلے ماہ فعال ہوا ہے۔ اگر یہ مہنگا متبادل ہے تو پاکستان کیوں اس میں سرمایہ کاری کیے جا رہا ہے؟

ہودبھائی: ہمیں اس پر خوش ہونا چاہیے اور یہ کہ اب تک ہمارے پاس کوئی بڑا سانحہ نہیں ہوا ہے۔ ہمیں بجلی کی ضرورت تو بہرحال ہے، مگر ایسے میں مجھے یہ بھی امید ہے کہ تابکاری سے متعلق حقائق کو ہم سے چھپایا نہیں جائے گا۔ زیادہ ایٹمی بجلی گھروں کا معاشی فائدہ مجھے سمجھ نہیں آتا۔ ہم ایٹمی بجلی کی جانب اس لیے جا رہے ہیں کیوں کہ چین ہمیں کسی بھی طرح اپنے ایٹمی ری ایکٹر فروخت کرنا چاہتا ہے۔ ہم دنیا میں چینی ایٹمی بجلی گھروں کے واحد خریدار ہیں۔ چین نے پاکستان کو کراچی ایٹمی بجلی گھر (کینپ) کے لیے 80 فیصد رقم بطور قرضہ دی ہے۔

ذوفین: آپ نے کبھی چشمہ بجلی گھر پر کھلے عام اعتراض نہیں کیا، مگر آپ کراچی کے نزدیک بننے والے بجلی گھروں کے مخالف ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟

ہودبھائی: جب سونامی کی وجہ سے فوکوشیما، جاپان میں ایٹمی بجلی گھر تباہ ہوئے، تو اس سے ہونے والے نقصان کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہوگیا کہ شہروں کے نزدیک ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کوئی اچھا خیال نہیں۔ اگر کینپ کے بجلی گھر کو کچھ ہوا، تو کراچی میں کیا ہوگا، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ فوکوشیما 80,000 نظم و ضبط کے پابند لوگوں کا ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ کراچی کی آبادی سوا دو کروڑ ہے، جس میں سے زیادہ تر لوگوں میں سگنل پر رکنے جتنا بھی صبر نہیں ہے۔ انہیں منظم انداز میں دوسری جگہوں پر منتقل کرنا ناممکن ہوگا اور منتقل کیا بھی کہاں جائے گا؟ ضروری نہیں کہ اتنی بڑی آفت سونامی کی وجہ سے ہی آئے۔ دہشت گردی، تخریب کاری، زلزلے، یا انسانی غلطی (جیسا کہ 1986 میں چرنوبل میں ہوا) بھی اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔

ذوفین: مگر ٹیکنالوجی میں بہتری اور ترقی اور بہتر حفاظتی انتظامات کے بعد آپ کو لگتا ہے کہ کیا پاکستان کو ایٹمی بجلی کی طرف جانا چاہیے؟

ہودبھائی: دیکھیں بین الاقوامی ایٹمی انڈسٹری محفوظ بجلی گھروں کی تعمیر کی طرف جا رہی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی پیشگوئی نہیں کر سکتا کہ ایٹمی بجلی گھر کو کیا مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی ایٹمی بجلی گھر کے مرکز میں اتنا تابکار مواد موجود ہوتا ہے جو ایک ہزار ایٹم بم بنانے میں کام آ سکتا ہے۔ بھلے ہی ایک ایٹمی بجلی گھر ایک بم کی طرح دھماکے سے تباہ نہیں ہو سکتا، مگر یہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرنے والے ایٹم بم سے کہیں زیادہ تابکاری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جہاں تک آپشنز کی بات ہے، تو پاکستان ایٹمی بجلی گھر نہیں بناتا۔ ہمارے پاس اتنی تکنیکی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ ایٹم بم بنانا اس سے کہیں آسان کام ہے اور ہم ایٹم بم بنا رہے ہیں۔

ذوفین: کہا جاتا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کا مقابلہ صاف اور سستی ایٹمی توانائی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ ہم ایسے ایٹمی بجلی گھر بنانے سے کتنا دور ہیں جو ماحول دوست ہونے کے معیار پر پورا اتر سکیں؟

ہودبھائی: موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ پن بجلی اور شمسی توانائی پر زیادہ توجہ دے کر، بجلی کی ترسیل میں ہونے والے نقصانات کو ختم کرنے کے لیے گرڈز بہتر بنا کر اور بجلی کے ضیاع کو ختم کر کے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہم ایٹمی بجلی گھر بنانے پر خرچ ہونے والی کاربن کا جائزہ لیں، تو سستے ایٹمی ایندھن سے ہونے والی بچت اس کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔

ذوفین: تھوریم سے بجلی پیدا کرنا کیسا خیال ہے، یا یہ اب بھی ایک علمی بحث ہے؟

ہودبھائی: ہندوستان اس پر 40 سال سے کام کر رہا ہے۔ اب بھی وہ تھوریم سے بجلی پیدا نہیں کر پایا ہے۔ ویسے بھی یہ پاکستان کے لیے کوئی آپشن نہیں ہے کیوں کہ پاکستان میں تھوریم کے ذخائر موجود نہیں اور نہ ہی ہم اپنے ایٹمی بجلی گھر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


یہ مضمون ابتدائی طور پر دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ پر شائع ہوا اور بہ اجازت یہاں شائع کیا گیا ہے۔