فوج نے عزیر بلوچ کو تحویل میں لے لیا

اپ ڈیٹ 12 اپريل 2017

ای میل

پاک فوج نے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کے تحت تحویل میں لیا گیا۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کسی ملک کی نشاندہی کیے بغیر بتایا کہ عزیر بلوچ پر حساس معلومات غیر ملکی خفیہ ایجنسی کو فراہم کرنے کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ عزیر بلوچ کو لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار کہا جاتا ہے اور ان پر کراچی کے علاقے لیاری کے مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل اور بھتہ خوری سمیت دیگر جرائم کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔

عزیر بلوچ 2013 میں حکومت کی جانب سے ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع ہونے پر بیرون ملک فرار ہوئے تھے، حکومت سندھ متعدد بار عزیر جان بلوچ کے سر کی قیمت مقرر کر چکی ہے جبکہ عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے ریڈ وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

پولیس کو مطلوب عزیر بلوچ کو مسقط سے بائے روڈ جعلی دستاویزات پر دبئی جاتے ہوئے انٹر پول نے 29دسمبر 2014 کو گرفتار کیا تھا۔

عزیر بلوچ کو پاکستان واپس کب لایا گیا، اس حوالے سے اب تک کچھ واضح نہیں ہوسکا۔

تاہم عزیر جان بلوچ کو پراسرار حالات میں جنوری 2016 کو کراچی کے مضافاتی علاقے سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، ان پر قائم مقدمات میں حریف گینگسٹر ارشد پپو کا قتل کیس بھی شامل ہے۔

عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ

مئی 2016 میں ڈان کو ملنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) رپورٹ کی کاپی کے مطابق عزیر بلوچ ملک میں فوجی تنصیبات اور عہدیداران سے متعلق خفیہ معلومات ایران کے انٹیلی جنس افسران کو فراہم کرتا تھا، جو کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ (سرکاری خفیہ ایکٹ) 1923 کی خلاف ورزی ہے۔

جس پر عزیز بلوچ سے متعلق تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے مبینہ طور پر ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے جاسوسی کرنے پر عزیر بلوچ کے خلاف فوجی عدالت میں جاسوسی کا مقدمہ چلانے کی سفارش کی تھی۔

رپورٹ میں عزیر بلوچ کے اقبالی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ لیاری کا یہ گینگسٹر 2013 میں کراچی میں رینجرز کے آپریشن کے آغاز کے بعد ایران فرار ہوگیا تھا، جہاں وہ چابہار میں اپنے دوست مالک بلوچ کے ہمراہ رہتا تھا اور وہیں اس کی ملاقات دوہری شہریت رکھنے والے حاجی ناصر سے ہوئی۔

ناصر نے عزیر بلوچ کو مستقل طور پر تہران منتقل ہونے اور بغیر پیسے خرچ کیے ایرانی شہریت دلانے کی پیشکش کی، کیونکہ اس کے ایرانی انٹیلی جنس افسران سے اچھے تعلقات تھے اور وہ عزیر کی ان سے ملاقات کرا سکتا تھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے ناصر کی پیشکش پر رضا مندی ظاہر کی جس کے بعد اس کی ایرانی انٹیلی جنس کے ایک عہدیدار سے ملاقات کرائی گئی، جس نے عزیر کو شہریت دلانے کے بدلے کراچی کی سیکیورٹی صورتحال اور مسلح افواج کے عہدیداران سے متعلق مخصوص معلومات فراہم کرنے کو کہا۔

مزید پڑھیں: عزیر بلوچ 90روز کیلئے رینجرز کے حوالے

عزیر بلوچ نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ اس کے 14 ساتھیوں میں سے 6 اب بھی چابہار میں ہیں۔

رپورٹ میں تحقیقاتی ٹیم کے اراکین کی جانب سے حکومت سے سفارش کی گئی تھی کہ عزیر بلوچ کے خلاف، جاسوسی میں ملوث ہونے پر پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔

رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ کئی پولیس و رینجرز اہلکاروں اور حریف ارشد پپو کے قتل میں بھی ملوث پایا گیا، جبکہ وہ بھتہ خوری، زمینوں پر قبضے، چائنہ کٹنگ اور منشیات کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا۔

عزیر بلوچ نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ اس نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ارشد پپو، اس کے بھائی یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کو اغوا کے بعد قتل کیا، جبکہ اس کارروائی میں انسپیکٹر یوسف بلوچ، ایس ایچ او جاوید بلوچ اور انسپیکٹر چاند خان نیازی نے اس کی مدد کی۔

لیاری گینگسٹر نے ٹیم کو بتایا کہ مارچ 2013 میں اس کے ساتھی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے وابستہ شیر محمد شیخ عرف شیرو نے، اسے بتایا کہ اس نے گینگ کے حوالے سے معلومات اکٹھی کرنے والے دو رینجرز اہلکاروں کو اغوا کیا، بعد ازاں عزیر بلوچ نے ایم کیو ایم پر الزام لگائے جانے کی نیت سے، شیرو کو دونوں اہلکاروں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔

گرفتاری کے بعد ابتدا میں عزیر بلوچ کو رینجرز نے 90 روز تک حراست میں رکھا اور تفتیش کے بعد پولیس کے حوالے کردیا تھا، ملزم کو بعد ازاں کراچی کی سینٹرل جیل میں قید رکھا گیا جہاں عزیز بلوچ کو متعدد ٹرائل کا سامنا تھا۔

عزیر بلوچ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے قریب تعلقات کی وجہ سے معروف ہیں، اس سے قبل انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 40 مقدمات میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔

لیاری میں 2012 میں ہونے والے پولیس آپریشن کے دوران عزیر بلوچ اور ان کے دیگر ساتھیوں پر قتل، اقدام قتل اور پولیس حملوں سے متعلق 35 مقدمات درج کیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ وہ لیاری سے تعلق رکھنے والے پی پی پی کے ایک رکن قومی اسمبلی اور کچھ پولیس افسران کے ساتھ ارشد پپو، اس کے بھائی یاسر عرفات اور ساتھی جمعہ شیرا قتل کیس کے ٹرائل کا سامنا بھی کررہے ہیں، انھیں مارچ 2013 میں ڈیفنس سے اغوا کے بعد لیاری میں قتل کردیا گیا تھا۔

عزیز بلوچ کون ہے؟

عزیر بلوچ نے 2001 کے انتخابات میں لیاری کے ناظم کی حیثیت سے سیاست میں اپنی قسمت آزمانے کی کوشش کی لیکن انہیں پیپلز پارٹی کے کٹر کارکن حبیب کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹرانسپورٹر فیض محمد عرف فیضو ماما کے بیٹے عزیر نے 2003 میں محمد ارشد عرف ارشد پپو کے ہاتھوں اپنے والد کے قتل کے فوراً بعد جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیا تاکہ اپنے والد کے قتل کا بدلہ لے سکیں۔

ارشد پپو، عزیر بلوچ کے کزن عبدالرحمٰن عرف عبدالرحمٰن ڈکیت کے حریف سمجھے جاتے تھے۔

عبدالرحمٰن اور ارشد پپو گینگ کے درمیان لیاری میں منشیات اور زمین پر ایک طویل عرصے تک گینگ وار جاری رہی۔

عدالت میں والد کے مقدمے کی پیروی کے دوران عزیر بلوچ کو ارشد پپو گینگ سے دھمکیاں موصول ہوئیں جس پر عبدالرحمٰن ڈکیت نے انہیں اپنے گینگ میں شامل کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: عزیر بلوچ، پولیس مقابلوں اور قتل کے 5 مقدمات میں نامزد

اس حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ عزیر نے ابتدائی طور پر رحمٰن کے گینگ میں شمولیت سے انکار کردیا تھا لیکن جیسے ہی انہیں اس بات کا ادراک ہوا کہ دونوں کا دشمن مشترک ہے تو انہوں نے رحمٰن کے گینگ میں شمولیت اختیار کر لی۔

پولیس ان کاؤنٹر میں عبدالرحمٰن ڈکیت کی موت کے بعد عزیر گینگ میں مرکزی کردار کے طور پر ابھر کر سامنے آئے اور تمام گینگ کے باہمی اتفاق رائے سے بلامقابلہ گینگ کے نئے سربراہ مقرر ہوئے۔

غیر اعلانیہ طور پر پیپلز امن کمیٹی سے وابستگی رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی 2012 تک عزیر بلوچ کو تحفظ فراہم کرتی رہی لیکن اس موقع پر حالات نے کروٹ لی۔

ٹپی کے نام سے مشہور اویس مظفر لیاری سے انتخابات میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن عزیر بلوچ نے ان کی اس خواہش کو مسترد کردیا، اس موقع پر پیپلز پارٹی اور امن کمیٹی کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور نتیجتاً ہنگامی بنیادوں پر اپریل 2012 میں آپریشن شروع کردیا گیا جو مقامی لوگوں اور اندرونی ذرائع کے مطابق مکمل سیاسی مقاصد کی وجہ سے کیا گیا۔

ایک ہفتے یہ آپریشن ختم کردیا گیا اور پیپلز پارٹی کو عزیر کے مطالبات کے آگے سرخم تسلیم کرنا پڑا، عزیر نے مطالبہ کیا تھا کہ 2013 کے عام انتخابات میں ان کے منتخب کردہ امیدواروں کو پیپلز پارٹی ٹکٹ دے گی۔

مزید پڑھیں: عزیر بلوچ کے سنسنی خیز انکشافات

تاہم اگر لیاری میں ان کی موجودگی کی بات کی جائے تو ذرائع کے مطابق اندرونی طور پر مستقل جاری لڑائیوں کے باعث یہ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور پیپلز امن کمیٹی کا اب کوئی وجود نہیں۔

عزیر بلوچ دہشتگردی، قتل اور بھتہ سمیت 20 سے مقدمات میں مطلوب تھے لیکن جو کارروائی انہیں انہیں منظر عام پر لے کر آئی وہ سپریم کورٹ کی جانب سے لیا گیا سوموٹو نوٹس تھا جو اعلیٰ عدلہ نے عذیر کے ارشد پپو قتل کیس میں ملوث ہونے پر لیا۔