متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے اقتصادی اور فوجی معاملات پر شراکت کے لیے ایک نئی مشترکہ تعاون کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) سے علیحدہ ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق امارات کے وزیر خارجہ نے 5 دسمبر کو کویت میں جی سی سی اجلاس سے قبل اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کی منظوری متحدہ عرب امارات کے حکمران اور صدر شیخ خلیفہ بن زاید النھیان نے دی تاہم سعودی عرب کی جانب سے نئے اتحاد پر فوری طور پر رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ اعلان چھ رکنی جی سی سی اجلاس پر کیا اثر ڈالے گا۔

واضح رہے کہ اجلاس میں قطر کے مسئلے پر توجہ مرکوز کرنے کی توقع تھی تاہم جی سی سی کے نصف ارکان نے عرب خطے کے تنازعے کے دوران دوحہ کا بائیکاٹ رک رکھا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب سمیت 6 ممالک نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیئے

اماراتی وزیر نے کہا کہ نئی کمیٹی کو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے مابین فوجی، سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے مفاد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب حالیہ برسوں میں قریبی روابط پیدا ہوئے ہیں، اماراتی فوج یمن میں سعودی عرب کی سربراہی میں جنگ لڑ رہی ہے، اس کے علاوہ ابو ظہبی کے طاقت ور شہزادے محمد بن زاید النھیان، سعودی عرب کے نوجوان ولی عہد محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات پر یقین رکھتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے اعلان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا کوئی اور خلیجی عرب ریاست کو اس نئے گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے یا نہیں لیکن اس پیش رفت سے جی سی سی پر دباؤ پڑے گا۔

خیال رہے کہ جی سی سی 1981 میں ایران کی طاقت کے خلاف امریکی اتحادی خلیجی عرب ریاستوں کی جانب سے قائم کی گئی تھی۔