ٹرمپ کا دورہ برطانیہ احتجاج کے خوف سے منسوخ

13 جنوری 2018

Email


برطانیہ میں امریکی سفارت خانہ وسطی لندن میں قائم ہے—فوٹو:اے ایف پی
برطانیہ میں امریکی سفارت خانہ وسطی لندن میں قائم ہے—فوٹو:اے ایف پی

برطانوی حکومت نے امریکا اور برطانیہ کے تعلقات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے احتجاج کے پیش نظر امریکی صدر نے لندن میں نئے سفارت خانے کی عمارت کے افتتاح کے سلسلے میں برطانیہ کے دورے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اگلے ماہ ہونے والے دورے کو ملتوی کررہے ہیں کیونکہ وہ سفارت خانے کی عمارت کی جگہ اور اخراجات سے مطمئن نہیں ہیں۔

برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ بورس جانسن نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ کے اس فیصلے کی وجہ دورے کی مخالفت ہے اور خبردار کیا کہ اس طرح کی تنقید سے تعلقات کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم تھریسامے نے ایک سال قبل ٹرمپ کو برطانیہ کے دورے کی دعوت دی تھی۔

ٹرمپ نے اچانک ٹویٹرمیں اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ تقریب میں شرکت نہیں کریں جو ابتدائی طور پر اگلے ماہ شیڈول تھی۔

امریکی صدر نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ 'میں اوباما انتظامیہ کا اتنا بڑا مداح نہیں ہوں جس نے اچھی جگہ اور لندن میں بہترین سفارت خانے کو کوڑیوں کے مول بیچ دیا صرف اس لیے کہ ایک اعشاریہ دو بلین ڈالرز کے عوض ایک نئی عمارت تعمیر کی جائے'۔

نئی عمارت کا افتتاح کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'بدتر معاہدہ، فیتا مجھ سے کٹوانا چاہتے تھے، نہیں!'

سفارت خانے کی منتقل کا منصوبہ دراصل دہائیوں پرانا ہے جس کا آغاز ری پبلکن پارٹی کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے کیا تھا۔

بالآخر پیغام مل گیا

ٹرمپ کے دورے کو امریکا کی جانب سے اکثر مسلم ممالک کے خلاف سفری پابندیوں اور حال ہی میں مسلمانوں کے خلاف ایک متنازع ویڈیو کو ری ٹویٹ کرنے پر برطانیہ کے دورے کے حوالے سے تنقید کی جارہی تھی۔

لندن کے میئر صادق خان نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ 'لندن کے کئی شہریوں نے یہ واضح کردیا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہاں خوش آمدید نہیں کہیں گے جبکہ وہ ایک تقسیم کا ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں'۔

صادق خان کا کہنا تھا کہ 'ایسا لگتا ہے کہ بالآخر ان کو پیغام مل گیا ہے'۔

برطانیہ کی حزب اختلاف لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے میئر لندن نے کہا کہ ایک پرہجوم احتجاج ہوتا اور انھیں دعوت دے کر غلطی کی گئی تھی۔

ٹرمپ کے حالیہ فیصلے سے برطانوی حکومت کو سکھ کاسانس لینے کا موقع مل گیا ہے جس سے ان کی مرکزی منصوبہ سازی میں مشکلات ہو سکتی تھیں۔

بورس جانسن نے صادق خان اور لیبرپارٹی کے جیریمی کوربن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سخت تنقید سے امریکا اور برطانیہ کے تعلقات کو نقصان پہنچارہے ہیں۔

انھوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ 'امریکا، برطانیہ میں سب سے بڑا سرمایہ کار ہے، صادق خان اور کوربن اب بھی ان پیچیدہ تعلقات کو خطرے میں ڈالنے کے لیے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی طور امریکا اور برطانیہ کے تعلقات کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔