کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایک 11 سالہ لڑکی کو حجاب پہننے پر ایک شخص نے دو مرتبہ ان کے حجاب کو قینچی سے کاٹنے کی کوشش کی اور باآسانی فرار ہوگیا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے طالبہ کے حجاب کو کاٹنے کی کوشش کی اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طالبہ خاؤلہ نعمان کا کہنا تھا کہ جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ہمرا اسکول جارہی تھیں کہ قینچی لیے ایک شخص اس کی طرف بڑھا۔

مذکورہ شخص کے حوالے سے گیارہ سالہ طالبہ کا کہنا تھا کہ 'انھوں نے دو مرتبہ میرے حجاب کو کاٹنے کی کوشش کی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں بہت خوف زدہ اور کنفیوژ ہوئی تھی، مجھے اس کی توقع نہیں تھی کہ لوگ اس طرح کی حرکت کریں گے'۔

پولیس کے مطابق حملہ آور ایشیائی تھا جس کی عمر 20 کے قریب تھی اور انھوں نے کالے رنگ کی ہوڈی اور چشمے پہنے ہوئے تھے۔

پولیس کی ترجمان کرتینا آروگینٹے کا کہنا تھا کہ حکام کی جانب سے ٹورنٹو کے مشرقی علاقے میں واقع پاؤلین جانسن اسکول کے قریب پیش آنے والے واقعے کی تفتیش کی جارہی ہے۔

پولیس اہلکار جنیفر سیدھو کا پریس کانفرنس کےدوران کہنا تھا کہ خاؤلہ نعمان نے حملہ آور کو پلٹ کر جواب دیا اور انھیں خوفزدہ کرنے پر انھوں نے شور شرابہ کیا جس کے بعد وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ وہاں سے بھاگ گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچی نے بعد میں جب دیکھا تو اس کے حجاب کو پیچھے کی طرف سے کاٹا گیا تھا۔

خیال رہے کہ خاؤلہ نعمان اور ان کا چھوٹا بھائی دیگر طلبہ کے ساتھ اسکول جارہے تھے لیکن دونوں بہن بھائی سڑک پار کرتے ہوئے ان سے الگ ہوگئے تھے۔

ملزم کی جانب سے پہلے حملے کے دس منٹ سے بھی کم وقت کے بعد وہی شخص اچانک واپس آیا اور دوسری مرتبہ ان کے حجاب کو کاٹنے کی کوشش کی اور بھاگ گیا۔

اونٹاریو کے وزیراعظم کیتھلین وائن کا ٹویٹر میں اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ 'یہ منافرت پھیلانے والوں کا ایک بزدلانہ فعل تھا اور ان کا کینیڈا کے شہریوں سے کوئی تعلق نہیں ہے'۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم کم سن بچی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے کھڑے ہیں جنھیں صرف حجاب پہننے پر نشانہ بنایا گیا'۔

مقامی اسکول کے بورڈ کا کہنا ہے کہ اسکول میں کنڈرگارٹن سے گریڈ 6 تک مختلف ثقافتی اور معاشی پس منظر رکھنے والے 300 طلبہ زیرتعلیم ہیں۔