صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ سے 4 اہلکار شہید ہوگئے۔

ڈان نیوز کے مطابق فائرنگ کا واقعہ سریاب روڈ کے علاقے دکانی بابا میں اس وقت پیش آیا جب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی معمول کی گشت پر تھی کہ نامعلوم مسلح ملزمان نے ان پر فائرنگ کردی اور موقع سے فرار ہوگئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے تحقیقات شروع کردیں جبکہ لاشوں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا لگتا ہے، تاہم ابھی تک اس واقعے کی ذمہ داری کسی کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ سریاب روڈ شہر کے حساس ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں اس سے قبل بھی سیکیورٹی فورسز پر حملے ہوتے رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

علاوہ ازیں واقعے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل ( آئی جی ) بلوچستان معظم جاہ انصاری کا کہنا تھا کہ پیٹرولنگ کے دوران ایف سی اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا گیا اور فائرنگ کے نتیجے میں 4 ایف سی اہلکار شہید ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق 3 سے 4 مسلح افراد نے سیکیورٹی فورز کی گاڑی پر حملہ کیا اور اس دوران مختلف چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

آئی جی بلوچستان نے کہا کہ اگر سیف سٹی منصوبہ ہوتا تو تحقیقات میں بڑی پیش رفت ہوگی، تاہم ہماری کوشش ہے کہ سیف سٹی منصوبے کو جلد فعال کیا جائے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں متعدد کالعدم گروپ اور علیحدگی پسند بلوچ تنظیمیں فورسز کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مصروف ہیں، ان کارروائیوں میں سیکڑوں لیویز، ایف سی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

صوبے کی انتظامیہ نے ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف آپریشنز اور کارروائیوں کا آغاز کررکھا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں کی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک اور گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جاچکا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ صوبائی انتظامیہ نے متعدد مرتبہ اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے بھارت کی خفیہ ایجنسی 'را' ملوث ہے۔