کراچی: شہید عباسی ہسپتال کے میڈیکل سپرٹینڈنٹ ڈاکٹر محمد انور نے تصدیق کی ہے کہ رکن سندھ اسمبلی شازیہ فاروق کی جانب سے خواب آوار گولیاں کھا کر خود کشی کرنے کی کوئی علامت نہیں ملی تاہم انہیں معدے میں درد اور متلی کی شکایت تھی۔

ڈاکٹر محمد انور کے مطابق شازیہ فاروق کی طبیعت بھال ہونے کے بعد انہیں ہسپتال سے رخصت کردیا گیاہے۔

واضح رہے کہ آج صبح میڈیا پر خبر نشر ہوئی کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی رکن سندھ اسمبلی شازیہ فاروق نے سینیٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے کے الزام پر دلبرداشتہ ہو کر خواب آور گولیاں کھالیں اور مبینہ طور پر خود کشی کرنے کی کوشش کی تاہم بروقت طبی امداد ملنے پر ان کی جان بچالی گئی۔

شازیہ فاروق کے والد نے بیٹی کی حالت زار کا ذمہ دار ایم کیو ایم پی آئی بی گروپ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کو قرار دیا تھا۔

دوسری جانب شازیہ فاروق نے میڈیا سے بات چیت کرنے سے گریز کیا اور ہسپتال کے عقبی دروازے سے گھر روانہ ہو گئیں۔

واضح رہے ایم کیو ایم پاکستان کو سینیٹ انتخابات میں صرف ایک نشست مل سکی جو پارٹی کے لیے غیر معمولی صدمے کا باعث ہے جس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں دھڑوں پی آئی بی اور بہادرآباد گروپس نے سینیٹ انتخابات میں مبینہ طور پر ہونے والی ہارس ٹریڈنگ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں چینلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ پڑھیں: ایم کیوایم پی آئی بی، بہادر آباد گروپ سینیٹ انتخابات کیلئے متفق

رکن اسمبلی کے بیٹے محمد فاروق نے بتایا کہ شازیہ فاروق کی طبیعت بگڑنے پر عباسی شہید ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے معدہ صاف کرکے ان کی زندگی بچا لی گئی۔

دوسری جانب بلدیہ ٹاؤن کے اسٹیشن ہاوس افسر (ایس ایچ او) چوہدری محمد اسلم نے ڈان کو بتایا کہ شازیہ فاروق کے ‘اقدامِ خودکشی‘ کے بارے میں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا تاہم اس حوالے سے اب تک کسی نے پولیس اسٹیشن سے رابطہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پی آئی بی گروپ کے سربراہ فاروق ستار نے الزام عائد کیا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ارکان صوبائی اسمبلی کو خرید کر سینیٹ انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

فاروق ستار کی جانب سے مذکورہ الزام سامنے آنے کے بعد ایم پی اے شازیہ فاروق اور انیلہ منیر نے اپنے ویڈیو پیغام میں واضح کیا کہ ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے کامران ٹیسوری کو سینیٹ ٹکٹ دینے کے انفرادی فیصلے سے پارٹی میں تفریق پیدا ہوئی اور وہ معاملے پر شدید ذہنی دباؤ اور غصے میں تھے۔

انہوں نے ویڈیو میں اقرار کیاتھا کہ ‘انہوں نے سینیٹ انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان کو ووٹ نہیں دیا’ اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ ’انہوں نے اپنا ووٹ کسی کو فروخت بھی نہیں کیا’۔

دونوں نے واضح کیا کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان کے کسی دھڑے سے تعلق نہیں رکھتیں اور گروپ بازی کے بجائے گھر پر بیٹھنا پسند کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات

عباسی شہید ہسپتال کے سینئر میڈیکو لیگل آفسر سلیم شیخ نے تصدیقی کی جب شازیہ فاروق کو ہسپتال لایا گیا تب ان کی حالات انتہائی خراب تھی اور ایم پی اے کو فوری طور پر آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب رکن سندھ اسمبلی کے والد نے ہسپتال سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شازیہ فاروق سینیٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے کے الزام پر دلبرداشتہ تھیں۔

ادھر شازیہ فاروق کے بیٹے نے اقرار کیا کہ والدہ نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سمیت کسی جماعت کو ووٹ نہیں ڈالا بلکہ اپنا ووٹ ضائع کیا۔

محمد فاروق نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹروں نے ان کی والدہ کی طبیعت کو خطرے سے باہر قرار دیا اور اگلے چند گھنٹوں میں ہسپتال سے ڈسچارج کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ شازیہ فاروق کے شوہر فاروق عرف دادا کو 1996 میں بلدیہ ٹاؤن کے اس وقت کے اسٹیشن ہاوس افسر (ایس ایچ او) اور نقیب اللہ محسود قتل کیس میں مفرور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا تھا۔

ایم کیو ایم قیادت نے مقتول کی بیوہ شازیہ فاروق کو رکن سندھ اسمبلی کی نشست پر نامزد کیا گیا تھا۔