نقصان دہ کونوکارپس کو اکھاڑنا فائدے مند کیوں نہیں؟

اپ ڈیٹ 14 اپريل 2018

ای میل

کراچی کے جھاڑی نما درخت کونوکارپس کاٹ دیے جائیں یا نہیں؟ اب یہ بحث ماہرین سے نکل کر عام لوگوں تک پھیل چکی ہے۔ ہر شخص اپنے نکتہءِ نظر کے حق میں صحیح یا غلط دلائل ضرور رکھتا ہے۔

کراچی میں شجرکاری اب ایک گرما گرم بحث کا موضوع بن چکی ہے اور کونوکارپس کے درخت اس بحث کا بنیادی نکتہ ہیں۔ کچھ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ نئی شجرکاری سے پہلے شہر بھر میں موجود تمام کونوکارپس کے درخت کاٹ دیے جائیں تو کچھ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ کراچی کو نیم کے پودوں سے بھر دیا جائے جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سوہانجنا کے درخت کراچی کے لیے بہترین ہیں کیونکہ ان کی طبی طور پر بھی بہت اہمیت ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

آخر کراچی میں کون سے درخت لگائے جائیں اور کونوکارپس کا کیا کیا جائے؟ اس حوالے سے ہم نے کراچی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف انوائرنمنٹل اسٹڈیز سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال شمس صاحب سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی بہت بڑا شہر ہے اور بہت سے جغرافیائی زون میں منقسم ہے، کسی ایک پودے کو پورے شہر کے لیے تجویز نہیں کرسکتے۔

جن علاقوں میں پانی نہیں ہے وہاں ایسے پودے لگائے جائیں جو خشک سالی کو برداشت کرسکیں۔ ایسی جگہوں پر چھوٹے پتوں والے پودے بہتر رہتے ہیں کیونکہ انہیں زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ سمندری علاقے ڈیفنس اور کلفٹن جہاں نمک زیادہ ہے وہاں نمک برداشت کرنے والے پودے لگانے ہوں گے۔ جہاں پانی موجود ہے وہاں ساحلوں پر ناریل لگایا جاسکتا ہے کیونکہ ناریل کو زیادہ پانی چاہیے، ایسی جگہوں پر ناریل کے ساتھ ساتھ چیکو بھی لگ سکتے ہیں۔

بہت سے درخت کراچی میں لگ سکتے ہیں جن میں سوہانجنا، املتاس، گل مہر، برنا، شیشم، لسوڑہ، گوندنی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ کراچی میں اس وقت 70 سے 75 کے قریب درختوں کی انواع موجود ہیں اور پورے شہر میں درختوں کی تعداد 25 سے 30 ہزار ہے۔ اسے اگر بہت زیادہ بھی کرلیا جائے تو یہ تعداد ایک لاکھ سے زیادہ نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیے: کراچی میں اتنی شدید گرمی کیوں

شجرکاری سے پہلے 2 باتیں مدِنظر رکھنا ہمارے لیے بہت ضروری ہیں۔ ایک تو مقامی انواع لگانی چاہیے اور دوسرا کسی ایک نوع کو پورے شہر میں لگانا خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ اگر کسی ایک درخت کو کوئی بیماری لگ گئی تو پورے شہر کے درختوں کو بیماری لگنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

املتاس کا خوبصورت درخت — تصویر سید قمر مہدی
املتاس کا خوبصورت درخت — تصویر سید قمر مہدی

لیکن سوال اب بھی یہ باقی تھا کہ کیا کونوکارپس کو سرے سے ہی کاٹ دیا جائے؟ اس حوالے سے ڈاکٹر ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ شہر کے 80 فیصد رقبے پر کونوکارپس لگے ہوئے ہیں، اس لیے انہیں کاٹنا کوئی بہتر حل نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ کونوکارپس ہمارا مقامی درخت نہیں ہے اور اس سے ہمارے مقامی پرندے اور دیگر حشرات وغیرہ مانوس نہیں ہوں گے اور پورے شہر میں کوئی ایک نوع کی شجرکاری بھی مناسب بات نہیں لیکن انہیں کاٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ درختوں کا جو کام ہے یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنا اور آکسیجن مہیا کرنا وہ یہ درخت کررہے ہیں۔ پولن الرجی کے حوالے سے بھی یہ بہت زیادہ مضر نہیں ہیں۔ ہاں البتہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ اب ہم جو بھی شجرکاری کریں اس میں صرف مقامی پودے لگائیں۔

کراچی میں بہت سے علاقے درختوں سے خالی ہیں وہاں پودے لگائے جاسکتے ہیں۔ یہ ضرور خیال رہے کہ غیر مقامی اور ایسی حملہ آور انواع (Invasive) نہ ہو جو مقامی انواع پر حاوی آجائے۔ اس کی مثال کیکر کے درخت سے دی جاسکتی ہے۔ 18ویں صدی میں انگریزوں نے کیکر کو میکسیکو سے لاکر لگایا تھا اس سے پہلے برِصغیر پاک و ہند میں کیکر موجود نہیں تھا۔ کیکر کی شجرکاری 1879ء میں کی گئی تھی اور ان 200 سالوں میں کیکر بہت پھیل چکا ہے۔

کیکر کے درخت —تصویر سید قمر مہدی
کیکر کے درخت —تصویر سید قمر مہدی

اس حوالے سے ایک اور ماہرِ ماحولیات اور نباتات رفیع الحق کا کہنا ہے کہ کونوکارپس کو کاٹنے کے بجائے نئے مقامی درخت لگانے پر توجہ دینی چاہیے۔ کونوکارپس پولن الرجی کے حوالے سے بھی بہت زیادہ مضرِ صحت نہیں ہے۔ بارشوں کے نظام کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ہم کونوکارپس کی نفرت میں بہت آگے چلے گئے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے اکثر لوگوں کی رائے ٹھیک نہیں ہے۔

معاملہ یہ ہے کہ عام درختوں کی طرح کونوکارپس زمین سے پانی بھی جذب کررہا ہے اور اپنے پتوں سے اس کا اخراج بھی کررہا ہے۔ پھر یہی پانی فضاء میں جاکر ٹھنڈا ہوجاتا ہے جو بعد ازاں بارش کی صورت میں زمین پر واپس آتا ہے۔ یہ بخارات واٹر سائیکل کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہاں بقیہ درختوں اور ان میں بس فرق یہ ہے کہ چونکہ یہ سایہ دار درخت نہیں ہے لہذا جب ہم اس کے نیچے کھڑے ہوتے ہیں تو بہت زیادہ ٹھنڈک محسوس نہیں ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ درختوں کی جو ذمہ داری ہوتی ہے، وہ تمام کی تمام کونوکارپس انجام دے رہے ہیں۔ اس کے سبز پتے گواہ ہیں کہ یہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرکے فوٹو سنتھیسز کا عمل بھی کررہا ہے۔

پاکستان کی ایک اور جانی پہچانی شخصیت توفیق پاشاموراج جن کا شجرکاری اور باغ بانی کے حوالے سے کام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے، ان کا کونوکارپس کے حوالے سے کہنا ہے کہ اس درخت کے حوالے سے جو باتیں پھیلی ہوئی ہیں ان میں مبالغہ زیادہ ہے۔ اللہ تعالی نے کوئی شے ایسی تخلیق نہیں کی ہے جس کا انسانیت کو کوئی فائدہ نہ ہو۔ کونوکارپس بھی ایسی ہی تخلیق ہے، کیونکہ اس کے بھی فوائد ہیں بشرط یہ کہ اسے اس کی صحیح جگہ لگایا جائے مگر اس کی شجرکاری کے لیے کراچی ہرگز مناسب جگہ نہیں ہے۔

مزید پڑھیے: کیا کراچی گرمی کی اگلی شدید لہر کے لیے تیار ہے؟

یہ ایسی زمینوں کے لیے فائدہ مند ہے جہاں زیرِ زمین پانی زیادہ ہو۔ یہ گھروں اور عمارتوں کے قریب اگانے والا پودا نہیں ہے کیونکہ اس کی جڑیں سیوریج کی لائنوں اور عمارات کی بنیادوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ درجہءِ حرات کو بڑھانے یا بارشوں کے نظام میں خلل اندازی والی بات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ ایک درخت کا جو کام ہے وہ یہ درخت انجام دے رہا ہے۔ یہ بھی مبالغہ ہے کہ اس پر پرندے نہیں بیٹھتے، میرا مشاہدہ ہے کہ پرندے بخوشی اس پر بیٹھتے ہیں۔ لیکن میں پھر یہ بات کہوں گا کہ یہ درخت ہرگز کراچی کے لیے نہیں ہے۔ پھر جب پاشا صاحب سے اسے کاٹنے سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ سیوریج لائنوں کو تباہ کردیتا ہے، لہٰذا آج نہیں تو کل، اسے ہم کاٹنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

کونوکارپس کس دور میں پھیلے؟

اس وقت کراچی شہر میں کونوکارپس درخت کے حوالے سے گرماگرم بحث جاری ہے۔ کونوکارپس کی شجرکاری 90ء کی دہائی کے آخر میں شروع ہوئی اور اس کی شجرکاری کو عروج 2005ء کے بعد ملا جب اس وقت کے میئر کراچی مصطفی کمال نے کراچی میں اس کو پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ بس پھر کیا تھا راتوں رات شہر کو سرسبز بنانے کے جنون نے اس بدیسی جھاڑی کو شہر بھر میں متعارف کروا دیا۔

ایک اندازے کے مطابق شہر بھر میں لاکھوں پودے لگائے گئے اور آج کراچی میں 80 فیصد یہی جھاڑیاں درختوں کے نام پر نظر آتی ہیں۔ آج ہر شخص کونوکارپس کے حوالے سے صحیح یا غلط اپنی رائے رکھتا ہے۔ سوشل میڈیا پر تبصروں کا طوفان ہے جو چلا آتا ہے۔ کچھ لوگ تو چند قدم اور آگے بڑھ گئے اور وہ کونوکارپس کو اکھاڑ کر اپنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کررہے ہیں۔ اس حوالے سے 99 فیصد لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس درخت کو کاٹ دیا جائے کیونکہ یہ آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات کو بڑھا اور شہر کے بارشوں کے نظام میں خلل ڈال رہا ہے۔ لیکن ماہرین کی رائے کو جان کر ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ سخت ردِعمل شاید ٹھیک نہیں۔

درختوں کے حوالے سے مختلف تجربات

اِس حوالے سے رفیع الحق صاحب نے مزید تفصیل سے بتایا کہ کراچی میں شجرکاری کے حوالے سے ہر دور میں مختلف تجربات کیے گئے۔ 50ء کی دہائی میں ایوب خان نے دیوی (مسکٹ) کا تجربہ کیا تھا۔ پھر بھٹو صاحب نے یوکلپٹس (سفیدہ) کا تجربہ کیا۔ یوکلپٹس یا سفیدہ زیرِ زمین پانی کو کھینچتا ہے جس کی وجہ سے کنوؤں میں پانی کی سطح نیچے چلی گئی اور بارشوں میں ان درختوں کی شاخیں گر جاتیں تھیں لہذا ان درختوں کو کٹوانا پڑا۔

اسی طرح لیگنم کے درختوں کا بھی تجربہ کیا گیا جو شاہراہِ فیصل پر لگائے گئے تھے جنہیں بعد میں کٹوادیا گیا۔ پھر کونوکارپس کا تجربہ کیا گیا۔ حتٰی کہ کلفٹن کے ماہی خانے کو کونوکارپس کی نرسری میں بدل دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے: گرمی اور اخراجات کو شکست دینے کے 7 طریقے

پاکستان میں بہت سے بدیسی پودوں کے تجربات کیے گئے ہیں جن میں سے کچھ کامیاب بھی ثابت ہوئے ہیں۔ ایسی چند انواع کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ خوراک کے حوالے سے پاکستان کا زیادہ انحصار گندم، مکئی اور چاول پر ہے تاہم بنیادی طور پر ان تینوں اجناس کا اس خطے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گندم نے مشرق وسطٰی سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور آج آسٹریلیا اور امریکا میں بڑے پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے۔ اسی طرح مکئی نے براعظم امریکا میں جنم لیا۔ یہی چاول اور دیگر اقسام کا حال ہے۔ سبز انقلاب کے دور میں امریکا اور میکسیکو سے گندم اور فلپائن سے چاولوں کی نو دریافت شدہ جنسوں کو مفید پایا گیا۔ کپاس اور گنے کے تجربات بھی کیے گئے لیکن ہر ممکن احتیاطی تدابیر کے باوجود امریکن سنڈی اور دیگر زرعی بیماریوں سے نہ بچا جاسکا۔

پھل دار درختوں کی مختلف اقسام بہتر ذائقے اور زیادہ پیداوار کی غرض سے دیگر ممالک سے درآمد کی گئیں۔ ان میں انگور کی 14 اقسام امریکا اور یورپ سے لاکر سوات میں متعارف کروائی گئیں۔ اس کے علاوہ سرخ سیب، آم کی بہت سی اقسام، لیچی، امرود اور پپیتا قابلِ ذکر ہیں۔

عمارتی لکڑی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیشِ نظر 1989ء میں چین سے پلونیا کے بیج منگوائے گئے تاکہ قیمتی لکڑی حاصل کی جاسکے۔ اپل اپل کی 6 مختلف اقسام 1979ء میں امریکا سے درآمد کی گئیں۔ کچھ بدیسی پودے ایسے ہیں جو اپنے ٹھکانوں کی بہ نسبت نئی آماجگاہ پر زیادہ کامیاب ثابت ہوئے ہیں ان میں آسٹریلیا کا یوکلپٹس یعنی سفیدہ ہے جو جنوبی ایشیاء میں زیادہ کامیابی سے پھلا پھولا۔ ابتداء میں اس کی بہت سی اقسام کو آزمایا گیا اور تمام تر تجربات کے بعد پھر 2 سے 3 اقسام پر ہی انحصار کرلیا گیا۔

مسکٹ یا دیوی جسے ولایتی کیکر بھی کہتے ہیں بنیادی طور پر امریکن پودا ہے۔ باقاعدہ طور پر پاکستان میں اس کی شجرکاری کا آغاز 50ء کی دہائی میں ہوا۔ کانٹے دار ببول کی اقسام کو سوڈان اور آسٹریلیا سے منگوا کر آزمایا گیا۔ کونوکارپس بنجر اور شوریدہ علاقوں کے لیے کارآمد ہے۔ اسی طرح پاپلر اور بید مجنوں کے تجربات بھی کیے گئے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں آج تک بیرونی پودوں کی اقسام کے ماحولیاتی اثرات کا ملکی سطح پر کوئی جائزہ نہیں لیا گیا۔ کسی بھی بدیسی پودے یا درخت کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی کہ وہ آگے چل کر کیا نتائج پیدا کرے گا۔ لہذا یہی بات اس کے تعارف سے پہلے احتیاط کا تقاضا کرتی ہے۔ شجرکاری سے پہلے اس کا ہر سطح پر جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بالغ فرد کو زندگی بھر جتنی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے وہ تقریباً 7 درختوں سے حاصل ہوجاتی ہے۔ اس اعتبار سے تو 2 کروڑ آبادی والے شہر میں 14 کروڑ درخت ہونے چاہئیں، مگر افسوس کی بات یہ کہ اس شہر میں 14 لاکھ درخت بھی موجود نہیں ہیں۔ لیکن ماضی میں جو غلطیاں ہوئیں، اُنہیں بنیاد بناکر مستقبل میں بھی وہی غلطیاں نہیں دہرانی چاہیے، لہٰذا ہم سب کو چاہیے، پھر چاہے وہ حکومتی سطح کی بات کی جائے یا انفرادی سطح کی، سب کو مل کر جتنے ہوسکیں درخت لگانے چاہیے، کیونکہ آنے والے خطروں سے بچنے کا واحد ذریعہ اب یہی رہ گیا ہے۔ اس حوالے سے خاص خیال یہ رکھنا چاہیے کہ صرف اور صرف مقامی انواع کا انتخاب ہونا چاہیے۔ مقامی انواع میں املی، پیپل، نیم، املتاس، سوہانجنا، چمپا، برگد، لیگنم، آم، امرود، جنگل جلیبی، چیکو، پپیتا اور گل مہر کی تینوں اقسام کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔