قومی ٹیم کے سابق کپتان اور عظیم باؤلر نے دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ میں صرف ایک اسپنر کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم میں کم از کم دو اسپنرز کو شامل کرنا چاہیے تھا۔

قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے 16رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے جس میں صرف ایک اسپنر شاداب خان کو شامل کیا گیا ہے کیونکہ یاسر شاہ انجری کا شکار ہیں۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم میں صرف ایک اسپنر کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں کم از کم دو اسپنرز کو شامل کرنا چاہیے تھا اور شاداب خان کو یاسر شاہ کی غیرموجودگی میں اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں نے اسکواڈ میں وہاب ریاض کی عدم شمولیت کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاب ریاض کی کارکردگی میں تسلسل کی کمی دکھائی دیتی ہے اور امید ہے کہ اس سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی کارکردگی میں تسلسل لانے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے ٹیم میں اسکواڈ میں 10 بلے بازوں کی موجودگی پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ بیٹنگ مضبوط ہو تو زیادہ بلےبازوں سے فرق نہیں پڑتا، انگلینڈ کے ساتھ ساتھ آئرلینڈ کا دورہ بھی آسان نہیں ہو گا۔ ان دوروں میں قومی ٹیم کو مصباح الحق اور یونس خان کی کمی محسوس ہوگی لیکن امید ہے کہ نوجوان اس موقع سے فائدہ اٹھا کر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

عظیم فاسٹ باؤلر نے کہا کہ انگلش کی کنڈیشنز باولرز کے لیے مددگار ہوتی ہیں لیکن آئرلینڈ کی کنڈیشنز میں باؤلرز کا بال زیادہ سوئنگ ہوتا ہے لہٰذا فاسٹ باؤلرز کا کردار دونوں سیریز میں بہت اہمیت کا حامل ہو گا لیکن بلے بازوں کا کڑا امتحان ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ مکی آرتھر کو نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ کام کر کے مزہ آرہا ہے اور وہ لانگ ٹرم پلاننگ کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسکواڈ میں زیادہ تر نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔