انتخابات کی آمد کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک جانب جہاں حامی اپنی اپنی جماعتوں کی حمایت میں مہم چلا رہے ہیں، وہیں کئی افراد تنقید اور مزاح کو بھی مہم کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ 243 سے الیکشن لڑ رہی ہیں، انہوں نے سوشل میڈیا پر مہم کی تصاویر شئیر کیں، تو جہاں بہت سے افراد نے ان کی تعریف کی تو کئی نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

ملک صاحب کے نام سے ایک ٹوئٹر صارف نے طنز کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ’بس ووٹ دے دو، پھر 2023 میں ملاقات ہو گی، شکریہ‘‘

ایک اور صارف آفتاب عالم نے لکھا کہ محترمہ غلط جگہ سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔

کرن بشیر نے شہلا رضا کو کامیابی کی دعا دی۔

خرم زرین نامی ٹوئٹر صارف، جنہوں نے اپنا تعارف ’اقوال عارفہ، اعمال احمقانہ‘ لکھا ہے، کہتے ہیں کہ امیدواروں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پارٹی ٹکٹ حاصل کر لیا جائے تو جیت یقینی ہوگی جبکہ زمینی حقائق اس کے بر عکس ہیں۔

جمشید دستی، جو عوامی راج پارٹی کے سربراہ ہیں، اور مظفر گڑھ سے قومی اسمبلی کے لیے الیکشن لڑ رہے ہیں، ان کی تصاویر ایک صارف نے لگائی جبکہ جمشید دستی کی مبینہ مہنگی گاڑی اور گدھا گاڑی میں سفر کا ذکر کیا ہے۔

اسی طرح سرمد کیانی نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماوں کی تصاویر شئیر کیں، جبکہ ان کی عوامی مقامات پر لوگوں سے ملاقات کو ڈرامہ بازی قرار دیا۔

قومی اسمبلی میں 5 سال تک اپوزیشن لیڈر رہنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی شہریوں کو شربت پلانے کی تصویر پر ہاورن شاہ کہا کہنا تھا کہ گلاس بھر تو دیتے شاہ جی۔

تحریک انصاف کے حامی محمد کامران نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کی ایک پرانی تصویر لگاتے ہوئے ساتھ میں جملہ لکھا کہ یہ بندہ کیا کر رھا ملاحظہ فرمائیں۔

سعد جانی نے کہا کہ الیکشن آتے ہی ڈرامے شروع۔

اسی طرح روہان احمد نے ایک امیدوار کی کامیابی کو یقینی قرار دیا۔

کچھ شہری ایک ہی شخص کے بار بار امیدوار ہونے پر نالاں ہیں۔