چینیوں کے صبر کا امتحان نہ لیں!

ای میل

5 ہزار سالوں تک چینی شہنشاہیتوں نے اپنے محکوموں کا استحصال کیا۔ اب پسے ہوئے طبقے کی یہ احسان لوٹانے کی باری ہے۔ اگر اپنے شاہی ماضی، ماضی کے جاہ و جلال کو یاد کرنے، یہاں تک کہ مطلق العنان حکمرانوں کو دیوتا کا درجہ دینے کی بات آئے تو چینی سابق سوویتوں سے کم نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ روسی اور چینی تاریخ ایک سطحی سی قبر میں دفن تھی اور اپنی قبر کشائی کا انتظار کر رہی تھی۔

1918ء کو اب ایک صدی گزر چکی ہے اور روسیوں نے زار نکولس دوئم اور ان کے خاندان کو بزرگ کا درجہ دے دیا ہے۔ انہوں نے کریملن اور (سینٹ پیٹرزبرگ کے باہر) زارکو سیلو کو مقبروں میں تبدیل کردیا ہے جہاں زار نکولس کے شاہی خاندان رومانوف کے زیرِ استعمال اشیاء کو نوادرات کے طور پر سجا کر رکھا گیا ہے۔

اگر چین کے پاس روسی آرتھوڈوکس چرچ کا کوئی متوازی چرچ ہوتا تو بیجنگ اور گوانگژو میں بھی عیسائی تقریبات ویسے ہی منائی جا رہی ہوتیں جیسے کہ ماسکو اور روس کے دیگر شہروں میں منائی جاتی ہیں۔ مگر چین نے بادشاہوں کی عبادت کو کمیونسٹ پارٹی سے وفاداری سے تبدیل کردیا ہے، بس اس میں جلانے اور اس جیسی دیگر سخت روایات شامل نہیں ہیں۔ چین میں عبادت گاہیں موجود ہیں جنہیں مٹھی بھر بدھسٹوں اور بوڑھے ہوتے ہوئے مسلمانوں نے آباد رکھا ہوا ہے۔

پڑھیے: پاکستان عالمی معاشی جنگ کا اکھاڑہ بن گیا، جیت کس کی ہوگی؟

چین خود کو ایک انتہائی عصبیت پرست ملک سے ایک جدید مقناطیس میں تبدیل کرنے میں کیسے کامیاب ہوا ہے؟ اس دھاتی کنول نے کیسے خود کو سیاحوں اور کاروباری افراد کی ایک فوج کے لیے کھولا ہے؟ ماؤ زے تنگ کی کمیونسٹ تعلیمات سے بلا چوں چرا وفاداری کو آخر کیا ہوا؟

اب اس عظیم رہنما کی تصویریں صرف تیانمن اسکوائر، میوزیمز یا پھر بیجز فروخت کرنے والے پتھاروں پر نظر آتی ہیں۔ وزیرِاعظم چو این لائی کے بارے میں پوچھیں تو آپ کے میزبان کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے۔ جدت پسند ڈینگ جیاؤ پنگ کے بارے میں بات کریں اور لوگوں کے چہروں پر تعریفی مسکراہٹ ابھرتے ہوئے دیکھیں اور صدر شی جن پنگ؟ شیوخ شاہی کے اندر 'زندگی بھر کے لیے' ان کا دوبارہ انتخاب سب کہہ دیتا ہے۔

کئی اقوام کی طرح چین کی کایا پلٹ کا سفر سیدھا یا پھر وقفے وقفے سے ہونے کے بجائے ایک ہی رفتار سے تمام سمتوں میں ہوا ہے۔ تعلیم، انفراسٹرکچر، صنعت، سماجی سہولیات، ایٹمی صلاحیت اور ٹیکنالوجی سمیت چین کے ہر حصے نے ایک ہی ساتھ ترقی پائی ہے اور ہر چیز کام بھی کرتی ہے پھر چاہے یہ ہر جگہ نظر آنے والے گرم پانی کے ڈسپنسر ہوں، دیوارِ چین کے بڈالنگ حصے میں کیبل کار ہو یا پھر سُپرمین کو بھی مات دے دینے والی رفتار سے چل رہی بلٹ ٹرینیں ہوں۔

چین کے شہر دوسروں کو شرما دینے کی حد تک صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ روسی شہروں کی صفائی ہر صبح جنگ کی وجہ سے بیوہ ہونے والی بوڑھی خواتین کرتی تھیں۔ چین کو 24 گھنٹے شفٹوں میں کام کرنے والے خاکروب بے داغ رکھتے ہیں۔

اکتوبر میں جب پورا چین ہفتہ بھر چھٹیوں پر ہوتا ہے اس ہفتے ہر روز دیگر شہروں سے ہزاروں لوگ (مقامی زیادہ، غیر ملکی کم) ممنوعہ شہر، ٹیمپل آف ہیون اور سمر پیلس میں گھومتے پھرتے نظر آئے۔ یہ لوگ 10 ہزار اوپر نیچے کو فرق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بھی کم از کم ڈھائی لاکھ لوگ تو ہوں گے۔ مگر پھر بھی ایک پرچی یا کچرے کا ایک ٹکڑا بھی کہیں بکھرا ہوا نظر نہیں آیا۔ صرف ایک جگہ ایک چھوٹا سا سرخ چینی پرچم نظر آیا۔ یہ دیکھ کر عظیم چینی وزیرِاعظم چو این لائی کی ایک مثال ذہن میں گھوم گئی۔ 1956ء میں کراچی کے دورے کے دوران انہوں نے سڑک پر ایک پاکستانی پرچم کو گرا ہوا پایا تو انہوں نے اسے اٹھایا، صاف کیا، چوما اور اپنی جیب میں اپنے دل کے قریب رکھ لیا۔ اب ایسے استاد کی کوئی کیوں پیروی نہ کرے؟

چین میں مکھیاں بھی ناکامیوں کی طرح ناپید ہیں۔ کچھ سالوں میں اسکول کے بچوں کو شاید مکھیاں بائیولوجی لیب میں کسی نابود نوع کی طرح دکھائی جائیں۔ بیجنگ، انر منگولیا میں ہوہوٹ اور یہاں تک کہ شیان کے مسلم علاقے میں قصائیوں کی کھلی دکانوں میں بھی 10 دن میں صرف ایک ہی مکھی نظر آئی۔ اسے بھی اب تک مار ہی دیا گیا ہوگا۔

مزید پڑھیے: خطے کی بدلتی صورتحال پاک چین تعلقات کے لیے آزمائش سے کم نہیں

جراثیم کشی اب صرف انفرادی رویہ نہیں بلکہ چینی قوم کے ڈی این اے میں شامل ہوچکی ہے۔ اگر چین میں کوئی چیز جبری ہے تو وہ شہری ترقی ہے۔ چینیوں نے کرین (کونج، طویل عمری اور امن کی علامت) کے روایتی تشخص کو مشینی کرین میں ڈھال دیا ہے جو کہ اب آسمانوں کو چھوتی لاتعداد بلند و بالا عمارتوں کی چھتوں پر نظر آتی ہیں۔

شیان کی مارکیٹ میں ایک پتھارے دار اسکولوں میں استعمال کے لیے قدیم کرنسی نوٹ فروخت کرکے پیسے کماتا ہے۔ اسے اب کوئی اور پراڈکٹ ڈھونڈ لینی چاہیے کیوں کہ اب پورا چین ہی ادائیگیاں موبائل فونز میں علی پے اور وی چیٹ کے ذریعے کرتا ہے۔ چینی آپس میں گوگل یا واٹس ایپ کی نظرداری میں آئے بغیر گفتگو کرتے ہیں۔

ایک 70 سالہ طویل اور غیر متوازن تعلق کے بعد بھی پاکستان کو چین کا بھائی قرار دیا جاتا ہے۔ چینی دانستہ طور پر زنگ کے نشانات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ سی پیک کو وہی کہا جاتا ہے جو کبھی شاہراہِ قراقرم کو کہا جاتا تھا، یعنی ہمارے دو ممالک کے درمیان ایک لافانی تعلق اور آگے کی جانب نہ رکنے والا اور نہ پیچھے ہٹنے والا سفر۔

چینی اتنے دانا اور تجربہ کار ہیں کہ انہوں نے پہلے ہی ہماری نئی حکومت کی جانب سے سی پیک کے مہنگے منصوبوں پر نظرِ ثانی کی پیش بینی کرلی ہوگی۔ انہوں نے پاکستان کو وہ منصوبے دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو وہ چاہتا ہے۔ اب وہ پاکستان کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اپنی ضروریات کا تعین کرے۔

چینیوں کو انتظار کرنے کی عادت ہے۔ انہوں نے ہانگ کانگ کو واپس لینے کے لیے 99 سال اور مکاؤ کی چین میں واپس شمولیت کے لیے 400 سال انتظار کیا۔ وہ اب بھی تائیوانی جزیرے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ چینیوں کا صبر تو اب محاورے کی صورت اختیار کرچکا ہے مگر اسے اپنا حق نہیں سمجھنا چاہیے، چھوٹے بھائی کو بھی نہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 4 اکتوبر 2018 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔