شہباز شریف کی گرفتاری، پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن کا ‘احتجاجی ایوان’

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2018

ای میل

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت اپوزیشن میں موجود دیگر پارلیمانی پارٹیز کے رہنماؤں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف احتجاجاً قومی اسمبلی کے باہر ‘فرضی ایوان‘ لگایا، جس میں مشترکہ طور پر 7 قرار دادیں منظور کرلیں۔

قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ایاز صادق نے ‘احتجاجی ایوان’ کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف توجہ دلاؤ ٹونس پیش کیا گیا۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف کی گرفتاری اور تاریخ کے ناخوشگوار واقعات

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپوزیش جماعتوں کے ارکان جمع ہوئے جنہوں نے حکومت مخالف بینرز اٹھا رکھے تھے۔

واضح رہے کہ نیب لاہور نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 5 اکتوبر کو صاف پانی اسکینڈل کے حوالے سے بیان کے لیے طلب کیا تھا جہاں انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل میں باضابطہ طور پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔

نیب کی جانب سے 6 اکتوبر کو شہباز شریف کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت سے ان کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی، تاہم عدالت نے 10 روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے شہباز شریف کو نیب کے حوالے کردیا تھا۔

پارلیمنٹ کے باہر ‘فرضی ایوان’ میں پیش کردہ قرارداد میں 54 دنوں میں 28 سو ارب روپے کا نقصان پہنچانے، حکومت کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو متنازع بنانے، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی کڑی شرائط مان کر قرض لینے سمیت دیگر کی مذمت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کی گرفتاری عمران خان کے ایما پر ہوئی، نواز شریف

اس حوالے سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ یہ ایوان تاریخی اہمیت کا حامل ہے، سب کو معلوم ہے کہ اداروں نے فیصلہ کیا کہ صدر، وزیر اعظم ارکان پارلیمنٹ اور سینیٹر کون ہوں گے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمارے صوبے میں ‘باپ’ پارٹی بنا کر بعض پارٹیوں کو توڑنے کا آغاز ہوا اور نواز شریف اور مریم کے خلاف فیصلہ دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ‘ اس عمل میں مصروف ہیں کہ ڈرا دھمکا کر فارورڈ بلاک بنایا جائے لیکن آج مقابلہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان ہے۔

مزید پڑھیں: گرفتاری کے بعد شہباز شریف کی پہلی پیشی

انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں نے انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کے اختیار اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین نیب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ نے نیب کی جانب سے شہباز شریف کے خلاف کیس کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ شہباز شریف پر رقم لینے کا کوئی الزام نہیں۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ احتجاج کی شنوائی نہ ہوئی تو احتجاج آگے بڑھے گا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بابر اعوان کے خلاف بھی انکوائری چل رہی ہے لیکن گرفتار نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا

سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو جنرل الیکشن کے لیے کال کوٹھری میں ڈالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘جیلیں ختم ہو جائیں گی مگر لوگ ختم نہیں ہو‍‍ں گے’۔

اس موقع پر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے پارلیمنٹ پر حملے کی بھی لائیو کوریج کی اجازت دی مگر تحریک انصاف کی حکومت نے پارلیمنٹ ہاؤس جانے سے روک دیا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔