فخر زمان کے لیے منزل اتنی آسان نہیں جتنا آغاز رہا

20 اکتوبر 2018

ای میل

فخر زمان ٹیسٹ کرکٹ میں بھی مثبت بیٹنگ کرتے ہیں اور ان کی کریز پر موجودگی مخالف ٹیم کے لیے دباؤ کی وجہ بنتی ہے۔
فخر زمان ٹیسٹ کرکٹ میں بھی مثبت بیٹنگ کرتے ہیں اور ان کی کریز پر موجودگی مخالف ٹیم کے لیے دباؤ کی وجہ بنتی ہے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ کرکٹ کے افق پر فخر زمان کی صورت میں ایک اور ستارہ ابھر رہا ہے۔ چیمپئنز ٹرافی میں شاندار و یادگار کارکردگی کی بنیاد پر فخر زمان ایک روزہ کرکٹ میں کسی حد تک تو اپنا لوہا منوا ہی چکے تھے لیکن ایشیا کپ میں بدترین کارکردگی کے بعد ایسا محسوس ہورہا تھا کہ شاید اب وہ کچھ طویل عرصے کے لیے ٹیم سے باہر ہوجائیں، لیکن حیران کن طور پر اس خراب کارکردگی کے باوجود بھی کپتان سرفراز احمد کے اعتماد کی بدولت نہ صرف وہ ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنے بلکہ موقع ملنے پر اس شمولیت کو کسی حد تک درست بھی ثابت کردیا۔

معاملہ یہ ہے کہ فخر زمان کو ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا ماہر سمجھا جاتا ہے اور ٹیم مینجمنٹ شاید ان کو ٹیسٹ کھلاتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار تھی بلکہ ایک موقعے پر تو انہیں متحدہ عرب امارات میں ہونے والی سیریز کے 18 رکنی اسکواڈ سے ڈراپ کرکے پاکستان واپس بھیجنے کے لیے پَر تول رہی تھی لیکن، کپتان کے اعتماد کے سبب ایسا نہ ہوسکا۔

پڑھیے: گاؤں میں پابندی سے ’فخر پاکستان‘ تک کا سفر

اگرچہ ٹیسٹ اسکواڈ میں فخر کا نام اب شامل تو کرلیا گیا تھا لیکن ان کے معاملے میں یہ ہی خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ اکثر نوجوان کھلاڑیوں کی طرح یہ بھی بغیر کھیلے ہی واپس آجائیں گے، مگر ان کا نصیب شاید کچھ زیادہ ہی اچھا تھا کیونکہ دبئی ٹیسٹ میں دونوں اننگز میں اچھی کارکردگی دکھانے والے امام الحق میچ کے آخری دن فیلڈنگ کے دوران زخمی ہوگئے، اور یہ انجری اس شدت کی تھی کہ اگلا میچ کھیلنا ان کے لیے ناممکن ہوگیا۔

اس صورتحال میں ٹیم مینیجمنٹ نے فخر زمان کو ابوظہبی ٹیسٹ میچ میں ڈیبیو کرنے کا موقع دیا اور اس موقعے کا فخر زمان نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں 50 رنز سے زیادہ رنز اسکور کرکے اپنا نام کرکٹ ریکارڈ کی کتابوں میں درج کروا لیا۔

چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف سنچری اسکور کرنے کے بعد فخر زمان سجدہ شکر ادا کرتے ہوئے
چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف سنچری اسکور کرنے کے بعد فخر زمان سجدہ شکر ادا کرتے ہوئے

فخرزمان پاکستان کے پہلے اوپنگ بلے باز ہیں جنہوں نے اپنے ڈیبیو ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں 50 رنز سے زیادہ رنز اسکور کئے ہیں۔ ان سے پہلے پاکستان کے 3 کھلاڑی اظہر محمود، یاسر حمید اور عمر اکمل یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں اظہر محمود کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اپنے اولین ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں ناٹ آؤٹ رہے تھے۔ اظہر محمود نے راولپنڈی کے مقام پر 1997ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے اپنے کیریئر کے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے ناقابلِ شکست 128 رنز بنائے تو دوسری اننگز میں انہوں نے ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے ناقابلِ شکست 50زنر بنا کر اپنی ٹیم کے سر پر چھائے ہوئے شکست کے بادلوں کو جیسے دُور ہی بھگادیا اور میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔

اپنے کیریئر کے پہلے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں 50 رنر یا اس سے زائد زنز بنانے والے پاکستانی کھلاڑیوں کی فہرست میں یاسر حمید دوسرے نمبر پر ہیں۔ یاسر حمید ویسٹ انڈیز کے لارنس رو (Lawrence Rowe) کے بعد دنیا کے دوسرے کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سنچری اسکور کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔

پڑھیے: فخر زمان نے ڈیبیو ٹیسٹ میں منفرد ریکارڈ اپنے نام کر لیا

یاسرحمید نے یہ کارنامہ بنگلہ ڈیش کے خلاف کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں 2003ء میں انجام دیا تھا۔ اس ٹیسٹ میچ میں تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے یاسر حمید نے پہلی اننگز میں 170 رنز اور دوسری اننگز میں 105 رنز کی زبردست اننگز کھیلی تھیں۔

عمر اکمل اس فہرست میں اپنا نام درج کروانے والے تیسرے پاکستانی کھلاڑی ہیں۔ عمر اکمل کے مسلسل منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے سبب کرکٹ کے شائقین ان کی صلاحیتوں کو بھول چکے ہیں۔ حالانکہ عمر اکمل پاکستان کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے ایشیا سے باہر اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میں سنچری اسکور کی ہے۔ نیوزی لینڈ کے میدان پر کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ میں پانچویں نمبر پر کھیلتے ہوئے عمر اکمل نے پہلی اننگز میں 129 زنز بنائے۔ اس اننگز میں انہوں نے اپنے بھائی کامران اکمل کے ساتھ مل کر 175 رنز کی شراکت بھی قائم کی تھی۔ دوسری اننگز میں عمر اکمل نے 75 رنز اسکور کئے تھے۔

اگرچہ عمر اکمل کی یہ کارکردگی پاکستان کو شکست سے تو نہیں بچا سکی لیکن ان کے درخشاں مستقبل کی نوید ضرور سنا گئی تھی۔ لیکن افسوس کہ عمر اکمل اپنی اس کارکردگی کو مستقل بنیادوں پر جاری نہیں رکھ سکے اور خراب کارکردگی و رویوں کی بنیاد پر آج ٹیم سے باہر بیٹھے ہیں۔

ان یادگار کارکردگی میں اب فخر زمان کا نام بھی شامل ہوگیا ہے جنہوں نے ابوظہبی ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کے خلاف بالترتیب 94 اور 66 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ جہاں فخر زمان کی یہ کارکردگی ان کے لیے اور ٹیم کے لیے اچھا پیغام ہے وہیں پریشان کن بھی۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ بھلا اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ تو معاملہ یہ ہے کہ فخر زمان سے پہلے کیریئر کا شاندار آغاز کرنے طویل عرصے تک قومی ٹیم کا حصہ نہیں رہ سکے، پھر چاہے بات ہو یاسر حمید کی یا عمر اکمل کی۔ اظہر محمود کو تو ان کی گیند بازی نے بچا لیا کیونکہ بیٹنگ میں ان کی کارکردگی بعد میں ویسی نہ رہی جیسا آغاز تھا۔ لیکن اس پریشانی کے باوجود کرکٹ کے ایک مداح کی حیثیت سے میں پُرامید ہوں کہ فخر زمان اپنی محنت اور مستقل مزاجی سے اس روایت کو تبدیل کرتے ہوئے طویل عرصے تک قومی ٹیم کا حصہ رہیں گے۔

چیمپیئن ٹرافی کے ہمراہ وطن واپسی کے بعد فخر زمان اپنے آبائی علاقے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے—فوٹو: ڈان نیوز
چیمپیئن ٹرافی کے ہمراہ وطن واپسی کے بعد فخر زمان اپنے آبائی علاقے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے—فوٹو: ڈان نیوز

ابوظہبی ٹیسٹ کی بات کریں تو اس ٹیسٹ میچ کے پہلے ہی دن قومی ٹیم اُس وقت شدید مشکلات میں گھر گئی تھی جب اس کے 5 کھلاڑی محض 57 رنز کے اسکور پر آؤٹ ہوچکے تھے۔ اس مشکل مرحلے میں فخر زمان نے اپنی ناتجربہ کاری کے باوجود کپتان سرفراز احمد کے ساتھ مل کر 157 رنز کی شراکت قائم کرکے ٹیم کو نہ صرف مشکلات سے نکالا بلکہ قابلِ عزت مجموعے تک بھی پہنچایا، اور یہی وہ شراکت داری تھی جس نے قومی ٹیم کی فتح کی بنیاد رکھی۔

جہاں ان کی یہ اننگ خوش آئند تھی، وہیں افسوسناک بھی کیونکہ وہ نروس نائنٹیز کا شکار ہونے والے پاکستان کے دوسرے اوپننگ بیٹسمین بن گئے۔ اس سے پہلے بدقسمتی کا شکار ہونے والے تسلیم عارف تھے جو بھارت کے خلاف 80-1979 میں کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز کے دوران کولکتہ کے مقام پر اپنے ٹیسٹ کیریئر کی اولین اننگز میں 90 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تھے۔ لیکن فخر زمان کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ بھارت سے تعلق رکھنے والے ماضی کے مایہ ناز اوپننگ بیٹسمین سنیل گواسکر بھی اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں نصف سنچری بنانے کے باوجود سنچری سے محروم رہے تھے، لیکن انہوں نے اس کمی پر مایوس ہونے کے بجائے آگے بڑھنے کی ٹھانی اور وہ کتنا آگے گئے، یہ تو پوری دنیا جانتی ہے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ فخر زمان مطمئن ہونے کے بجائے اپنی کمی اور کوتاہی کو دُور کرنے کی کوشش کریں اور یہ طے کرلیں کہ وہ مستقل بنیادوں پر اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹیم کا مستقل حصہ بننا چاہتے ہیں۔ یہی وہ ارادہ ہے جو انہیں مزید آگے بڑھنے کی ہمت اور حوصلہ فراہم کرتا رہے گا۔