گیزہ کے عظیم ہرم سے متعلق پیچیدہ ترین سوال کا جواب مل گیا

01 نومبر 2018

ای میل

گیزہ کا عظیم ہرم — شٹر اسٹاک فوٹو
گیزہ کا عظیم ہرم — شٹر اسٹاک فوٹو

مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دنیا کے قدیم عجائبات میں سے ایک ’گیزہ کے عظیم ہرم‘ کی تعمیر ہر دور میں انسانوں کے لیے ایک معمہ رہی ہے۔

گیزہ کے اس ہرم کی تعمیر کے حوالے سے ایک سوال سب سے زیادہ ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ آج سے تقریباً 4 ہزار سال قبل ٹیکنالوجی کا نام و نشان نہ ہونے کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں بہت بڑے پتھروں کو اس ہرم کی تعمیر کے لیے یہاں تک کیسے لایا گیا۔

مزید پڑھیں : گیزہ کے عظیم ہرم کا ایک اور اسرار سامنے آگیا

تاہم اب سائنسدانوں کو لگتا ہے کہ انہوں نے اس سوال کا جواب تلاش کرلیا ہے۔

قاہرہ کے فرنچ انسٹیٹوٹ فار اورینٹل آرکیالوجی اور برطانیہ کی لیورپول یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک مشرقی صحرا اور اہرام کے درمیان ایسا علاقہ یا راستہ دریافت کیا ہے، جہاں سے ممکنہ طور پر ان پتھروں کو یہاں پہنچایا گیا۔

سائنسدانوں نے ٹرانسپورٹ کا ایک بڑا نظام اس خطے ہتنب میں دریافت کیا ہے جو کہ ایک ریمپ اور 2 سوراخوں والی سیڑھیوں سے تیار کیا گیا۔

تحقیقی ٹیم نے اس حوالے سے بتایا کہ لکڑیوں کے پہیوں والی گاڑی یا سلیج کو پتھروں کے بلاک کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جاتا اور لکڑیوں کی پوسٹس پر رسیوں سے باندھ دیا جاتا، قدیم مصری ان پتھروں کو ڈھلان سے اوپر کھینچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

یہ وہ راستہ ہے جو سائنسدانوں نے دریافت کیا— فوٹو بشکریہ لائیو سائنس
یہ وہ راستہ ہے جو سائنسدانوں نے دریافت کیا— فوٹو بشکریہ لائیو سائنس

ٹیم کے مطابق اس طرح کا نظام دنیا کے کسی بھی حصے میں اب تک دریافت نہیں ہوسکا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نظام فرعون خوفو کے دوران پر کام شروع ہوا اور یہی وہ فرعون ہے جس نے گیزہ کا عظیم ہرم اپنے مقبرے کے طور پر تعمیر کروایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : براعظم انٹارکٹکا میں پر اسرار 'ہرم'

اگرچہ یہ واضح جواب نہیں مگر شواہد سے ان خیالات کو تقویت ملتی ہے کہ اس ہرم کی تعمیر کے لیے ریمپ سسٹم کو پتھروں کو اوپر پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

مگر پہلے یہ بات راز تھی کہ یہ نظام کام کس طرح کرتا ہے تاہم حالیہ دریافت سے اس معمے کو حل کرنے میں مدد مل سکے گی۔