ٹیسٹ کرکٹ میں قومی ٹیم کو درپیش اہم ترین مسائل

11 دسمبر 2018

ای میل

مسائل سے اگرچہ نمٹنا مشکل کام ہوتا ہے لیکن جب یہ مسائل ان گنت ہوجائیں تو صورتحال خراب سے خراب ترین ہوجاتی ہے اور ایسی ہی صورتحال کا سامنا آج کل قومی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں ہورہا ہے۔ خامیاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ سمجھ نہیں آرہا کہ پہل کہاں سے کی جائے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد یہ مسائل مزید گھمبیر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ صورتحال کس قدر خراب ہے اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ اس طرز کی کرکٹ میں نیوزی لینڈ نے 49 سالہ طویل انتظار کے بعد پاکستان کو ہوم گراؤنڈ میں شکست سے دوچار کیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مصباح الحق اور یونس خان کے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کو متحدہ عرب امارات میں دوسری مرتبہ ٹیسٹ سیریز میں شکست کی ہزیمت اُٹھانی پڑی۔ اس سے پہلے گزشتہ سال سری لنکا نے تو قومی ٹیم کو 2 میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کردیا تھا۔

پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں جن بڑے مسائل کا سامنا ہے، ان میں میری رائے کے مطابق اعتماد کی کمی، سست رفتار بیٹنگ اور سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان سرِفہرست ہیں۔

بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ پر بھی ایک روزہ کرکٹ کے اثرات منتقل ہو رہے ہیں۔ اکثر و بیشتر ٹیموں نے اس فارمیٹ میں بھی تیز رفتار بیٹنگ شروع کردی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر قابض بھارت نے گزشتہ 10 برسوں میں 84 ٹیسٹ میچوں میں 3.29 کی اوسط سے رنز بنائے۔ اسی طرح آسٹریلیا نے اس عرصے میں 86 ٹیسٹ میچوں میں 3.21 فی اوور کی اوسط سے رنز بنائے، لیکن اگر پاکستان کی بات کی جائے تو قومی ٹیم اس حوالے سے بہت پیچھے ہے اور اس نے اس عرصے میں 74 ٹیسٹ میچوں میں صرف 2.91 فی اوور کی اوسط سے رنز بنائے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں رنز بنانے کی رفتار کا جائزہ لیں تو پاکستان کی ٹیم اپنی سست رفتار بیٹنگ کی وجہ سے اس فہرست میں 10ویں نمبر پر ہے۔

پاکستانی ٹیم میں سب سے بڑی خامی متبادل حکمتِ عملی کا نا ہونا بھی ہے۔ ٹیم کی یکطرفہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ اسے ٹیسٹ میچ میں پہلے بیٹنگ کرنے کا موقع مل جائے۔ متحدہ عرب امارات میں تو ہم خاص طور پر اس حکمت عملی پر انحصار کرتے ہیں اور اگر ایسا نہیں ہوپاتا تو باؤلرز جتنی بھی اچھی کارکردگی پیش کریں لیکن بیٹسمین اپنی غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ سے اکثر و بیشتر ان کی ساری محنت ضائع کردیتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے رواں سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران ہوا جہاں پاکستانی بلے بازوں کی غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ کے باعث ٹیم کو 4 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست پر جہاں پوری بیٹنگ لائن قصور وار ہے وہاں میرے نزدیک اس کی زیادہ ذمہ داری اظہر علی اور اسد شفیق پر عائد ہوتی ہے۔

گزشتہ سال پاکستان کے 2 مایہ ناز کھلاڑیوں مصباح الحق اور یونس خان کی بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک عام خیال یہ تھا کہ ایک طویل عرصے سے قومی ٹیم کے ساتھ منسلک اظہر علی اور اسد شفیق اب سینئر کھلاڑیوں کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے تیار ہیں لیکن اب تک ایسا نہیں ہوسکا ہے۔

ابو ظہبی کے پہلے ٹیسٹ میچ میں اسد شفیق نے دونوں اننگز میں سیٹ ہونے کے بعد اپنی وکٹ گنوائی جبکہ اظہر علی میچ کی چوتھی اننگز میں آخری نمبرز کے بلے بازوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ وہ کسی بھی موقعے پر نہ باؤنڈری حاصل کرسکے اور نا ہی گیند کو 2 یا 3 رنز کے لیے گیپ میں کھیل سکے۔

اس ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں انہوں نے 22 رنز بنانے کے لیے 95 گیندوں کا سامنا کیا۔ نیوزی لینڈ کو پہلی اننگز میں 153 رنز کے مختصر اسکور پر آؤٹ کرنے کے باوجود بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ پر پاکستان کے بیٹسمین جس طرح دب کر اور ڈر کر کھیلے وہ ناقابلِ فہم تھا۔

یاسر شاہ کی شاندار باؤلنگ کے باعث پاکستان دبئی میں کھیلا جانے والا دوسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کرنے میں کامیاب ضرور رہا لیکن یہاں بھی بیٹسمین کافی زیادہ دب کر کھیلے۔ پاکستان نے 418 رنز بنانے کے لیے 167 اوورز کا سامنا کیا۔ حارث سہیل نے اس ٹیسٹ میں 313 گیندوں پر سینچری بنا کر پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں تیسری سست ترین سنچری بنائی۔

اس ٹیسٹ میچ کے پہلے دن پاکستان نے اتنی سست رفتاری سے بیٹنگ کی کہ ایک موقعے پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ قومی ٹیم پورے دن کے کھیل میں 200 رنز بھی نہیں بنا سکے گی، لیکن بالآخر دن کے اختتام تک 207 رنز کا مجموعی اسکور بنا لیا گیا جو اس میدان پر ٹیسٹ میچ کے پہلے دن بنایا جانے والا دوسرا کم ترین اسکور ہے۔

اگر پاکستانی بلے باز ہوم گراؤنڈ پر ہی مخالف باؤلرز کو اپنے اوپر یوں حاوی کرلیں گے اور خوف کے مارے سست رفتار بیٹنگ کرتے رہیں گے تو باہر جاکر ان کا کیا حال ہوگا؟ رواں ماہ قومی ٹیم کو جنوبی افریقہ کے خلاف اسی کی سزرمین پر 3 اہم ترین ٹیسٹ میچ کھیلنے ہیں، جہاں ان کا سامنا ڈیل اسٹین اور کیگیسو رباڈا جیسے مشکل ترین باؤلرز سے ہوگا۔ اگر بلے باز اپنے اعتماد کو بحال نہیں کریں گے تو نتیجہ ابھی سے نظر آرہا ہے، جو کسی بھی طور پر اچھا نہیں ہے۔

گزشتہ ماہ آسٹریلیا کے خلاف دبئی میں کھیلے جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ مہمان ٹیم کی شاندار بیٹنگ کہ وجہ سے ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ہی ختم ہوگیا۔ اس نتیجے کا کریڈٹ جہاں آسٹریلیا کی شاندار دفاعی بیٹنگ کو جاتا ہے جنہوں نے آخری دن ڈٹ کر پاکستانی گیند بازوں کا مقابلہ کیا وہیں قصور قومی ٹیم کے بلے بازوں کی سست رفتار بیٹنگ کا بھی ہے، جنہوں نے اتنا زیادہ وقت ضائع کیا کہ 5 دن بھی کم پڑگئے۔

قومی ٹیم نے اس ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے آخری سیشن میں صرف 55 رنز کا اضافہ کیا۔ عام طور پر آخری سیشن میں باؤلرز تھکن کا شکار ہوتے ہیں اور جو ٹیم کھیل کے آغاز سے بیٹنگ کر رہی ہو وہ آخری سیشن کا بھرپور فائدہ اُٹھاتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے بیٹسمین ایسا نہیں کرسکے۔

آسٹریلیا کے خلاف اس ٹیسٹ میچ میں محمد حفیظ کی طویل عرصے بعد قومی ٹیم میں واپسی ہوئی اور انہوں نے اس واپسی کا جشن ایک شاندار سینچری داغ کر منایا لیکن اس سینچری کے بعد اگلی 6 اننگز میں حفیظ صرف 66 رنز ہی اسکور کرسکے۔ محمد حفیظ 15 سال سے زائد عرصے سے ٹیم کے ساتھ منسلک تھے لیکن آخر تک ان کی کارکردگی تسلسل سے عاری تھی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف حال ہی میں ختم ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے بعد محمد حفیظ نے اپنی خراب کارکردگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اچھا فیصلہ کیا۔

مستقبل میں پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر زیادہ بہتر حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ ہوم گراؤنڈ پر جیت کر ٹیموں کو بیرونِ ملک دوروں کے لیے اعتماد ملتا ہے۔ پاکستان کے کھلاڑیوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ میچوں کے لیے تیار کی گئی وکٹیں ایشیائی روایتی وکٹوں کے برخلاف 5ویں دن بھی بہت زیادہ خراب نہیں ہوتیں اور اس کا ثبوت یہاں کھیلے جانے والے وہ متعدد ٹیسٹ میچ ہیں جن میں ٹیموں نے چوتھی اننگز میں بھی 100 سے زیادہ اوورز کھیلے ہیں۔

اظہر علی
اظہر علی
اسد شفیق
اسد شفیق

اس ضمن میں ایک اور مثال پاکستان اور انگلینڈ کے مابین دبئی میں کھیلے جانے والے 2015ء کے ٹیسٹ میچ کی بھی ہے، جہاں انگلینڈ نے چوتھی اننگز میں 137.3 اوورز کھیل کر پاکستان کو ایک یقینی فتح سے تقریباً محروم کردیا تھا۔

عادل رشید مشکل وقت پر بیٹنگ کے لیے آئے تھے اور یوں لگ رہا ہے جیسے بس میچ ختم ہی ہونے والا ہے مگر وہ 50 اوورز تک ایک چٹان کی طرح پاکستان کے باؤلرز کے آگے کھڑے رہے اور اس دوران انہوں نے 172 گیندوں کا سامنا کیا۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین اکتوبر 2016ء میں دبئی کے میدان میں کھیلے جانے والے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے جیت کے لیے درکار 346 رنز کے تعاقب میں 109 اوورز تک مزاحمت کی اور ایک موقعے پر ڈیرن براوو اور جیسن ہولڈر کی 23 اوورز پر محیط 69 رنز کی شراکت نے ویسٹ انڈیز کی جیت کی امید بھی پیدا کردی تھی لیکن ایک طویل جدوجہد کے بعد پاکستان ٹیسٹ میچ کے آخری گھنٹے میں میچ جیت گیا۔

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جہاں مہمان ٹیموں نے متعدد موقعوں پر کھیل کے آخری دن اپنی مزاحمتی بیٹنگ سے پاکستان کو پریشان کیا ہے وہیں پاکستانی ٹیم میزبان ہونے کے باوجود کسی بھی موقعے پر مزاحمتی بیٹنگ نہیں کرسکی بلکہ ہر مرتبہ ریت کی دیوار ثابت ہوئی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں بھی پاکستان کی بیٹنگ 3 مرتبہ ناکامی کا شکار ہوئی۔

پاکستان کی سست رفتار بیٹنگ نے جہاں پاکستان کی جیت میں رکاوٹ پیدا کی وہیں یہ حکمتِ عملی متعدد موقعوں پر شکست کی وجہ بھی بنی ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کے مابین گزشتہ سال کھیلے گئے ابوظہبی ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 422 رنز بنانے کے لیے 162.3 اوورز کا سامنا کیا۔ میچ کے تیسرے دن بیٹنگ کے لیے سازگار پچ پر اپنی پہلی اننگز میں مخالف ٹیم سے دب کر کھیلنے کے باعث پاکستانی بلے باز سری لنکن باؤلرز کے دباؤ میں آگئے اور پہلی اننگز کے اسی دباؤ کے باعث قومی ٹیم کھیل کے آخری روز جیت کے لیے درکار 136 رنز جیسے کم ترین ہدف کو بھی حاصل نہیں کرسکی۔

متحدہ عرب امارات پاکستان کا ہوم گراؤنڈ ہے۔ ان میدانوں پر پاکستان نے گزشتہ 10 سالوں میں 12 ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں جن میں سے قومی ٹیم نے 6 سیریز جیتیں جبکہ 2 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جیت کے ضمن میں اس مثبت پہلو کے باوجود پاکستان کی بیٹنگ یہاں پر کئی بار ناکامی کا شکار ہوکر اپنی مخالف ٹیم کو کھیل میں واپس آنے کا موقع فراہم کرتی رہی ہے۔

قومی ٹیم اگر خود کو ٹیسٹ کرکٹ کی ایک مضبوط ٹیم کے طور پر منوانا چاہتی ہے تو اس کو تسلسل کے ساتھ اچھی کارکردگی دکھانی پڑے گی۔ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل لانے کے لیے اسد شفیق اور اظہر علی کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو پا رہا۔ اسد شفیق نے ڈھائی سال کے عرصے میں 29 اننگز میں صرف 2 مرتبہ سینچری اسکور کی ہے۔ اسد شفیق گزشتہ 2 مہینوں میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلی جانے والی سیریز میں کئی بار ناکامی کا شکار ہوئے۔

اظہر علی نے بھی گزشتہ 20 اننگز میں ایک بھی ٹیسٹ سینچری نہیں بنائی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف حال ہی میں ختم ہونے والی سیریز میں اظہر علی نے 307 رنز تو ضرور بنائے ہیں لیکن وہ سیریز کے پہلے اور تیسرے ٹیسٹ میچ میں مشکل وقت پر بطور سینئر کھلاڑی کا اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں اظہر علی 2 ہزار 488 رنز بنا کر سب سے اوپر ہیں جبکہ اسد شفیق ایک ہزار 939 رنز اسکور کرکے اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ ان کھلاڑیوں نے اپنے زیادہ تر رنز مصباح الحق اور یونس خان کے زیرِ سایہ اسکور کیے ہیں۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی بیٹنگ لائن میں موجود یہ دونوں سینئر کھلاڑی احساسِ ذمہ داری اور تسلسل کے ساتھ کارکردگی پیش کرکے جونیئر کھلاڑیوں کے لیے مثال قائم کریں اور اگر یہ کھلاڑی اپنی کارکردگی بہتر کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو کرکٹ بورڈ کو ان کی جگہ کسی نوجوان کھلاڑی کو موقع دینا چاہیے۔

کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ٹیم مینجمنٹ کا احتساب بھی ہونا چاہیے۔ گرانٹ فلاور ایک طویل عرصے سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ ہیں لیکن وہ پاکستان کے بلے بازوں کی خامیاں دُور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کرکٹ بورڈ کو بیٹنگ کوچ کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے اور اگر ان کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے تو ان کی تبدیلی کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔

پاکستان کو اب جنوبی افریقہ کا ایک مشکل دورہ کرنا ہے جہاں بیٹنگ لائن کا سارا بوجھ اظہر علی اور اسد شفیق کے کاندھوں پر ہوگا۔ یہ دونوں کھلاڑی جنوبی افریقہ میں کھیلنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ اسد شفیق تو جنوبی افریقہ کے گزشتہ دورے میں کیپ ٹاؤن کے مقام پر ٹیسٹ میچ میں سینچری بھی اسکور کرچکے ہیں۔

موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے لگ تو یوں رہا ہے کہ قومی ٹیم کے لیے ٹیسٹ میچ جتنا تو ’کے ٹو‘ سر کرنے جیسا مشکل ہے ہی، لیکن باعزت شکست کے لیے بھی بیٹنگ لائن کو انتہائی سنجیدگی سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی۔

آخر میں بس اتنا ہی کہ کرکٹ بورڈ مختصر فارمیٹ کی کرکٹ میں ملنے والی کامیابیوں کے نتیجے میں ٹیسٹ کرکٹ کو نظر انداز کرنے کی اپنی روش کو ترک کرے اور اس فارمیٹ میں ٹیم کی بہتری کے لیے پوری توجہ کے ساتھ کام کرے تاکہ اس فارمیٹ میں بھی قومی ٹیم تسلسل کے ساتھ کامیابیاں حاصل کرکے ملک کا نام روشن کرے اور اپنے مداحوں کو خوشی کے لمحات فراہم کرسکے۔