سائنسدان مونا لیزا کا ایک اور 'اسرار' جاننے میں کامیاب

09 جنوری 2019

ای میل

— فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
— فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

اگر مصوری کی دنیا کی بات کی جائے تو اطالوی مصور لیونارڈو ڈی ونچی کی پینٹنگ مونا لیزا مقبول ترین قرار دی جاسکتی ہے۔

یہ پینٹنگ 1516 میں مکمل ہوئی تھی اور صدیوں سے لوگوں کے اندر یہ تجسس موجود ہے کہ آخر تصویر میں دکھائی جانے والی خاتون کی پراسرار مسکراہٹ کے پیچھے کیا راز چھپا ہے۔

مگر مونا لیزا کی صرف مسکراہٹ ہی ایک راز نہیں بلکہ اس تصویر میں ایک اور اسرار بھی چھپا ہوا ہے اور وہ ہے خاتون کی آنکھیں۔

مزید پڑھیں : صدیوں بعد مونا لیزا کی پینٹنگ کا 'راز' کھل گیا

ایسا مانا جاتا ہے کہ مونا لیزا کی آنکھیں لوگوں کا پیچھا کرتی ہیں اور اسے مونا لیزا ایفیکٹ کا نام دیا گیا ہے اور اب سائنسدانوں نے اس کے پیچھے چھپی حقیقت ڈھونڈ نکالی ہے۔

جرمنی کی بائیلیفیلڈ یونیورسٹی نے مونا لیزا ایفیکٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے جاننے کی کوشش کی کیا واقعی مونا لیزا کی آنکھیں تصویر کے سامنے گزرنے والے افراد کو ٹریک کرتی ہیں؟

فوٹو بشکریہ بائیلیفیلڈ یونیورسٹی
فوٹو بشکریہ بائیلیفیلڈ یونیورسٹی

اس کا جواب محققین نے کچھ الفاظ میں دیا ' لوگ اس بات کو بھانپنے میں کامیاب رہتے ہیں کہ دیگر انہیں گھور رہے ہیں یا نہیں'۔

جریدے جرنل آئی پریسیپشن میں شائع مقالے میں محققین نے بتایا کہ مونا لیزا ایفیکٹ اس وقت لوگوں پر اثرانداز ہوتا ہے جب کوئی فرد اس کا فوٹوگراف یا حقیقی پینٹنگ کو سامنے دیکھتا ہے۔

اس ایفیکٹ کو جانچنے کے لیے تحقیقی ٹیم نے مونا لیزا کا چہرہ ایک کمپیوٹر اسکرین میں ڈسپلے کیا اور رضاکاروں پر تجربہ کیا کہ یہ پینٹنگ انہیں گھورتی ہے یا نہیں۔

انہوں نے دریافت کیا کہ تصویر کو دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ مونا لیزا کی نظریں دائیں جانب گھور رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ’مونا لیزا‘ کی تخلیق آنکھوں کی بیماری کا کرشمہ؟

محققین نے نتائج میں بتایا ' ہم اپنے تجربے کے بعد کہہ سکتے ہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ تصویر لوگوں کی حرکت کو ٹریک کرتی ہے اور یہ دعویٰ غلط ہے، درحقیقت مونا لیزا دیکھنے والوں کو نہیں گھور رہی ہوتی'۔

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

یہ پینٹنگ صدیوں سے فنکاروں، عالموں، طبی ماہرین اور چوروں کو مسحور کررہی ہے اور ایک امریکی تحقیق کے مطابق اس تصویر میں جلد پر جو زردی نظر آتی ہے وہ تھائی رائیڈ کے اس مرض میں عام ہے۔

اس کے علاوہ بھنوؤں کی عدم موجودگی بھی اس تشخیص کو تقویت فراہم کرتی ہے کیونکہ اس مرض میں بال گرنے لگتے ہیں۔