افسانہ : دو بوڑھے اور بارش کی دعا

06 فروری 2019

ای میل

’میرے پوتے، میرے پیارے‘

’تم آگئے۔ بہت خوشی ہوئی تمہیں دیکھ کر۔ تم شاید ابھی اس خوشی کا اندازہ نہ کرسکو جو اس اجنبی گھر میں تمہیں ہر اتوار دیکھ کر مجھے ہوتی ہے۔ مجھے اب کوئی کام ہی نہیں ہوتا، زندگی کے اس سفر میں، میں اس دوراہے پر ہوں جہاں سوائے انتظار کے مجھے کوئی کام نہیں ہوتا۔ بھری دنیا میں میرے پوتے تم میری تنہائی کے احساس کو کم کردیتے ہو‘

’میں سمجھ سکتا ہوں‘۔ پوتے نے کہا

’نہیں میرے پوتے، تم ابھی نہیں سمجھ سکتے، سنی سنائی بات اور بیتی بتائی بات میں فرق ہوتا ہے۔ جو بیتی نہیں اس کا بیان ممکن تو ہے لیکن اس درد اور کرب کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، اور تمہیں یہ درد ابھی محسوس بھی نہیں کرنا چاہیے تم ابھی صرف میری باتیں سنو۔‘

’کیا تم میری باتیں سن سکتے ہو؟‘

’میرے پوتے میرے پیارے کیا تم سن سکتے ہو؟‘

’کچھ دیر یہاں بیٹھ سکتے ہو؟‘

’ہاں، ہاں مجھے معلوم ہے کہ تم مصروف ہو اور مجھے فرصت ہی فرصت ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس عمر میں جس میں ابھی تم ہو، وقت ہی نہیں ہوتا، میں یہ عمر گزار چکا ہوں‘

’دادا آپ کے پاس ایسی کیا بات ہے کہ جس کو سن کر مجھے کچھ فائدہ ہوگا؟‘ پوتے نے پوچھا

’میرے پوتے میرے پیارے، ہر کام فائدے اور نقصان کے حوالے سے نہیں دیکھتے۔ زندگی میں کچھ باتیں بغیر مطلب اور بغیر صلے کے بھی کرنی چاہئیں۔ تم اپنے باپ کی طرح ہر چیز کو فائدے نقصان کے حوالے سے مت دیکھا کرو‘

’دادا میرے پاس ایک گھنٹہ ہے، میں آپ کی ساری باتیں سن سکتا ہوں‘

’ایک گھنٹہ؟ میرے پوتے میرے پیارے، 75 سال کی ساری کہانی ایک گھنٹے میں کیسے بیان ہو؟‘

’میرے پاس عمر بھر کی کہانیاں ہیں، کچھ انتہا کی دلچسپ، کچھ بے انتہا دکھی۔ کچھ ایسے ہی چھوٹی چھوٹی باتیں جو ناجانے عمر کے اس حصے میں مجھے کیونکر یاد آنے لگی ہیں۔ میرا حافظہ بہت کمزور ہوگیا ہے۔ کل رات کھانے میں کیا کھایا تھا، مجھے یاد نہیں لیکن جانے کیوں میں سمجھ نہیں سکتا کہ مجھے بچپن کے کئی قصے یاد آنے لگے ہیں، بہت چھوٹے چھوٹے قصے بھی۔‘

’جیسے میں 11 سال کا تھا جب مسٹر ٹیلر ہمارے پڑوس میں آئے وہ ایک بے انتہا غصے والے پولیس انسپکٹر تھے۔ گلی کے سارے بچے ان سے ڈرتے تھے۔ اس عمر میں مجھے ناجانے کیوں مسٹر ٹیلر کی بہت سی باتیں یاد آنے لگی ہیں، حالانکہ مجھے اب اس عمر میں، مسٹر ٹیلر سے نہیں ڈرنا چاہئیے۔ ہیں نا؟‘

’اوہ میں یہ کیا قصہ لے بیٹھا‘

’چلیں میں ہی کوئی قصہ پوچھ لیتا ہوں۔ دادا آپ کا پسندیدہ مشغلہ کیا تھا؟‘

’میرے پوتے میں خواہشوں کا اسیر تھا۔ میں خواہشوں کے پیچھے دوڑنے کا کام کرتا تھا، اس عمر بھر کی دوڑ اور تھکان کے بعد مجھے معلوم ہوا ہے کہ سارا سفر رائیگانی تھا‘

’تو آپ نے خواہشات ترک کردینی تھیں‘

’میں نے کہا نا کہ خواہشوں کا اسیر تھا، خواہشوں کا اسیر آدمی انجام پر نظر نہیں رکھتا وہ حال کو درست کرتے کرتے تھک جاتا ہے اور حال بھی وہ کہ جس نے کبھی ٹھیک نہیں ہونا‘

’لیکن دادا یہ تو اچھی بات ہے انسان کو ترقی کرنی چاہئیے‘

’میرے پیارے، میں ترقی کے خلاف نہیں ہوں میں نے اس عمر بھر کے سفر سے یہی سیکھا ہے کہ انسان کی خواہشات کبھی بھی ختم ہونے والی نہیں ہیں۔ ہر منزل پر پہنچ کر انسان یہ سوچتا ہے کہ یہ تو وہ منزل ہی نہیں کہ جس کی اسے تلاش تھی۔ یہ تو بس راستے ہی کا ایک حصہ تھا سو سفر پھر سے شروع ہوجاتا ہے۔ کوئی منزل، منزل نہیں رہتی۔ خوش نصیب لوگ ہی حال پر خوش رہتے ہیں۔‘

’ڈیڈی آپ سے کیوں نہیں ملتے‘، پوتے نے پوچھا

’آہ، مجھے نہیں معلوم اور مجھے اس پر حیرت بھی نہیں کیونکہ اس دیس میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مجھے تو حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ تم میرے پوتے اتنے اچھے ہو کہ ہر اتوار یہاں آتے ہو، میری تنہائی کچھ تو کم ہوتی ہے۔‘

’یہاں اس گھر میں، مَیں ان خوش نصیب لوگوں میں ہوں کہ جن سے ان کا کوئی عزیز ملنے آتا ہے، ورنہ یہاں کچھ لوگوں سے تو برسوں سے کوئی ملنے نہیں آیا۔ تم کھڑکی سے باہر مسٹر فرگوسن کو دیکھ رہے ہو، یہ محکمہ ڈاک میں بڑے آفیسر تھے اب ریٹائرمنٹ کے بعد پچھلے 5 سال سے وہ اس اولڈ ایج ہاؤس میں مقیم ہیں۔ ‘

’دادا وہ تو بڑے آدمی تھے ان سے تو بہت لوگ ملنے آتے ہوں گے؟‘ پوتے نے پوچھا

’میرے پوتے، تم ابھی عمر کے اس حصے میں ہو اور جس انداز سے لوگوں کو اور اس دنیا کو دیکھتے ہو اس میں تجربے کی کمی ہے۔ تم ابھی جسے حقیقت سمجھ رہے ہو وہ حقیقت کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ کافی عرصے سے مسٹر فرگوسن سے کوئی ملنے نہیں آیا‘

’میرے پوتے، تنہائی سب کے لیے اذیت ناک ہے لیکن ایک باتونی اور زندہ دل آدمی کے لیے تنہائی موت ہے، یہاں موجود تمام لوگوں نے مسٹر فرگوسن کی زندگی کے تمام اہم اور غیر اہم قصے کئی کئی بار سن لیے ہیں سو جب انہوں نے انسانوں کی غیر دلچسپی کو محسوس کیا تو پودوں اور پھولوں سے دل لگالیا۔‘

’دادا پودے تو سب کو پسند ہوتے ہیں‘

’ہاں لیکن مسٹر فرگوسن کی بات مختلف ہے۔ ٹھہرو میں سمجھاتا ہوں۔‘

’مسٹر فرگوسن‘

’مسٹر فرگوسن‘ دادا نے چلاکر پکارا۔

مسٹر فرگوسن جو پودوں سے ناجانے کیا بات کررہے تھے چونک کر کھڑکی کی جانب دیکھنے لگے۔

’اوہ ویلیم، میرے دوست کیسے ہو؟‘

’میں ٹھیک ہوں میرے دوست، آپ کے پودوں کا کیا حال ہے؟ مسٹر تھامس بتا رہے تھے کہ آپ کے پودے کچھ بیمار ہیں۔ ایسا کیا ہوگیا انہیں میرے پیارے دوست‘

مسٹر فرگوسن یکدم پریشان کن حد تک سنجیدہ ہوگئے۔

’ہاں ویلیم کچھ پودے واقعی کل سے مرجھائے مرجھائے لگ رہے ہیں۔ میں جو بات بھی کرتا ہوں بس چپ کھڑے ہوکر سنتے ہیں، پہلے ایسا نہیں تھا۔ پہلے پہل تو وہ میری باتیں سن کر جھومتے بھی تھے، مگر اب ایسا نہیں ہے۔ لیکن ویلیم میرے دوست میں جانتا ہوں پودے انسان نہیں ہوتے یہ بلاوجہ ناراض نہیں ہوتے، سو ان کی کوئی ضرور مجبوری ہوگی۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ بارش کی جدائی میں اداس ہیں، جونہی موسم بدلے گا یہ پہلے کی طرح ہوجائیں گے۔ خوش ہوں گے تو میری باتیں سن کر جھومیں گے۔ مسٹر ویلیم تم بس بارش کے لیے دعا کرو‘

’مسٹر ویلیم میرے دوست، تم دعا کرو گے نا‘؟

’ہاں ہاں کیوں نہیں میرے دوست میں ضرور بارش کے لیے دعا کروں گا کہ جلد بارش ہو اور تمہارے پودے پھر تم سے باتیں کرنے لگیں۔‘

’شکریہ میرے دوست‘ مسٹر فرگوسن نے کہا۔

’دادا کیا مسٹر فرگوسن پاگل ہیں؟‘ پوتا جو حیرت سے مسٹر فرگوسن کی باتیں سن رہا تھا، اچانک بول پڑا۔

’نہیں میرے پوتے ہرگز نہیں وہ بہت زندہ دل اور باتونی شخص ہیں وہ تنہا نہیں رہ سکتے۔ ان کے پاس بہت سے قصے ہیں ساری عمر کے قصے سو کسی نا کسی کو تو سنانے ہیں چاہے وہ پودے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ مسٹر فرگوسن اکیلے کی کہانی نہیں ہے میرے پوتے یہاں موجود ہر شخص ایک کندھا ڈھونڈھ رہا ہے کہ کوئی ایسا ہو جو ان کے دکھ درد بانٹ نہ بھی سکے تو کم از کم سن تو لے۔ تمہاری وجہ سے میرے پوتے میں خوش نصیب ہوں کہ میں ایسا نہیں ہوں۔‘

ایک ہاتھ میں چھڑی اور ایک ہاتھ میں اخبار تھامے مسٹر جانسن کمرے میں داخل ہوئے۔

’مسٹر ویلیم کیا آج سیر کو نہیں جانا؟ اوہ آج تو اتوار ہے اور تمہارا پوتا آیا ہوا ہے سو شاید تم نہیں آؤ گے‘

’کیسے ہو نوجوان؟‘ مسٹر جانسن نوجوان کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کچھ سوچنے لگے، اور پھر کہا۔

’میں کافی عرصے سے اپنے گھر والوں سے نہیں ملا لیکن میرا خیال ہے کہ میرا پوتا تمہاری ہی عمر کا ہوگا، کیوں مسٹر ویلیم میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟‘ جانسن نے مسٹر ویلیم سے استفسار کیا۔

’جی مسٹر جانسن آپ کا پوتا اتنی ہی عمر کا ہوگا‘

’لیکن مسٹر ویلیم ہوسکتا ہے وہ 2 ہوں، یا شاید ایک۔ اوہ ہو مجھے واقعی ان سے اور میرے پوتوں کو مجھ سے ضرور ملنا چاہیے۔ اس بار میرا بیٹا اینڈی آئے گا تو میں اس سے کہوں گا کہ وہ اگلی بار میرے پوتوں کو بھی ساتھ لائے، کیوں مسٹر ویلیم میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟‘

’جی بالکل آپ کو اینڈی سے ضرور کہنا چاہیے‘

’میں کہوں گا اسے، میں ضرور کہوں گا۔ تو آج میں اکیلا ہی سیر کو جارہا ہوں‘ اور مسٹر جانسن کمرے سے باہر چلے گئے۔

’دادا، ان کا بیٹا اینڈی آخر کب آئے گا؟ یہ ہر ہفتے یہی بات کہتے ہیں۔‘

’میرے پوتے، اینڈی آخری بار 10 سال پہلے انہیں یہاں چھوڑنے آیا تھا‘

’اوہ 10 سال تو بہت زیادہ ہوتے ہیں‘

’10 سال سے یاد آیا، دادا مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے۔ شاید آپ کو خوشی ہو لیکن میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔ وہ میرا اوہائیو یونیورسٹی میں داخلہ ہوگیا ہے اور میں 2 سال کے لیے اوہائیو جارہا ہوں لیکن آپ پریشان نہ ہوں، میں ہر 6 ماہ بعد آپ سے ملنے ضرور آؤں گا‘

’دادا؟‘

’دادا‘

’آپ میری بات سن رہے ہیں؟‘

’دادا بات سنیں، میں ضرور آؤں گا میرا یقین کریں، آپ کچھ تو بولیں‘

دادا زیرِلب بڑبڑا رہے تھے

’2 سال، 6 مہینے، انتظار، تنہائی۔‘

دادا تیزی سے کھڑکی کی جانب مڑے اور چلاتے ہوئے بولے

’مسڑ فرگوسن‘

’مسٹرفرگوسن‘

’آئیں مل کے بارش کے لیے دعا کریں‘