کروڑوں سال پہلے مرجانے والی مکڑیوں کی 'زندہ آنکھیں'

18 فروری 2019

ای میل

یہ آنکھیں اس طرح جگمگاتی ہیں — فوٹو بشکریہ کنساس یونیورسٹی
یہ آنکھیں اس طرح جگمگاتی ہیں — فوٹو بشکریہ کنساس یونیورسٹی

کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ 11 کروڑ سال پہلے مرجانے والے ایک جاندار کی آنکھیں اب بھی کسی طرح کام کررہی ہوں؟

کم از کم کوریا میں ایسا ہی حیرت انگیز واقعہ سامنے آیا ہے۔

درحقیقت کوریا میں 11 کروڑ سال پہلے مرجانے والی مکڑیوں کے فوسلز کو دریافت کیا گیا ہے اور سائنسدان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ 8 ٹانگوں والی اس مخلوق کی آنکھیں اب بھی عکس واپس پلٹ رہی ہیں۔

عام طور پر چٹانوں میں کروڑوں سال کے لیے محفوظ ہوجانے والی مکڑیاں دیکھنے میں نہیں آتیں کیونکہ یہ جاندار خول والی سمندری مخلوق کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہوتا ہے۔

مگر نامعلوم وجوہات کی بناءپر فوسلز بن جانے والی یہ مکڑیاں دریافت ہوئی ہیں اور ان کی آنکھوں کی منفرد ساخت تاحال روشنی میں جگمگا رہی ہیں۔

اس طرح کی ساخت کو ٹیپ ٹم کہا جاتا ہے اور اسے وہ جاندار استعمال کرتے ہیں جو تاریکی میں شکار کرتے ہیں۔

کنساس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کروڑوں سے محفوظ ان مکڑیوں کو دریافت کیا اور ان کا کہنا تھا کہ رات کو شکار کرنے والے جانداروں کی آنکھیں مختلف طرح کی ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہم نے ٹیپ ٹم کو کسی فوسل زدہ جاندار میں دریافت کیا ہے۔

آج کے دور میں وولف اسپائیڈرز میں آنکھوں کی ساخت ایسی ہی ہے۔

مگر یہ اسرار ابھی تک حل نہیں ہوسکا کہ یہ مکڑیاں پتھر کا حصہ کیسے بن گئیں، اس طرح کے پتھر زدہ اجسام مچھلیوں اور دیگر سمندری مخلوقات کے تو دریافت ہوئے ہیں مگر مکڑیاں پانی میں نہیں گھومتیں۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کوریا میں زمینوں کو اکثر عمارات کی تعمیر کے لیے کاٹ دیا جاتا ہے اور اسی طرح یہ فوسلز دریافت ہوئے۔