تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمان کے اندر نماز کی ادائیگی

اپ ڈیٹ 06 مارچ 2019

ای میل

مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے کی امامت میں نماز ادا کی۔گئی—فوٹو: ڈان نیوز
مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے کی امامت میں نماز ادا کی۔گئی—فوٹو: ڈان نیوز

قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا اسعد محمود نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے متنازع بیان کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اسپیکر کے ڈائس کے سامنے نماز ادا کروا دی۔

قومی اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ پارلیمان کے اندر ہی اسپیکر کے ڈائس کے سامنے نماز ادا کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے پر آرمی چیف کو سراہتے ہیں، بلاول بھٹو

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے فنانس بل پیش کیے جانے پر اپوزیشن کا احتجاج جاری تھا۔

اس دوران جے یو آئی (ف) کے رہنما اسعد محمود نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کیا اور کہا کہ ’ہم گزشتہ 2 روز سے فیصل واوڈا کے بیان کے خلاف قرارداد مذمت پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم آپ نے پیش کرنے کا موقع نہیں دیا‘۔

جس کے بعد اسعد محمود نے اسد قیصر کی اجازت کے بغیر ہی قرارداد پڑھنا شروع کردی۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے اعتراض اٹھایا کہ ’اس طرح قرارداد پیش نہیں کی جا سکتی، اس کے لیے پہلے نوٹس دینا ضروری ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ’سیکیورٹی رسک نہیں کہا‘

اسپیکر نے قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی اور مائیک وزیر خزانہ اسد عمر کو دے دیا گیا۔

اسپیکر کی جانب سے مذکورہ ردعمل کے نتیجے میں جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا اسعد محمود اسپیکر کی ڈائس کے سامنے ہی امامت کے لیے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے نماز مغرب کی جماعت شروع کردی۔

بعد ازاں جے یو آئی کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے بھی مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے کی امامت میں نماز ادا کی۔