مریم نواز کا نواز شریف کیلئے جیل میں 'لائف سیونگ یونٹ' بنانے کا مطالبہ

ای میل

اسلام آباد ہوئی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی—فائل/فوٹو:اے پی
اسلام آباد ہوئی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی—فائل/فوٹو:اے پی

سابق وزیراعظم نواز شریف نے بگڑتی صحت کے باوجود ہسپتال منتقل ہونے سے انکار کے بعد ان کی صاحبزادی مریم نواز نے جیل حکام سے لائف سیونگ یونٹ قائم کرنے کی درخواست کردی۔

مریم نواز نے نواز شریف سےملاقات کے بعد ٹویٹر میں اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت کی جانب سے معائنے کے لیے بھیجے گئے کارڈیالوجسٹ کے مطابق سابق وزیراعظم کے دل کی بیماری ‘بگڑ’ چکی ہے۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ‘میں نے جیل حکام سے درخواست کی ہے کہ جیل کی حدود میں فوری طور پر طبی امداد اور لائف سیونگ یونٹ قائم کیا جائے’۔

سابق وزیراعظم کو طبی سہولت پر بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘تین مرتبہ کے وزیراعظم، بڑی جماعت اور لاکھوں افراد کے قائد اس کے مستحق ہیں’۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے انکشاف کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے حکومت پنجاب کو ہدایت کہ وہ نواز شریف کا ان کی مرضی کے ہسپتال اور ڈاکٹرز تک رسائی دی جائے۔

مزید پڑھیں:علاج کی بھیک مانگی نہ مانگوں گا، نواز شریف کا ہسپتال جانے سے پھر انکار

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ سابق وزیراعظم کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور میڈیکل بورڈ کے حالیہ سفارشارت پرعمل کریں۔

بعد ازاں انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعظم کے احکامات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی کسی کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔

ادھر حکومت پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے کہا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے احکامات پر نواز شریف سے ملاقات کی۔

’وزیراعظم کا نواز شریف کی صحت پر سیاست قابل مذمت ہے’

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعظم اور ان کے درباریوں کا پھرسے نوازشریف کی صحت پر سیاست کرنا قابل مذمت اور افسوس ناک ہے، ڈھونگ رچانے والے بتائیں کہ دو مہینے سے انہیں ہسپتالوں میں گھمانے کا ڈراما کیوں کیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ آج حکومت نوازشریف کو صحت کی تمام سہولتیں دینے پر تیار ہے تو قوم سے پہلے جھوٹ کیوں بولا گیا، ایک بیمار شخص کے ساتھ دو مہینے تماشا کرکے اسے ذہنی اذیت کیوں دی گئی اور علاج میں تاخیر کا جرم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:نواز شریف کو جیل سے جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی آئی سی میں طبی تشخیص کے بعد ایسے ہسپتالوں میں کیوں رکھا گیا جہاں متعلقہ علاج میسر تھا ہی نہیں اور اب ہر وزیر اپنی سیاست چمکانے کے لیے پھر بیان بازی کر رہا ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اب بظاہر ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ حکومت ان کے علاج کے لیے کوشش کررہی ہے۔

خیال رہے کہ العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے 7 سالہ قید کا سامنا کرنے والے نواز شریف لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ہیں اور ان کے خاندان کے افراد اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی جانب سے ان کی صحت کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے تھے اور مناسب علاج نہ ملنے کی شکایت کی تھی۔

بعد ازاں مریم نواز نے کہا تھا کہ ان کے والد ہسپتال جانے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ حکومت انہیں علاج کے نام پر مبینہ طور پر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال گھماتی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 25 فروری کو طبی بنیادوں پر ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی.

ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ‘ان کی کسی بھی رپورٹ میں ان کی صحت کے حوالے سے کسی سنگینی کا ذکر نہیں ہے’۔