کیا روزانہ ایک انڈا کھانا بھی صحت کے لیے نقصان دہ؟

16 مارچ 2019

ای میل

یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے— شٹر اسٹاک فوٹو

روزانہ ایک انڈا کھانا ہارٹ اٹیک یا فالج سے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

طبی جریدے جرنل فار دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق نے صحت کے لیے انڈوں کے فوائد اور نقصانات کی پرانی بحث کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے۔

اس تحقیقی کے دوران 30 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد محققین نے دریافت کیا کہ خطرناک حد تک ہائی کولیسٹرول کے شکار افراد اور انڈوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔

تحقیق کے مطابق روزانہ ایک انڈا کھانا امراض قلب کا خطرہ 18 فیصد جبکہ فالج سے موت کا خطرہ 17 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

انڈے کھانے اور امراض قلب کی یہ بحث دہائیوں پرانی ہے ، تاہم طبی ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ انڈے میں موجود غذائی کولیسٹرول صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ وہ صحت کے لیے بہترین غذا ہے۔

امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا کہ انڈے کی زردی سب سے زیادہ کولیسٹرول والی غذاﺅں میں سے ایک ہے جو دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

دوسری جانب اس نئی تحقیق پر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج زیادہ قائل کردینے والے نہیں کیونکہ اس میں کچھ بھی نیا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ 6 مختلف تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ ہے اور اعدادوشمار کا تجزیہ جس طرح کیا گیا ہے وہ بہت زیادہ پیچیدہ ہے، تاہم سب سے زیادہ خامی ڈیٹا کا قابل انحصار نہ ہونا ہے۔

امریکی غذائی گائیڈلائنز کے مطابق دن بھر میں 300 ملی گرام سے زیادہ غذائی کولیسٹرول کا استعمال نہیں کرنا چاہئے اور ایک انڈے میں 187 ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے جس میں سے 184 ملی گرام زردی میں پایا جاتا ہے۔

تاہم طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ انڈے میں صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول ایچ ڈی ایل پایا جاتا ہے جو نقصان دہ کولیسٹرول ایل ڈی ایل کو شریانوں سے دور کرتا ہے جبکہ انڈوں میں وٹامن ای بھی پایا جاتا ہے۔