کراچی بطورِ اے ٹی ایم

07 اپريل 2019

کچھ دن پہلے گاڑی میں فرینچ بیچ کی طرف جاتے وقت میں نے سوچا کہ کراچی ہر گزرتے برس کے ساتھ کتنا بدصورت ہوچکا ہے۔ سڑکوں کے ساتھ کوڑے کرکٹ کا ڈھیر لگا ہے اور ہر طرف زبوں حال گھر نظر آتے ہیں۔

اس مختصر سفر سے قبل ایک ہفتے کے لیے میرا لاہور جانا ہوا تھا اور ان دونوں شہروں کے درمیان پیدا ہوچکے واضح فرق کو دیکھ کر مجھے بار بار جھٹکا سا لگتا۔ کہیں کوئی کوڑا نظر نہیں آیا اور شہر کا پھیلاؤ بھی منصوبندی کے تحت ہوتا دکھائی دیا۔ نئے رِنگ روڈ کی وجہ سے ٹریفک کا بہاؤ پرسکون انداز میں جاری رہتا ہے جبکہ پولیس اہلکار حیران کن طور پر اپنا کام مؤثر انداز میں کرتے نظر آئے۔

مجھے یاد ہے کہ 1960ء کی دہائی کے آخر میں سول سرونٹ بننے کے بعد جب پہلی بار لاہور آنا ہوا تو ہم میں سے جو ساتھی کراچی سے تعلق رکھتے تھے وہ لاہور کو ایک صوبائی قصبے کے طور پر کافی کم تر شہر سمجھتے تھے۔ ہمارے نئے لاہوری دوست کراچی کو اپنے شہر سے کہیں زیادہ آگے اپنی موجوں میں مست میٹروپولس شہر تصور کرتے تھے۔

مگر یہ تب کی بات ہے۔ اب تو ساری کہانی مختلف ہے۔ کراچی میں 1980ء کی دہائی کے وسط سے ایم کیو ایم کے شدت پسند بازو کی شروع کردہ شہری دہشتگردی کراچی کو زوال کی طرف لے گئی۔ کچھ برس قبل نواز شریف کی جانب سے شہر پر قابض ٹھگوں کے خلاف کارروائی کے بعد جا کر موت کا یہ سلسلہ بند ہوا۔

مگر پرتشدد گینگ، دہشتگردی اور بھتہ خوری نے کراچی کو اپنے گھٹنوں پر لا کھڑا کردیا جس کی ایک بڑی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ کراچی میں تازہ سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے اور کئی صنعتیں پنجاب منتقل ہوچکی ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود پورے ملک سے لوگ روزگار کی تلاش میں مسلسل کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ کراچی ایک ایسا شہر بن گیا کہ جہاں ملازمت کی بھاگ دوڑ میں لگی 2 کروڑ 10 لاکھ کی آبادی ہے اور پانی، ٹرانسپورٹ اور بجلی جیسے وسائل کی شدید قلت۔

پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان دیرینہ تنازع نے بھکیڑا مزید بدتر کردیا۔ جہاں پیپلزپارٹی سندھ پر حکمرانی کرتی ہے وہیں ایم کیو ایم مقامی حکومت میں کونسلرز کی اکثریت رکھتی ہے۔ تاہم پیپلزپارٹی شہری حکومت کو فنڈز جاری کرنے پر ہچکچاتی ہے جس کا نتیجہ شہر میں جا بجا بکھرے کوڑے کے ڈھیر کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ان جماعتوں سے یہ توقع کرنا فضول ہے کہ یہ دونوں کسی سمجھوتے پر پہنچ کر مل کر کام کریں گی اور شہر کراچی کے بدحال عوام کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان کے اچھے نتائج نہ آنے پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔

چونکہ کراچی پستی کا شکار ہے لہٰذا اب لاہور ملک کے اہم ترین شہر کی حیثیت پر قابض ہوگیا ہے، جو حیثیت کبھی کراچی کو حاصل تھی۔ کراچی سے لاہور جانے پر تو کسی بیرون ملک جانے کا گمان ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پنجاب میں ایک کے بعد دوسری آنے والی حکومت نے لاہور کے خاص علاقوں پر توجہ مرکوز کیے رکھی ہے، اور شہر کے بیش قیمتی ثقافتی ورثے کی حال ہی میں ہونے والی بے حرمتی کسی مجرمانہ اقدام سے کم نہیں۔ مگر مختلف نوعیت کے ترقیاتی کاموں کا سلسلہ آہستہ آہستہ پورے شہر اور پورے صوبے میں پھیلتا گیا ہے۔

شہباز شریف کے خلاف الزامات کی حقیقت کچھ بھی ہو، مگر یہ سچ ہے کہ انہوں نے پنجاب کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں زبردست کردار ادا کیا ہے۔ چند برس قبل سری لنکا میں میری ملاقات برطانیہ کے ایک امدادی ادارے، ڈپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ایڈ کے سربراہ سے ہوئی۔ وہ ان دنوں لاہور میں مقیم تھے، انہوں نے بتایا کہ برطانوی امداد کے بہتر استعمال کے حوالے سے پنجاب پاکستان میں بہترین صوبہ رہا۔

دوسری طرف سندھ میں کلیپٹوکریسی (کرپٹ حکمرانوں پر مبنی حکومت) کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا ہے، وہی کلیپٹوکریسی جو کراچی کے ساتھ اپنے ذاتی اے ٹی ایم جیسا سلوک روا رکھتی ہے۔ جہاں پنجاب کی حکمران اشرافیہ لاہور کی بہتری پر فخر محسوس کرتی ہے وہیں ہماری مقامی و صوبائی حکومتوں نے کراچی کو نوچ نوچ کھایا ہے۔ زمینوں پر قبضہ کرنا کراچی میں عام ہے، اور بہتری کی جانب جو بھی اقدام اٹھایا جاتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی غیرسرکاری تنظیم ہوتی ہے یا پھر وہ کسی کی انفرادی کوشش کا نتیجہ۔

3 برس قبل میری ملاقات ایک سول سرونٹ سے ہوئی جو پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں میں کام کرچکا تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ دونوں صوبوں میں کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’سائیں، پنجاب میں تو کام کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ وہاں وزیراعلیٰ کے پرائیوٹ سیکریٹری روزانہ صبح 8 بجے تمام ڈی سیز کو ان کے لینڈ لائن نمبرز پر فون کیا کرتے تھے جبکہ سندھ کے اندر جب میں کام پر جاتا ہوں تو کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔‘

گورننس کی جانب یہ مختلف رویہ ہی پنجاب اور سندھ کے درمیان حائل خلیج کو واضح کردیتا ہے۔ وہ لوگ جو کراچی سے لاہور بذریعہ روڈ گئے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح سندھ سے پنجاب میں داخل ہونے کے بعد اچانک سے سڑکوں کے معیار میں بہتری آجاتی ہے۔

یہاں یہ کہنا بالکل بھی مراد نہیں کہ پنجاب میں راتوں رات دودھ اور شہد کی ندیاں بہنے لگی ہیں۔ لیکن آپ کو اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ کچھ عرصے پہلے تک کم از کم وہاں جو تبدیلی کا رجحان تھا اس کے پیچھے حکام کا ہاتھ تھا۔ سندھ میں چونکہ حکمران پیسے بنانے میں بہت زیادہ مصروف ہیں اس لیے بہتری لانے کے لیے ان میں کچھ زیادہ خواہش نظر نہیں آتی۔

اس بات کو یاد رکھیں کہ لاہور کو مغلیہ دور کے بیش قیمتی ورثے، کلونیل عمارتوں اور باغوں کی صورت کراچی پر ہمیشہ سے فوقیت حاصل رہی۔ جبکہ کراچی اس کے برعکس ایک غیر اہم بندرگاہی شہر تھا جس کے پاس چند شاندار کلونیل عمارتوں کے علاوہ زیادہ کچھ نہیں تھا۔

تقسیم ہند کے بعد لاکھوں مہاجرین نے اس شہر کا رخ کیا اور اس شہر میں آباد ہوئے، اور پھر دیگر صوبوں سے روزگار کی تلاش میں آنے والے کثیر تعداد میں لوگوں کی آمد کے جاری سلسلے کی وجہ سے آبادی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

محدود وسائل کی وجہ سے ظاہر ہے کہ یہ شہر آبادی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر رہا ہے۔ مگر اس بات کو لوٹ کھسوٹ کے گرم بازار کے لیے ایک بہانے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

یہ مضمون 6 اپریل 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

تبصرے (9) بند ہیں

Tahir Apr 07, 2019 05:11pm
for the honorable writer, Lahore does not mean whole Punjab. Please just visit the previous NA68(protection seat Mr. Nawaz Sharif if lost in Lahore) now NA 92.Only single connection road between three Major towns Sahiwal, Farooka and Silanwaliy did not construct in his whole regime. The worst thing is that road remain under construction whole five years that increase the business of tyre shops, mechanic, doctors and medical stores.
Pakistani Apr 07, 2019 06:45pm
Lahore ki khaas baat ye he ke yahan jo bhi ata he ye use apna leta he. yahan sab pakistani hen. Jo urdu speaking dehli or doosre ilakon se lahore aay wo bhi kbhi muhajir nahi huwe, naa hi punjabi jo india se aay wo yahan muhajir huwe. Yahan kbhi koi no go areas nahi huwe. Yahan kbhi ilaaqe qomon se mansoob nahi huwe. Aap jahan merzi rehen jahan merzi karobar keren. Aik muhallay mein har zaat or kom k log ikuthe rehte hen. Yahan punjabi pashtoon sindhi balochi ilaqe nahi hen. Karachi ke wo log jo 90s mein or 2007 ke halat khrab hone k baad lahore aay wo aap ko ye farq wazeh ilfaz me beta sekte hen. 40 saal men 20 lakh se sawa karor ka shehr hogia, her soobe k log yahan hen or isne sab ko khush amdeed kaha. Karachi tab badle ga jab wahab sab pakistani honge or koi sindhi muhajir etc card nahi khela jay ga.
Talha Apr 07, 2019 08:09pm
Sachaiee yeh thiee keh mulk keh donon hissoun keh wasail ka mukammal tour per rukh Karachi kiee tarf mod diya gaya tha...... Khair ab yehi duaa hai keh pura mulk taraqee karey aur eis keh Awam ko masail free Pakistan mein rehna naseeb ho......
Dr Abdul Qadeer Apr 07, 2019 08:22pm
بهترين ، مدلل اور نهايت اعلي
یمین الاسلام زبیری Apr 08, 2019 05:11am
اچھا موضوع اٹھایا ہے۔ پی پی پی خوامخواہ ہی سندھ کی پارٹی بنی ہوئی ہے۔ سنتے ہیں کہ خود گڑھی خدا بخش کا بھی برا حال ہے۔ ایم کیو ایم نے بہت گڑ بڑ مچائی ہے، لیکن میں اسے مورد الظام نہیں ٹھیراتا۔ اگر کوئی ناجائز تعمیرات کر رہا ہے تو آخر حکومت کیا کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم کی بات نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی اگر کرئی امن و امان کی صورتحال پیدا کر رہا ہے تو بھی انتظامیہ ہی پر سارا الزام آتا ہے۔ میں ایم کیو ایم کا طرفدار نہیں ہوں لیکن دیکھتا ہوں کہ اسے کام نہیں کرنے دیا گیا اور یہی وجہ ہے انتشار کی کہ اس شہر کی پارٹی کام نہیں کر سکتی ہے لوٹ کھسوٹ کر سکتی ہے۔ خیال رہے کہ ایم کیو ایم کے دو مئر حضرات کسی نہ کسی بہانے سےہٹا کر، بینظیر اور نواز نے ایڈمنسٹریٹر بٹھا دیے تھے، جن میں سے ایک فہیم الزماں تھے۔ ایک عرصہ ہوا کہ کراچی والے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا کرتے تھے، لیکن جماعت کے ارادے اور اہداف کچھ اور ہی رہا کرتے ہیں اسی لیے وہ آہستہ آہستہ ملکی سطح سے پردہ کر رہی ہے۔ حق مغفرت کرے۔
SHAFIQUE RAHIB KHAN Apr 08, 2019 12:02pm
@Tahir ; Comparatively Lahore is much better than Karachi since last 25 years. And the same mentioned by the writer.
یمین الاسلام زبیری Apr 08, 2019 07:34pm
@Talha آپ کچھ اور کہہ رہے ہیں اور کہانی کچھ اور چلتی رہی ہے۔ کراچی جو دولت پیدا کرتا ہے اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگا لیں کہ پورے ملک کے پچاس فیصد بینک اکائونٹ کراچی کے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی اور مشرقی پاکستان کی ساری امدنی اسلام آباد میں لگادی گئی۔ کراچی میں کوئی ترقیاتی کام برسوں نہیں ہوئے۔ اب بھی، جب کہ کراچی سارے ملک کے لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے اس کے وسائل میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ بلکہ یہاں کے لوگوں کو ٹینکر سے پانی پہنچا کر لوٹا جا رہا ہے۔ یہاں کی پولیس پر خرچہ نہیں ہوا بلکہ رینجرز کو کرائے پر بلا کر پیسہ انہیں دے دیا گیا۔ زمین کے قبضہ گروہ فعال رہے اور انتظامیہ منہ دیکھتی رہی، یا اپنا منہ بھرتی رہی۔ حکومت بیچاری تو شاید معصوم تھی کچھ کر نہ سکی۔ اب بھی کچھ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
RIZ Apr 08, 2019 09:38pm
As far as structure is concerned of course Karachi infrastructures were built long before Lahore but it wasn't maintained thanks to Karachi and Sind politics but if you go to London and most of the Europe you can't compare them with USA, UAE and some other countries because most of the infrastructures in Europe built decades ago and you can't really rebuild whole city. Yes but for sure you can keep it clean and make it look presentable. Besides politicians and govt. people are also responsible of keep their city clean.
SHAHEEN CHANGEZI Apr 12, 2019 12:21am
@یمین الاسلام زبیری agreed 100%.