ہواوے پاکستان میں 5 جی ٹیکنالوجی لانے کی خواہشمند

08 اپريل 2019

ای میل

پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی کب تک آسکی گی — رائٹرز فوٹو
پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی کب تک آسکی گی — رائٹرز فوٹو

امریکا اور جنوبی کوریا میں موبائل فونز کے لیے نئی 5 جی ٹیکنالوجی کو متعارف کرا دیا گیا ہے مگر پاکستان میں اس مہنگی ٹیکنالوجی کی کم داموں میں آمد کیسے ممکن ہوگی؟

تو اس کا جواب چین کی کمپنی ہواوے کے پاس موجود ہے جو جنوبی ایشیائی ممالک میں کم قیمت 5 جی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا چاہتی ہے جس کو امریکا اور یورپ میں اس ٹیکنالوجی کے نیٹ ورک قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکا کی جانب سے ہواوے کو چینی حکومت کا جاسوس قرار دے کر اس کے فائیو جی ٹیکنالوجی نیٹ ورکس کی مختلف ممالک کی تشکیل میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔

اس کا توڑ ہواوے نے ایشیائی ممالک میں فائیو جی کو پھیلانے کی شکل میں نکالا ہے جہاں پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں اس کمپنی کو پہلے ہی کافی مضبوط پوزیشن حاصل ہے جبکہ یہ بھارتی تحفظات دور کرنے کے لیے بھی کام کررہی ہے جہاں فائیو جی کی آزمائش رواں سال کے آخر میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

جاپانی روزنامے نکائی ایشین رویو سے بات کرتے ہوئے جنوبی مشرقی ایشیا کے لیے ہواوے کے ایک ترجمان نے کہا ' سیاست نہیں، بس ڈیجیٹل، یہ وہ انتخاب ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا فائدہ ہے، ہم اپنے صارفین کے لیے ٹرائل مکمل کرنے کی کوشش کریں گے اور فائیو جی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے میں انڈسٹری کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے'۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان، سری لنکا اور بھارت فائیو جی سروسز کو کمرشل بنیادوں پر اگلے سال کی دوسری ششماہی کے دوران متعارف کرانے کے خواہشمند ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں فائیو جی نیٹ ورک کا قیام 2021 تک ممکن ہوسکے گا۔

جنوبی ایشیا میں دنیا کی کل آبادی کا 25 فیصد حصہ رہائش پذیر ہے اور یہاں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال کی شرح 2025 تک 61 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے اور یہی وجہ ہے کہ فائیو جی آلات بنانے والے کمپنیوں جیسے ہواوے کے لیے یہ کسی سونے کے کان سے کم نہیں۔

اس کمپنی نے 2018 کے دوران 105 ارب ڈالرز کمائے حالانکہ اسے امریکا کی جانب سے فائیو جی نیٹ ورکس کے حوالے سے مشکلات کا بھی سامنا ہے اور کیرئیر بزنس میں 1.3 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

رپورٹ میں پی ٹی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہواوے پہلے ہی پاکستانی مارکیٹ میں مضبوطی سے قدم جماچکی ہے، جس کا اسے فائدہ ہوگا'۔

چین اور پاکستان کے قریبی تعلقات بھی اس کمپنی کو فائیو جی کے پھیلاﺅ کے عزائم کے حوالے سے ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

ہواوے کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا اور جنوبی مشرقی ایشیا میں اگلے 5 برسوں کے دوران 1.2 ٹریلین ڈالرز کے اقتصادی مواقعوں کو فراہم کرے گی۔

کمپنی کے مطابق فائیو جی صارفین کی تعداد 8 کروڑ سے تجاوز کرجائے گی، انٹرنیٹ ٹریفک میں مجموعی طور پر 5 گنا اضافہ ہوگا جبکہ بیس سے زائد اسمارٹ سٹی قائم ہوں گے، وائرلیس، ڈیجیٹل اور انٹیلی جنٹ آلات سماجی ترقی کو اوسطاً 4 سے 8 فیصد بہتر کردیں گے۔

مگر ہواوے کے لیے ایک بڑی مشکل جنوبی ایشیا میں اس مہنگی ٹیکنالوجی کو مناسب داموں میں صارفین تک پہنچانا ہوسکتی ہے کیونکہ پرکشش ٹیرف ہی زیادہ تعداد میں لوگوں کو فائیو جی کی جانب لے کر جائیں گے۔

پاکستان کی ٹاپ لائن سیکیورٹی انویسٹرز ایڈوائزری کے سربراہ محمد سہیل کے مطابق پاکستان میں اس وقت انٹرنیٹ ڈیٹا چارجز دیگر ترقی پذیر ممالک سے کافی زیادہ ہیں، فائیو جی کی زیاہد قیمت سے لاگت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ فائیو جی نیٹ ورک موجودہ موبائل انٹرنیٹ کنکشنز سے سو گنا جبکہ گھروں کے براڈ بینڈ کنکشنز سے 10 گنا تیز ہوگا۔

فائیو جی کے ذریعے ڈھائی سے تین گھنٹے کی فلم محض ایک سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ کی جا سکے گی۔

فائیو جی ٹیکنالوجی کو جدید انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب قرار دیا جا رہا ہے یہ ٹیکنالوجی آرٹیفیشل انٹیلی جنس، خود کار گاڑیوں، بجلی گھروں، ہسپتالوں کے آلات سمیت دفتری امور کے دیگر آلات میں بھی استعمال کی جا سکے گی اور اس سے کام کا معیار حالیہ معیار سے 100 فیصد بہتر ہونے کا امکان ہے۔