دنیا کے خطرناک ترین ائیرپورٹ کو کیا چیز جان لیوا بناتی ہے؟

15 اپريل 2019

ای میل

نیپال کا لوکلا ائیرپورٹ — شٹر اسٹاک فوٹو
نیپال کا لوکلا ائیرپورٹ — شٹر اسٹاک فوٹو

نیپال میں گزشتہ روز ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب ایک طیارہ اڑان بھرتے ہوئے رن وے پر موجود 2 ہیلی کاپٹرز سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔

یہ حادثہ لوکلا ایئرپورٹ پر پیش آیا جو ماؤنٹ ایورسٹ کو جانے والے راستے کا اہم ذریعہ ہے جبکہ یہ ایئرپورٹ دنیا کا خطرناک ترین ایئرپورٹ مانا جاتا ہے۔

مگر کیا وجہ ہے کہ اسے دنیا کا خطرناک ترین ائیرپورٹ قرار دیا جاتا ہے؟

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے 40 منٹ کی پرواز لوکلا ائیرپورٹ پر لے جاتی ہے جو کہ بظاہر تو عام سی فضائی پٹی ہے مگر جب وہاں پہنچتے ہیں اور لینڈنگ ہونے والی ہوتی ہے تو دل کی دھڑکن خوف سے تھم سکتی ہے۔

اس ائیرپورٹ کو ہسٹری چینل نے اپنے 2010 میں ایک پروگرام میں دنیا کا خطرناک ترین ائیرپورٹ قرار دیا تھا مگر پھر بھی یہ انتہائی مصروف ہوائی اڈہ ہے کیونکہ یہ ماﺅنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ کا راستہ بھی ہے۔

ماﺅنٹ ایورسٹ سر کرنے والے پہلے کوہ پیما کے نام پر رکھی جانے والے فضائی اڈے کو دنیا کا خطرناک ترین ایئر پورٹ اس لیے سمجھا جاتا ہے کیونکہ سطح سمندر سے 2800 میٹر بلندی پر واقع اس ایئر پورٹ کی لینڈنگ پٹی بس پانچ سو میٹر ہی لمبی ہے اور اس کا اختتام ایک گہری کھائی پر ہوتا ہے۔

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

اب اگر وہاں طیارہ اترنے کے دوران کوئی پائلٹ حاضر دماغی کا مظاہرہ نہ کرے تو مسافر سیدھے دو ہزار فٹ گہری وادی میں جا گریں گے اور یہ خیال ہی یہاں آنے والے مسافروں اور پائلٹس کے ہوش اڑا دیتا ہے۔

اور جب طیارہ لینڈ کرتا ہے اور لینڈنگ گئیر گرائے جاتے ہیں تو ایسی آواز آتی ہے جو اس خوف کو مزید بڑھا دیتی ہے، مگر مہم جو افراد کے لیے یہ زبردست تجربہ ہوتا ہے جو کسی رولر کوسٹر سے کم نہیں۔

مگر صرف یہی ایک وجہ نہیں جو اسے خطرناک بناتے ہیں، اس رن وے کا ایک حصہ کھائی پر اختتام پذیر ہوتا ہے تو دوسرے حصے کے اختتام پر ٹھوس دیوار ہے، جس کے ساتھ ایک بدھ یادگار کی جانب جانے والا نشیبی راستہ ہے جبکہ اس رن وے پر 11 ڈگری کی ڈھلان ہے جو طیارے کو بریک لگانے میں مدد دیتی ہے اور ایسا نہ ہو تو وہاں اترنے کی کوشش کا انجام کھائی میں گرنا ہوگا۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یہاں حادثات ہوتے ہیں مگر بہت کم، مگر پہلا بڑا حادثہ 2008 میں ہوا جب طیارے کے عملے نے موسم اور لینڈنگ کا غلط اندازہ لگایا اور اس کے نتیجے میں جہاز کریش ہوگیا اور اس میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے۔

اس ائیرپورٹ میں کسی قسم کی نیوی گیشن مدد نہیں ملتی جبکہ رات کو پرواز کا اترنا ممکن نہیں کیونکہ موسم پل پل بدلتا ہے اور یہاں پائلٹ کی مہارت پر پوتا ہے۔

ویسے تمام تر خطرات کے باوجود یہ ائیرپورٹ دنیا کے چند خوبصورت ترین ائیرپورٹس میں سے بھی ایک ہے جہاں سے کوہ ہمالیہ کی چوٹیوں کے ساتھ پھولوں اور دیگر قدرتی مناظر کی خوبصورتی دیکھی جاسکتی ہے۔