حکومت کی معاشی پالیسیاں غریب عوام کیلئے ٹھیک نہیں، پی ٹی آئی رکن اسمبلی

اپ ڈیٹ 07 مئ 2019

ای میل

نورعالم خان پشاور سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے—فائل/فوٹو
نورعالم خان پشاور سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے—فائل/فوٹو

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں غریب عوام کے لیے ٹھیک نہیں ہیں۔

اسلام آباد میں حکمران جماعت کے رکن نور عالم خان اپنی ہی حکومت پر برس پڑے اور اپنی حکومت کی معاشی پالیسوں سے کھل کر اختلاف کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں غریب عوام کے لیے ٹھیک نہیں، عمران خان نے ان لوگوں کو چنا ہے ہوسکتا ہے یہی ان کی ٹیم ہے۔

مزید پڑھیں:آئی ایم ایف ملازم گورنر اسٹیٹ بینک، پاکستان میں ‘نوآبادیات’ کے مترادف ہے، رضا ربانی

معاشی پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی ان پڑھ کو بھی کرسی پر بیٹھا دیں وہ بھی ایسے ہی معیشت چلالے گا، چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کے لیے باہر سے لوگوں کو بلانے کی ضرورت نہیں، کسی گاوں کے فرد کو بھی بیٹھا دیں تو یہ کام کردے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو جو پٹی پڑھائی جاتی ہے وہ مان لیتے ہیں، سنا ہے گورنر اسٹیٹ بینک پہلے آئی ایم ایف میں تھے، شاید اسمبلی میں قابل لوگ نہیں اس لیے باہر سے لوگوں کو بلایا گیا ہے۔

نور عالم خان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے ہر کوئی عوام کی بات کرتا ہے، باہر کچھ کہتے ہیں اور کرسی پر بیٹھ کر کچھ اور کہتے ہیں، ہر وزیر خزانہ پیٹرول اور گیس مہنگا کردیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو وزیر خزانہ آتا ہے وہ یہی کہتا ہے کہ ملک کا خزانہ خالی ہے، پیٹرول اور آٹا مہنگا کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا، ملک دیوالیہ نہیں ہے بلکہ ہمارے لوگ نکمے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر اپنے عہدوں سے فارغ

این اے -27 پشاور ون سے منتخب ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نورعالم خان اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کا حصہ تھے اور 2008 سے 2013 تک رکن قومی اسمبلی رہے تھے۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے وزیرخزانہ اسد عمر کے استعفے کے بعد ڈاکٹر حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کیا تھا جس کے بعد گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کو عہدوں سے ہٹا کر آئی ایم ایف کے عہدیدار رضا باقر کو گورنر اسٹیٹ بینک مقرر کیا تھا۔