روپے کی قدر میں کمی مارکیٹ صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، اسٹیٹ بینک

اپ ڈیٹ 17 مئ 2019

ای میل

انٹر بینک مارکیٹ میں ایکسچینج ریٹ 146.52 روپے پر بند ہوا جو اس سے ایک روز پہلے 141.40 تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
انٹر بینک مارکیٹ میں ایکسچینج ریٹ 146.52 روپے پر بند ہوا جو اس سے ایک روز پہلے 141.40 تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو فارن ایکسچینج مارکیٹ کے آغاز کے ساتھ ہی ایک مرتبہ پھر ڈالر نئی بلندیوں کو چھوتا ہوا دکھائی دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مارکیٹ کی صورتحال پر اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی ذریعے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ’انٹر بینک مارکیٹ میں ایکسچینج ریٹ 146.52 روپے پر بند ہوا جو اس سے ایک روز پہلے 141.40 تھا‘۔

اس حوالے سے ایک بینک کے سربراہ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’جیسے ہی ٹریڈنگ کا آغاز ہوا اس کے ساتھ ہی ڈالر کی قدر بڑھنا شروع ہوگئی، ہم نے اسٹیٹ بینک سے یہ پوچھنے کے لیے رابطہ کیا کہ آخر یہ سب کیا ہورہا ہے، جس پر ہمیں جواب میں بتایا گیا کہ آج ڈالر کی خریداری کے لیے کوئی ریٹ مقرر نہیں ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: ڈالر ملکی تاریخ کی نئی بلند سطح پر پہنچنے کے بعد 147.10 روپے پر بند

وہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے خاموش ہدایات کی جانب اشارہ کررہے تھے جس میں بینکوں کو ایک مقررہ قیمت سے بڑھ کر گرین بیک میں ٹرانزیکشن کرنے سے منع کیا گیا تھا، مرکزی بینک کئی سالوں سے مداخلت کے لیے یہی طریقہ کار اپنا رہا ہے۔

گزشتہ سالوں کے دوران جب بھی روپے کی قدر میں کمی ہوئی اسی طریقے پر عمل کیا گیا جس میں اسٹیٹ بینک اچانک اپنی خاموش حمایت سے دستبردار ہو کر مارکیٹ کو خود قیمت مقرر کرنے کا کہتا ہے۔

صدر فاریکس ایسوسی ایشن ملک بوستان کے مطابق وزیراعظم کی مشیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک سے ہونے والی ملاقات کے ایک روز بعد ہی روپے کی قدر میں 3.6 فیصد کی کمی دیکھی گئی، اس ملاقات میں ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن پاکستان (ای کیپ) کے وفد نے بھی شرکت کی جس میں وزیراعظم نے ملک میں غیر ملکی زرِمبادلہ کی فراہمی کو بڑھانے کے طریقوں کے بارے میں پوچھا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم نے روپے کی قدر میں کمی پر قابو پانے کیلئے کمیٹی قائم کردی

اس ملاقات کے حوالے سے مختلف رپورٹس گردش کرتی رہیں، تاہم ایکسچینج کمپنیز کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ای کیپ کے شرکا پر مارکیٹ ریٹ کو انٹربینک ریٹ تک کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا جس کے نتیجے میں اجلاس کے فوری بعد مارکیٹ ریٹ میں 2 روپے کی کمی دیکھنے میں آئی، اس کمی کو کچھ نے ’زبرستی کا ریٹ‘ قرار دیا تھا۔

اس کے ساتھ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل بھی اجلاس میں شریک ہوئے جنہوں نے ڈیلر کی جانب سے کچھ مخصوص سرگرمیوں کی نشاندہی کی جنہیں غیر قانونی قرار دیا جاسکتا ہے۔

تاہم اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر افراد نے اس بات سے انکار کیا کہ اجلاس میں ریٹ کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی، ای کیپ کے صدر شیخ علاؤالدین کا کہنا تھا کہ ’روپے کی قدر میں کمی کا معاملہ اجلاس میں زیر گفتگو ہی نہیں رہا اس کے علاوہ وزیر مملکت برائے ریونیو نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہی کہا تھا کہ اجلاس میں ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈالر کی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح سے پھر 144 پر واپسی

دوسری جانب مارکیٹ میں کچھ برآمد کنندگان کے پاس اپنی ادائیگیاں کرنے کے لیے بڑی مقدار میں ڈالر خریدنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا جس میں سے کچھ خریداروں نے انٹربینک میں 148.25 روپے کے ریٹ پر ڈالر خریدے۔

اسٹیٹ بینک کے بیان کے مطابق ’یہ حرکت غیر ملکی زرِ مبادلہ کی طلب و رسد کی صورتحال کی عکاس ہے، اس سے مارکیٹ کے عدم توازن کو درست کرنے میں مدد ملے گی‘، اس بیان کے مطابق اسٹیٹ بینک بھرپور طریقے سے روپے کی قدر میں کمی کے اقدام کی ذمہ داری لے رہا ہے اور اسے ایکسچینج کمپنیوں کی ذخیرہ اندوزی کے بجائے مارکیٹ کی صورتحال سے منسلک کررہا ہے۔