55 سالہ اساتذہ نہیں چاہئیں؟

اپ ڈیٹ 18 مئ 2019

ای میل

حال ہی میں اخبارات میں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (ایس ای ڈی) ان تمام اساتذہ کو ریٹائر کرنے پر غورو فکر کر رہا ہے جن کی عمر 55 برس یا اس سے زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ ریٹائرمنٹ کی عمر 60 ہے۔

پنجاب میں سرکاری شعبے کے قریب 4 لاکھ اساتذہ میں سے 50 ہزار اساتذہ ایسے ہیں جن کی عمر 55 برس یا اس سے زیادہ ہے۔ جس پالیسی پر غور وفکر کیا جا رہے اگر اس پر عمل ہوا تو 50 ہزار افراد گھر بھیج دیے جائیں گے۔ اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن اگر فیصلہ ہوتا ہے تو ممکنہ طور پر اگلے بجٹ سے پہلے پہلے کرلیا جائے گا۔

اگرچہ اخبارات میں ایس ای ڈی کی جانب سے اس آپشن پر غور کیے جانے کی وجوہات کا ذکر نہیں کیا گیا مگر اس کے پیچھے مندرجہ ذیل وجوہات میں سے کوئی ایک ہی ہوسکتی ہے۔

ایس ای ڈی کے لیے اساتذہ کی تنخواہوں کا بوجھ اٹھانا مشکل ہو رہا ہے۔ مالی وسائل کے بحران کے پیش نظر اس بحران سے نکلنے کے لیے، اگر عارضی طور پر بھی، سینئر اساتذہ کی ریٹائرنٹ کو تنخواہوں میں کمی لانے کے ایک طریقے کے طور پر اپنانا زیادہ باعثِ حیرت نہیں ہوگا۔

پڑھیے: کیا پی ٹی آئی حکومت فیسوں میں 100 فیصد تک اضافے کی اجازت دے گی؟

اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ 55 برس سے زائد العمر اساتذہ کو ’ناکارہ بن چکے تعلیمی ستون‘ کے طور پر تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں ناقص اساتذہ خیال کیا جاتا ہے، جنہیں ان کے کیریئر کے موجودہ مرحلے پر بہتر بنانے کے لیے تربیت فراہم کرنا ممکن نہیں ہوپاتا۔ ایسی صورتحال میں ان سے (اگرچہ پینشن اور دیگر فوائد جن کے وہ مستحق ہیں) آزادی حاصل کرنا ہی واحد اور بہتر آپشن ہوسکتا ہے۔

ای ایس ڈی اساتذہ کے لیے تعلیمی سند کی شرائط بھی تبدیل کرچکی ہے۔ محکمے میں ایک ٹیچر کے طور پر داخل ہونے ہونے کے لیے کم سے کم تعلمی سند کی شرط گریجویشن ہے۔ اس سے پہلے ٹیچنگ سرٹیفکیٹ رکھنے والے میٹرک اور انٹر پاس افراد بھی استاد بن جاتے تھے۔ 55 اور اس سے زائد عمر کے اساتذہ میں سے نمایاں تعداد ایسے ٹیچرز کی ہے جو گریجویٹ نہیں ہیں۔ کیا یہ پنجاب میں اساتذہ کی مجموعی صورتحال کو بدلنے کی ایک کوشش ہے؟

یہ جانتے ہوئے کہ 55 برس اور اس زائد عمر کے اساتذہ سے آزادی پانا آسان آپشن ہے گریجویشن کی شرط کا اطلاق مؤثر بہ ماضی نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 50 ہزار اساتذہ میں جو کوئی بھی بہتر ہوں گے، بشمول وہ اساتذہ جو ممکن ہے کہ گریجویٹ ہوں لیکن 55 برس یا اس سے زائدلعمر ہوں، وہ بھی متاثر ہوں گے۔ یہ بات کسی بھی عمر پر مبنی پالیسی کے لیے ایک مسئلے کا باعث بنی رہے گی۔ محکمہ تمام اساتذہ کو ٹیچرز کی تعلیمی سند کی شرط میں تبدیلی کی تاریخ کے بعد مقررہ وقت کے اندر گریجویشن مکمل کرنے کے لیے کہنا پڑسکتا ہے، مگر اس آپشن کے لیے یہ مناسب نہیں ہے۔

ممکن ہے کہ اس پالیسی پر غور وفکر کرنے کے پیچھے یہ تمام عناصر ہوں: 55 اور اس سے زائدا العمر اساتذہ زیادہ تر گریجویٹ نہیں ہیں، ان میں سے بڑی تعداد خراب کارکردگی دکھانے والوں کی ہے جن کی نہ تو اب کوئی ٹریننگ فراہم اور نہ ہی کسی قسم کی ترغیب دی جاسکتی ہے، اور ان کی تنخواہوں پر ایسے وقت میں اچھی خاصی لاگت آجاتی ہے کہ جب بجٹ زیادہ سے زیادہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

اگر یہ تمام وجوہات موجود بھی ہیں تو بھی عمر پر مبنی پالیسی کی تُک سمجھ نہیں آتی۔ جب لوگوں نے ملازمت اختیار کی تو ان کے ذہن میں یہی بات بٹھائی گئی کہ اگر وہ ایک مقررہ معیار کے مطابق کارکردگی دکھائی تو وہ 60 برس ملازمت کرتے رہیں گے۔ ان اساتذہ نے بظاہر تو وہ کام کیا ہے جو ان سے مطلوب تھا۔ کیوں ریاست ایک بار اس مفصل یا غیر مفصل معاہدے کا دوبارہ رخ کرنا چاہتی ہے جو اس نے اساتذہ کے ساتھ کیا تھا؟ اس سمجھوتے کا دوبارہ رخ کرنے سے کیا نوجوان اساتذہ کی نظر میں بھی ریاست کسی حد تک اپنا اعتماد نہیں کھودے گی؟

اگر 55 یا اس سے زائد العمر اساتذہ اور ان کے ساتھ ساتھ کچھ نوجوان کلیگز بھی بہتر انداز میں اپنا کام انجام نہیں دے رہے ہیں تو پھر کارکردگی پر مبنی نوکری ختم کرنے کی پالیسی کیوں نہیں کی جاتی؟ عمر رسیدہ استادوں میں سے چند تو ایسے ضرور ہوں گے جو اچھا کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں پھر کیوں ایسی پالیسی مرتب کی جائے جن کی سزا انہیں بھی ملتی ہو؟

محکمہ جانتا ہے کہ اگر کارکردگی پر مبنی کوئی بھی پالیسی منظر عام لائی گئی تو اسے عدالتوں میں چیلنج کردیا جائے گا اور انتظامی طور پر اس پر عمل درآمد کرنا کافی مشکل ہوگا۔ اسی لیے وہ آسان آپشن تلاش کر رہے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ آسان آپشن ’درست‘ آپشن بھی ہو۔

پڑھیے: حکومت 2 کروڑ سے زائد بچوں کو اسکول کیسے بھیجے گی؟

فوج اپنے غیر کمیشنڈ عملے کو 45 یا اس کے آس پاس کی عمر تک پہنچنے پرریٹائر کردیتی ہے۔ لیکن یہاں یہ موازنہ درست نہیں ہے۔ مسلح افواج میں جسمانی فٹنس اور جانفشانی سے بھرپور کام مطلوب ہوتا ہے، اس کام کے لیے خاص جسمانی صلاحیت اور قوت درکار ہوتی ہے اور یہ ملازمت نوجوان افراد بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔ جبکہ تدریسی ملازمت میں اس قسم کی شرائط شامل نہیں ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر استاد غور و فکر کرنے والا اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے، تو ایسے میں زیادہ سے زیادہ تجربہ کسی اثاثے سے کم نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی اتنی اہم بات ہے کہ اگر معاہدے میں تبدیلی 55 برس کی عمر والے زیادہ تر اساتذہ کی تقریباً 20 برس کی ملازمت کے بعد کی جاتی ہے تو یہ بڑی حد تک غیر منصفانہ عمل ہوگا۔ عام طور پر ریٹائرمنٹ کی عمر 60 برس ہوتی ہے۔ تمام اساتذہ کو توقع ہوتی ہے کہ وہ اسی عمر میں ریٹائر ہوں گے، لہٰذا وہ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اساتذہ کے ایک گروہ کے لیے اصول میں تبدیلی حسبِ منشا اور یوں ایک غیر منصفانہ عمل محسوس ہوتی ہے۔

حتیٰ کہ آج بھی ایس ای ڈی کے پاس ٹیچرز کی تعداد پوری نہیں ہے۔ کم از کم 5 جماعتوں پر مشتمل ہمارے پرائمری اسکولوں میں اوسطاً 4 اساتذہ بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ حال ہی میں حکومت پنجاب نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی سرکاری اسکول میں 4 سے کم اساتذہ نہیں ہوں گے۔ اب اگر ہم فی اسکول کے حساب سے 5 اساتذہ کی مطلوبہ کم از کم تعداد تک بھی نہیں پہنچے ہیں، ایسے میں 50 ہزار اساتذہ کو ملازمت سے نکالنے کا فیصلہ قابلِ فہم ہے یا نہیں؟

تعلیم میں تنخواہوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ مگر یہ بات پوری دنیا کے محکمہ ہائے تعلیم پر صادق آتی ہے۔ ہمیں پڑھانے کے لیے اساتذہ کی ضرورت ہے۔ اگر آئین کی شق 25 اے کے تحت آئین 5 سے 16 برس کی عمر کے تمام بچوں کو ’مفت اور لازمی تعلیم‘ فراہمی کی ضمانت دیتا ہے اور اگر ہمیں لاکھوں کی تعداد میں اسکول سے باہر موجود بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا ہے تو ہمیں اسکولوں اور اساتذہ کی تعداد گھٹانے کے بجائے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس مقصد کے لیے کسی بھی طرح پیسوں کا بندوبست کرنا ہوگا۔

پرانے اساتذہ کو نوکری سے نکالنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔

اور اگر 55 برس کی عمر میں ریٹائرمنٹ ایک معقول خیال ہے تو اس کا اطلاق ججوں، بیوروکریٹس، جرنلوں اور دیگر سرکاری افسران پر بھی کیوں نہیں کیا جاتا؟

دیگر ممالک ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے یا عمر کی حد کی شرط ہی ختم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں، کیونکہ انسان کی متوقع زندگی کی عمر بڑھ رہی ہے اور لوگ اپنی زندگیوں میں طویل مدتوں کے لیے پیداواری صلاحیت کے حامل رہتے ہیں۔

جبکہ ایس ای ڈی مخالف سمت پر گامزن ہونا چاہتا ہے اور ان وعدوں پر پورا اترنا نہیں چاہتی جو انہوں نے آنے والے ٹیچرز کے ساتھ کیے تھے۔ محکمے کو یہ راہ نہیں لینی چاہیے۔ لیکن اگر محکمہ ایسا کرتا ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ اساتذہ کو عدلیہ سے مایوسی نہیں ہوگی۔

یہ مضمون 17 مئی 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔