(ن) لیگ کا عید کے بعد عوامی رابطہ مہم چلانے کا اعلان

ای میل

نیب احتساب نہیں انتقام لے رہا ہے، سینئر نائب صدر (ن) لیگ — فوٹو: ڈان نیوز
نیب احتساب نہیں انتقام لے رہا ہے، سینئر نائب صدر (ن) لیگ — فوٹو: ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) نے عید الفطر کے بعد ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور کاشتکاروں کے مسائل کے خلاف ملک گیر عوامی رابطہ مہم چلانے کا اعلان کردیا۔

مسلم لیگ (ن) کا مشاورتی اجلاس سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

اجلاس میں مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت دیگر لیگی رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے لندن سے بذریعہ ٹیلی فون اجلاس کے شرکا سے خطاب کیا۔

اجلاس میں ملکی سیاست، معیشت، مہنگائی، ڈالر کی اونچی اڑان اور نیب کارروائیوں سمیت دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 'اجلاس میں چند مطالبات سامنے آئے جو ہم چاہتے ہیں کہ حکومت بجٹ میں شامل کرے اور عوام کے بھی سامنے لائے۔'

انہوں نے کہا کہ 'مہنگائی کو سامنے رکھتے ہوئے کم از کم اجرت 20 ہزار روپے کی جائے، بجلی اور گیس کے نرخ 31 مئی 2018 کی سطح پر واپس لائے جائیں کیونکہ نرخ بڑھانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔'

شاہد خاقان عباس کا کہنا تھا کہ 'ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ یوریا اور ڈی اے پی قیمتیں بھی مئی 2018 کی سطح پر واپس لائی جائیں کیونکہ اس سے کاشتکار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوؐ میں غیر معمولی اضافہ واپس لیا جائے اور انہیں اس سطح پر لایا جائے جو قابل برداشت ہو، آنے والے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا جائے اور کسی ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومتی پالیسیاں ملک دشمن ہیں، مہنگائی کے خلاف عوامی رابطہ مہم شروع کریں گے، جبکہ نیب احتساب نہیں انتقام لے رہا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ملک میں گھبرانے کا وقت آ چکا ہے، آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے یا نہ آنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔'

مزید پڑھیں: عیدالفطر کے بعد حکومت کے خلاف اے پی سی ہوگی، بلاول بھٹو

پارٹی کا بیانیہ ایک ہی ہے ووٹ کو عزت دو، مریم نواز

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز چیئرمین نیب کی گزشتہ روز پریس کانفرنس کے حوالے سے کہا کہ 'علیمہ خان کی جائیدادیں نکلیں وہ کسی کو نظر نہیں آتیں، یہ سب مہرے ہیں ان کا نام لینے کا فائدہ نہیں، سب کی جائیدادوں کو میڈیا میں دبایا جاتا ہے اور ان کے خلاف ایکشن نہیں ہوتا۔'

انہوں نے کہا کہ 'جب سلیکٹو احتساب ہوگا اس کی کوئی وقعت نہیں، سلیکٹو احتساب کرنے والے کی کوئی وقعت ہے نہ اس ادارے کی۔'

مریم نواز کا کہنا تھا کہ 'نیب کو جو سزائیں دینی ہوتی ہیں جو مقدمات بنانے ہوتے ہیں وہ وزرا اور جعلی وزیر اعظم پانچ دن پہلے بتا دیتے ہیں، میں عمران خان کو وزیر اعظم نہیں مانتی کیونکہ یہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'میں ببانگ دہل کہتی ہوں پارٹی کا بیانیہ ایک ہی ہے کہ ووٹ کو عزت دو، نواز شریف کا بیانیہ بھی وہی ہے اور شہباز شریف کا بھی، لیکن بیان کرنے کا طریقہ فرق ہو سکتا ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'اگر پہلے کسی کا خیال تھا کہ بیانیہ ٹھیک نہیں تو وہ بھی اب نواز شریف کے بیانیے پر آگیا ہے کیونکہ یہ پاکستان کے اچھے مستقبل کی ضمانت ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'نواز شریف کے بیانیے میں کوئی ایسی بات نہیں جو آئین سے متصادم ہو، اگر ایک شخص کہتا ہے آئین پر عمل کرو تو کسی کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔'**