سر پر گیند لگنے کا مسئلہ، آئی سی سی کا نیا انقلابی قانون لانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 05 جون 2019

ای میل

ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں ہاشم آملا کے سر پر گیند لگی تھی— فوٹو: اے ایف پی
ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں ہاشم آملا کے سر پر گیند لگی تھی— فوٹو: اے ایف پی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سر میں چوٹ لگنے کے سبب میدان سے باہر جانے والے کھلاڑی کے متبادل کو بیٹنگ اور فیلڈنگ کی اجازت دینے پر غور شروع کردیا ہے اور رواں سال اس کی اجازت دیے جانے کا قوی امکان ہے۔

سر میں چوٹ لگنے والے کھلاڑی کے متبادل کو کھیلنے کی اجازت کا سلسلہ تجرباتی بنیادوں پر ڈومیسٹک کرکٹ میں اکتوبر 2017 سے شروع کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹین آئی پی ایل کھیلنے نہ جاتے تو آج ٹھیک ہوتے، جنوبی افریقی کپتان

کرکٹ میں سر میں لگنے والی چوٹ کے بڑھتے ہوئے حادثات کے سبب آئی سی سی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں تجرباتی بنیادوں پر متبادل کو بیٹنگ اور باؤلنگ کی اجازت کا فیصلہ کیا تھا۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ، آسٹریلیا، آئرلینڈ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ اپنے ڈومیسٹک کرکٹ میں سر پر گیند لگنے کی صورت میں متبادل کو میدان میں اتارنے کی اجازت دے چکے ہیں۔

اگر آئی سی سی کسی کھلاڑی کی انجری کی صورت میں متبادل کو کھیلنے کی اجازت دینے کا قانون منظور کرتا ہے تو یہ کرکٹ کی تاریخ میں محض دوسرا موقع ہو گا کہ متبادل کی اجازت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کرکٹ ورلڈکپ میں بھارت کا پہلا میچ اتنی تاخیر سے کیوں؟

اس سے قبل 2005 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 'سُپر سب' کے قانون کو تجرباتی بنیادوں پر آزمایا تھا جسے ون ڈے میچوں کے دوران استعمال کرتے ہوئے کسی کھلاڑی کی جگہ دوسرے کھلاڑی کو میدان میں بلا جا کر بیٹنگ اور باؤلنگ کرائی جا سکتی تھی لیکن اس قانون کو 12ماہ کے اندر ہی ختم کردیا گیا تھا۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں حالیہ ڈیڑھ سالوں میں اس قانون کا استعمال کیا گیا تو انجری کی صورت میں کھلاڑی کا متبادل وہی کھلاڑی آ سکتا تھا جو اس کی خاصیت ہو مطلب بلے باز کی جگہ بلے باز اور باؤلر کی جگہ باؤلر۔

آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی اور میڈیکل ایڈوائزری کمیٹی اس وقت تجرباتی بنیادوں پر اس کے استعمال کے نتائج پر غور کر رہی ہیں اور اس حوالے سے اپنی تجاویز پیش کریں گی جس پر جولائی میں ہونے والی آئی سی سی بورڈ کے اجلاس میں بحث کی جائے گی۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر نک پیئرس نے اس نئے مجوزہ قانون کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ قانون کھلاڑیوں کی حفاظت اور ان کی صحت کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے اور کسی کھلاڑی کو سر پر گیند لگنے کے بعد میڈیکل عملہ اس کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔

آسٹریلین کرکٹ ٹیم کے کپتان ایرون فنچ نے انٹرنیشنل کرکٹ میں اس قانون کو لائے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا آسٹریلین ڈومیسٹک کرکٹ میں استعمال جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ظاہر ہے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ کسی کو چوٹ لگ جائے لیکن اگر چوٹ لگ بھی جائے تو کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ وہ میچ کے نتیجے پر اثر انداز ہو اور اس کھلاڑی کے میچ سے باہر رہنے کا سبب، ایسا اگر پہلے ہی اوور میں ہو جائے تو یہ بہت بڑا نقصان ہے۔'

فنچ نے کہا کہ سب سے اہم چیز کھلاڑیوں کی حفاظت ہے اور کرکٹ کا کھیل کسی کی صحت سے بڑھ کر ہرگز نہیں ہو سکتا۔

یاد رہے کہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک المناک حادثہ اس وقت رونما ہوا تھا جب نوجوان آسٹریلین ٹیسٹ کرکٹر فلپ ہیوز آسٹریلین شیفلڈ شیلڈ کے میچ کے دوران سر پر گیند لگنے کے بعد بے ہوش ہو گئے تھے اور دو دن بعد انتقال کر گئے تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان سے شکست کے بعد ورلڈ کپ کا بدترین ریکارڈ انگلینڈ کے نام

ورلڈ کپ سے قبل بھی تمام ٹیموں کو اس کے خطرے کے بارے میں خصوصی طور پر آگاہی فراہم کی گئی تھی اور آئی سی سی ہر میچ کے لیے ایک علیحدہ ڈاکٹر فراہم کر رہا ہے جو کسی حادثے کی صورت میں کھلاڑی کا معائنہ کرتا ہے۔

یاد رہے کہ ورلڈ کپ 2019 کے افتتاحی میچ میں انگلینڈ کے خلاف مایہ ناز جنوبی افریقی بلے باز ہاشم آملا سر پر گیند لگنے کے سبب میدان سے باہر جانے پر مجبور ہو گئے تھے لیکن خوش قسمتی سے کسی انجری سے محفوظ رہے تھے۔