خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں 3 سال کا اضافہ

اپ ڈیٹ 15 جون 2019

ای میل

ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کا فیصلہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا —تصویر:شٹراسٹاک
ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کا فیصلہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا —تصویر:شٹراسٹاک

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے سالانہ 24 ارب روپے کی بچت کے لیے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ منظور کرتے ہوئے اسے 60 سے بڑھا کر 63 برس کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ فیصلہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

جس کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں موجود ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال سے زائد جبکہ کچھ ممالک میں یہ 67 سال سے زائد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: تھائی لینڈ کی طرز پر ٹورازم پولیسنگ شروع کرنےکا فیصلہ

وزیر اطلاعات کے مطابق آئین کی دفعہ 240 (ب) کے تحت صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اس بارے میں صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کی جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں سول سرونٹ ایکٹ 1973 میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 50 سال مقرر کی گئی تھی جس کے بعد اسے بڑھا کر 60 برس کردیا گیا تھا۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اوسط عمر 1973 میں 55 برس سے بڑھ کر 2018 میں 63 سال ہوچکی ہے تقریباً 5 ہزار ملازمین ہر سال ریٹائر ہوتے ہیں جبکہ قبل از وقت ریٹائر منٹ کی شرح بھی 50 فیصد ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا نے سابق فاٹا کے اثاثوں کو حاصل کرکے ملازمین کو مصیبت میں چھوڑ دیا

وزیراطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے میں پلاسٹک کی تھیلوں کے استعمال پر لگائی گئی پابندی پر عمدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور اسے نافذ کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دے دی۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا کابینہ نے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے میر علی بازار میں دہشت گردوں کے خلاف کیے گئے فوجی آپریشن کے دوران گرائی گئی دکانوں کے متاثرہ افراد کے لیے معاوضہ بھی منظور کرلیا۔

اس کے ساتھ سپریم کورٹ کی جانب سے لیے پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافے پر لیے گئے از خود نوٹس پر ایک ٹاسک فورس بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر صحت کےخلاف مقدمہ درج ہونے تک خیبرپختونخوا کے ڈاکٹرز کا ہڑتال کا اعلان

صوبائی کابینہ نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے 1901 سے اب تک ریکارڈ سافٹ کاپیز میں منتقل کرنے اور ان کی دستاویزات کو تلف کرنے کی درخواست بھی قبول کرلی۔

شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ کابینہ نے نوشہرہ میں میڈیکل کالج تعمیر کرنے کے لیے 51 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ بھی منظور کرلی۔

اس کے علاوہ صوبائی کابینہ نے صوبے کے ضرورت مند صحافیوں کو طبی سہولیات پہنچانے کے لیے خیبرپختونخوا جرنلسٹ ویلفیئر انڈومنٹ ایکٹ 2014 میں ترمیم کی بھی منظوری دی۔