امریکا سے فوجی سطح پر کوئی جنگ نہیں ہوگی، ایران

اپ ڈیٹ 19 جون 2019

ای میل

علی شمخانی روس میں عالمی سیکیورٹی فورم میں شریک ہیں—فوٹو:ارنا
علی شمخانی روس میں عالمی سیکیورٹی فورم میں شریک ہیں—فوٹو:ارنا

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان فوجی سطح پر کوئی جنگ نہیں ہوگی۔

ایرانی خبر ایجنسی 'ارنا' کی رپورٹ کے مطابق علی شمخانی نے روس میں منعقدہ عالمی سیکیورٹی فورم کے دوران انٹرویو میں کہا کہ ‘ایران اور امریکا کے درمیان فوجی تصادم نہیں ہوگا اور جنگ کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکی عہدیداروں میں دیگر ممالک پر الزامات عائد کرنے کی روش عام ہوگئی ہے اور وہ دوسرے ممالک پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں: آئل ٹینکر حملوں کا ذمہ دار ایران ہے، امریکا کا الزام

علی شمخانی کا کہنا تھا کہ ‘امریکا کا مقصد معاشی جنگ کے ذریعے ایران کی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے’۔

امریکا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ سمجھتے تھے کہ ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے جبکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ قوم ان کے سامنے کھڑی ہوگئی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ایران ایک مرتبہ پھر امریکی پابندیوں کو بہتر موقع کے طور پر تبدیل کرے گا’۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے خلیجی سمندر میں تیل کے جہازوں پر حملوں کے بعد امریکی بیانات پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچی تھی اور امریکا نے اس کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا تھا، جبکہ تہران نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

ایران کے اعلیٰ سطحی جوہری عہدیدار نے 17 جون کو اعلان کیا تھا کہ عالمی طاقتوں سے ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد ایران 27 جون سے عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدے میں یورینیم افزودگی کی طے شدہ حد سے تجاوز کر جائے گا۔

ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال واندی نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’آج سے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی 300 کلوگرام حد سے تجاوز کرنے کے لیے الٹی گنتی شروع کردی گئی ہے اور 10 دن میں ہم اس سے تجاوز کر جائیں گے‘۔

تہران کے جنوب مغرب میں واقع ارک نیوکلیئر پلانٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ جوہری معاہدے کے آرٹیکل 26 اور 36 پر مبنی ہے اور دیگر فریقین کی جانب سے شرائط پر عمل درآمد کے بعد یہ نافذالعمل ہو گا‘۔

مزید پڑھیں:امریکا کا مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان

رواں ہفتے امریکا کے قائم مقام سیکریٹری دفاع پیٹرک شناہن نے اعلان کیا تھا کہ ایران سے حملوں کے خطرے کے پیش نظر دفاعی مقصد کے لیے مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجی تعینات کردیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘تازہ حملوں سے ان معلومات کی تصدیق ہوئی ہے جو ہمیں مصدقہ انٹیلی جنس سے حاصل ہوئی تھیں کہ ایرانی فورسز جارحانہ کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے پراکسی گروپ کی جانب سے امریکی اہلکاروں اور خطے میں مفادات کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ہے’۔

مشرق وسطیٰ میں مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے ان کی تعداد 1500 ہوجائے گی جس کا اعلان گزشتہ ماہ ٹینکر حملوں کے بعد کیا گیا تھا۔

امریکا نے ایران کے خلاف معاشی پابندیوں کو سخت کرتے ہوئے تمام ممالک اور کمپنیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ایران سے تیل کی درآمد ختم کردیں یا پھر عالمی مالیاتی نظام سے الگ کر دیا جائے گا۔