'جو حکومت گرانے نکلے تھے ان کی دوڑ چیئرمین سینیٹ کی برطرفی پر ختم ہوگئی'

اپ ڈیٹ 26 جون 2019

ای میل

فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو آپس میں ہی ایک دوسرے سے خطرات ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو آپس میں ہی ایک دوسرے سے خطرات ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ

اپوزیشن کی کُل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) کے اعلامیے کے ردعمل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'اے پی سی کے اعلامیے میں اپوزیشن جماعتوں نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کیا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے، اس میں اپوزیشن کا نوحہ پڑھا جاسکتا ہے، مسلسل 10 گھنٹے جاری رہنے کے باوجود بھی اے پی سی ناکام ہوگئی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جن کی بقا کرپشن سے جڑی ہو وہ کرپشن کو ختم کرنے کے لیے لائحہ عمل نہیں لاسکتے، جو پارلیمانی کمیٹی میں خاموش رہتے تھے انہوں نے اے پی سی میں زبان درازی کی'۔

انہوں نے کہا کہ 'انتخابات کو دھاندلی زدہ کہنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی بات میں سچائی ہے تو سندھ میں بھی دھاندلی کے ذریعے حکومت بنی ہے'۔

معاون خصوصی نے کہا کہ سلیکٹڈ پر بات کرنے والے جان لیں کہ لیڈرز ایسے بھی ہیں جو پیدائشی ڈیفکٹڈ ہیں، صرف سلیکٹڈ پر بات نہیں کرنی چاہیے، بات کرنی ہے تو تاحیات ریجکٹڈ اور ڈیفکٹڈ پر بھی کریں۔

اے پی سی منعقد کرنے والے مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'مولانا صاحب کا اقتدار سے دوری کا دکھ نظر آرہا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جو آستینیں چڑھا کر حکومت کو گرانے نکلے تھے وہ ایک بیانیے پر بھی متفق نہیں ہوسکے اور ان کی دوڑ اپنے ہی چیئرمین سینیٹ کی برطرفی پر آکر ختم ہوگئی ہے جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ انہیں آپس میں بھی ایک دوسرے سے خطرہ ہے'۔

اے پی سی کی جانب سے 'رہبر کمیٹی کے قیام کے اعلان پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'رہبر کمیٹی قوم کے ساتھ سنگین مذاق ہے، رہبر راہزن نہیں ہوتا، وہ اپنے قوم کے وسائل کو لوٹتا نہیں، وہ کبھی کرپشن سے اپنے خاندان کے اثاثے نہیں بناتا، وہ اپنے بچوں کو باہر رکھ کے قوم کے بچوں کو سیاسی ایندھن بنانے کے لیے استعمال نہیں کرتا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جو رہبر ہیں ان کے دامن کرپشن کے خون سے داغدار ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے اے پی سی میں کرپشن پر بات تک نہیں کی'۔

انہوں نے کہا کہ 'قوم، پاکستان کو کھلونا بنا کر کھیلنے کے لیے بچوں کے ہاتھوں میں دینے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوگی'۔

انہوں نے اے پی سی اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں عمران خان سے بغض صاف ظاہر ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آپ کی آہ و بکا، فریادوں سے حکومت گھر نہیں جانے والی، عوام کے مفاد کی بات کریں'۔

انہوں نے کہا کہ 'اے پی سی بلانے کی اصل وجہ انکوائری کمیشن تھا، اپوزیشن انکوائری کمیشن سے خوفزدہ ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اے پی سی میں جو یوم سیاہ منانے کی بات کی گئی اسے 21 جون کے ساتھ منسلک کر لیں جس دن انکوائری کمیشن قائم ہوئی تھی'۔

معاون خصوصی نے کہا کہ 'اگر کسی شخص نے کرپشن نہیں کی تو اسے سینہ تان کر اس انکوائری کمیشن کا خیر مقدم کرنا چاہیے مگر جنہوں نے اسے مسترد کیا ہے وہ اشارہ دے رہے ہیں کہ دال میں کچھ کالا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'انکوائری کمیشن میں جن اداروں پر اعتراض اٹھائے گئے ہیں وہ پاکستان کی طاقت ہیں اور وہی ادارے اس ملک کو عوام کو کھویا ہوا تشخص دلانے میں کردار ادا کریں گے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'وفاقی بجٹ ہر صورت منظور ہوگا'۔