پہلا سیمی فائنل، دماغ بھارت اور دل نیوزی لینڈ کے ساتھ

اپ ڈیٹ 08 جولائ 2019

ای میل

ورلڈ کپ 2019ء اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں اعزاز کی دوڑ میں صرف 4 ٹیمیں باقی بچی ہیں۔

پہلا سیمی فائنل منگل کو اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر میں کھیلا جائے گا جس میں باہم مقابل ہوں گے پوائنٹس ٹیبل پر نمبر ایک بھارت اور نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر پاکستان کو پیچھے چھوڑ کر 'فائنل 4' میں جگہ پانے والا نیوزی لینڈ۔ جو جیتے گا وہ 14 جولائی کو لارڈز کے لیے اپنی نشست کو پکا کرے گا۔

پہلے سیمی فائنل کے لیے دونوں ٹیموں میں کس کا پلڑا بھاری ہے، کون کیوں جیت سکتا ہے اور کون کیوں ہار سکتا ہے، کس کی کیا کمزوری ہے اور کس کے پاس کیا مضبوط آپشنز ہیں، آئیے ان حوالے سے کچھ باتیں کرتے ہیں۔

بھارت، ایک مستقل مزاج دستہ

بھارت کی بات کریں تو حیران کُن طور پر نیوزی لینڈ کے خلاف اس کا ورلڈ کپ ریکارڈ کچھ خاص نہیں ہے۔ 1975ء سے لے کر 2019ء تک دونوں کے مابین کُل 8 میچ کھیلے گئے جن میں سے صرف 3 میں بھارت نے کامیابی حاصل کی جبکہ 4 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید پڑھیے: سرفراز اور ٹیم کے درمیان کوئی گروپ بندی نہیں، عماد وسیم

لیکن یاد رکھیں کہ آخری بار دونوں ٹیموں کے مابین کوئی ورلڈ کپ میچ 2003ء میں ہوا تھا جس میں بھارت نے 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی یعنی کافی وقت گزر چکا ہے اور پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ دیگر عوامل بھی ذہن میں رکھیں تو بھارت نہ صرف سیمی فائنل بلکہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بھی فیورٹ ہے۔

ٹورنامنٹ کے آغاز سے پہلے ہی کوہلی الیون کو اعزاز کے لیے اہم ترین امیدوار سمجھا جا رہا تھا اور اس نے اب تک اپنے پرستاروں کو ذرا بھی مایوس نہیں کیا۔ ورلڈ کپ 2019ء میں بھارت نے اب تک 9 میچ کھیلے ہیں اور ان میں اسے صرف انگلیںڈ کے شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے، یعنی وہ 'ٹاپ گیئر' میں ہے۔

ورلڈ کپ 2019ء میں کھیلے گئے 9 میچوں میں بھارت کو صرف انگلینڈ کے شکست کا منہ دیکھنا پڑا
ورلڈ کپ 2019ء میں کھیلے گئے 9 میچوں میں بھارت کو صرف انگلینڈ کے شکست کا منہ دیکھنا پڑا

پچھلے ورلڈ کپ یعنی 2015ء کے بعد سے اب تک بھارت نے 94 ون ڈے میچوں میں سے صرف 28 میں شکست کھائی ہے۔ 63 کامیابیوں کے ساتھ وہ اس عرصے کی کامیاب ترین ٹیموں میں سے ایک ہے۔ اس دوران بھارت نے نیوزی لینڈ کے خلاف 14 میں سے 9 میچ بھی جیت رکھے ہیں، جن میں مسلسل 5 فتوحات بھی شامل ہیں۔ یعنی ہر لحاظ سے بھارت دنیائے کرکٹ کی ایک نمایاں طاقت ہے۔

گزشتہ 2 سال کی کارکردگی بھی دیکھی جائے تو بھارت 12 میں سے صرف 2 ون ڈے سیریز ہارا ہے، ایک پچھلے سال انگلینڈ میں اور دوسری ورلڈ کپ سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف۔ ان 2 مواقع کو چھوڑ کر بھارت نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ سمیت ہر حریف کو پچھاڑا ہے یعنی بہت تسلسل کے ساتھ کارکردگی پیش کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سیمی فائنل میں جیتنے کے لیے بھی بھارت ہی فیورٹ ہے۔

لیکن یاد رکھیں کہ کرکٹ میں کوئی دن کسی کا بھی ہوسکتا ہے۔ اپنے دن پر تو آئرلینڈ اور افغانستان جیسے نوآموز بھی بڑے سورماؤں کو چت کردیتے ہیں۔ لیکن فی الحال ہم حالات و واقعات، تسلسل اور کارکردگی کی بنیاد پر ہی دیکھ سکتے ہیں، اور ان بنیادوں پر تو بھارت کو فائنل میں جانے سے کوئی روکتا دکھائی نہیں دیتا، نیوزی لینڈ بھی نہیں!

نیوزی لینڈ، کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے

نیوزی لینڈ اُن پرانی اور بدقسمت ٹیموں میں سے ایک ہے جس نے کبھی ورلڈ کپ نہیں جیتا حالانکہ 12 ٹورنامنٹس میں 7 بار ورلڈ کپ سیمی فائنل تک پہنچ چکا ہے بلکہ 2015ء میں تو فائنل تک بھی رسائی حاصل کی تھی، لیکن وہاں پہنچ کر بھی روایتی حریف آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کھا بیٹھا۔

فائنل میں شکست کے بعد نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مایوس نظر آرہے ہیں— فوٹو: رائٹرز
فائنل میں شکست کے بعد نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مایوس نظر آرہے ہیں— فوٹو: رائٹرز

آسٹریلیا نے آسان مقابلے کے بعد پانچویں مرتبہ عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا—فوٹو: رائٹرز
آسٹریلیا نے آسان مقابلے کے بعد پانچویں مرتبہ عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا—فوٹو: رائٹرز

ورلڈ کپ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کا ریکارڈ مایوس کن ہے، 6 میچوں میں صرف ایک کامیابی۔ یہ واحد فتح پچھلے ورلڈ کپ یعنی 2015ء میں ملی تھی لیکن فائنل میں نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ ورلڈ کپ 2019ء میں نیوزی لینڈ کا آغاز تو بہت عمدہ تھا۔ ابتدائی 6 مقابلوں میں اس نے ایک بھی نہ ہارا، لیکن پھر پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد حوصلے ایسے ٹوٹے کہ مسلسل 3 میچ ہار کر بمشکل سیمی فائنل تک پہنچا ہے۔

پچھلے 5 سالوں میں بھارت کے خلاف ناقص ریکارڈ اپنی جگہ، لیکن اس سے ہٹ کر بھی نیوزی لینڈ کی کارکردگی بہت زیادہ غیر معمولی نہیں ہے۔ اس نے 85 میں سے 48 میچز جیتے ہیں اور 34 میں شکست کھائی ہے۔ یوں وہ انگلینڈ، بھارت بلکہ جنوبی افریقہ سے بھی پیچھے ہے البتہ آسٹریلیا اور پاکستان سے آگے نظر آتا ہے۔ رواں سال نیوزی لینڈ نے سری لنکا اور بنگلہ دیش کو تو ون ڈے سیریز ہرائی ہے لیکن بھارت کے خلاف اپنے ہوم گراؤنڈ پر ‏4-1‎ کی مایوس کن شکست کھائی ہے۔

اہم کھلاڑی کون سے؟

سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں، بالخصوص آخری 3 مقابلوں میں ان کی کارکردگی دیکھتے ہوئے لگتا نہیں کہ وہ بھارت کو پچھاڑ پائیں گے۔ ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے ان کا انحصار ہے اپنے کپتان کین ولیمسن پر، کیونکہ ورلڈ کپ میں وہی مسلسل کارکردگی دکھاتے آئے ہیں جبکہ مارٹن گپٹل سے لے کر روس ٹیلر تک، سب بلے بازوں پر بڑی اننگز ادھار ہیں۔ اگر وہ سیمی فائنل میں اس ادھار کو چکانے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں بہت اچھا مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

بلے بازوں کے علاوہ ٹرینٹ بولٹ کا کردار بھی بہت اہم ہوگا کیونکہ بھارت کی اصل طاقت اس کی بیٹنگ لائن اَپ ہے۔ اس سے ہی اندازہ لگا لیں کہ اِن فارم روہت شرما اس ورلڈ کپ میں ہی 5 سنچریاں بنا چکے ہیں جو بذاتِ خود ایک ریکارڈ ہے۔ اگر بولٹ اور ساتھی باؤلرز بھارتی بیٹنگ لائن میں کوئی دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہوئے تو اچھا مقابلہ ہوگا ورنہ ہم ایک اور یکطرفہ مقابلہ دیکھیں گے۔

مزید پڑھیے: کالی آندھی کب ہمارا پیچھا چھوڑے گی؟

بھارت کی بات کریں تو روہت شرما بلے بازی میں جبکہ جسپریت بمراہ باؤلنگ میں بھارت کے لیے نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں اور سیمی فائنل میں بھی انہی سے بڑی کارکردگی کی توقعات ہیں۔

نیوزی لیںڈ کے لیے ٹرینٹ بولٹ اور بھارت کے لیے جسپریت بمراہ کا کردار اہم ہوگا— فوٹو: اے ایف پی
نیوزی لیںڈ کے لیے ٹرینٹ بولٹ اور بھارت کے لیے جسپریت بمراہ کا کردار اہم ہوگا— فوٹو: اے ایف پی

ٹاس، ایک اہم عنصر

ویسے سیمی فائنل میں ایک اہم پہلو ٹاس کا بھی ہے کیونکہ ورلڈ کپ میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیموں کو برتری حاصل رہی ہے۔ جاری ٹورنامنٹ کے آخری 20 میں سے 16 میچ میں وہ ٹیمیں جیتی ہیں جنہوں نے پہلے بیٹنگ کی ہے۔ اس لیے ٹاس بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔ لہٰذا اگر نیوزی لینڈ نے ٹاس جیتا اور ممکنہ طور پر پہلے بیٹنگ کی تو اس کے امکانات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بلاشبہ کرکٹ کے چاہنے والے، بالخصوص پاکستانی، اِس بار نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کا فائنل دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ آسٹریلیا اور بھارت جیسی پرانی ٹیموں کو ایک مرتبہ پھر ورلڈ چیمپیئن دیکھنا کسی کو پسند نہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ 1983ء اور 2011ء کا ورلڈ چیمپیئن بھارت ایک مرتبہ پھر فائنل میں جگہ بنا پاتا ہے یا نیوزی لینڈ مسلسل دوسری بار فائنل تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ فتح کسی کی بھی ہو، بس مقابلہ کانٹے کا ہونا چاہیے!