حیدر آباد: لاپتہ 10 سالہ بچی کی تشدد زدہ لاش برآمد،لواحقین کا احتجاج

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2019

ای میل

چند روز قبل رخسانہ سیال اپنے بھائی قادر بخش سیال کے ہمراہ لاپتہ ہوگئی تھی—فائل فوٹو: ڈان نیوز
چند روز قبل رخسانہ سیال اپنے بھائی قادر بخش سیال کے ہمراہ لاپتہ ہوگئی تھی—فائل فوٹو: ڈان نیوز

حیدر آباد کے نواحی علاقے سے لاپتہ ہونے والی 10 سالہ بچی کی تشدد زدہ لاش بسمہ سٹی سے مل گئی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل رخسانہ سیال اپنے 11 سالہ بھائی قادر بخش سیال کے ہمراہ لاپتہ ہوگئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: لاپتہ بچے کی لاش نہر سے برآمد

گور نامی علاقے میں رہائش پذیر دونوں بچے گھر سے دہی خریدنے کے لیے نکلے تھے تاہم اس کے بعد ان کی موجودگی کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہوسکا۔

بی سیکشن پولیس اسٹیشن کے مطابق رخسانہ سیال کے جسم پر زخم کے نشان تھے۔

پولیس نے بتایا ’ہمیں صرف لاش ملی اور اسے گور پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے‘۔

ایس ایچ او ناصر شاہ نے بتایا کہ ’بچی کے والد انتظار سیال نے اپنی بیٹی کی شناخت کر لی‘۔

دوسری جانب جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین اور اہلخانہ نے بچی کی میت مقامی پریس کلب کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا۔

مزید پڑھیں: نیو کراچی سے اغوا ہونے والا بچہ لیاقت آباد سے برآمد

اس سے قبل رخسانہ سیال کا بھائی قادر بخش سیال انتہائی زخمی حالت میں ملا اور اس کے جسم پر بھی گہرے زخم کے نشان تھے۔

ایئرپورٹ پولیس نے بچے کو لیاقت یونیورسٹی ہسپتال منتقل کیا جہاں بچے نے اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا، لیکن جانبر نہ ہوسکا۔

ایڈووکیٹ ذوالقرنین نے بتایا کہ بچے نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ عثمان بنگالی عرف مرغی والا دونوں بہن بھائیوں کو چیز دلانے کے بہانے اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا کر لے گیا تھا۔

ایڈووکیٹ ذوالقرنین کے مطابق پولیس نے عثمان بنگالی کو حراست میں لے لیا۔

مزید پڑھیں: بچوں کا اغوا اور قتل: میاں، بیوی کو سزائے موت سنادی گئی

بچوں کے والد انتظار سیال نے بتایا کہ عثمان بنگالی گزشتہ 10 برس سے محلے میں مقیم تھا اور ہمیں اندازہ نہیں تھا وہ بچوں پر بری نظریں رکھے ہوئے ہے اور اس حد تک جاسکتا تھا‘۔

اس ضمن میں ایڈووکیٹ ذوالقرنین نے بتایا کہ وہ اپنی ساتھی ایڈووکیٹ کے ہمراہ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن پہنچے، تو پولیس نے موقف اختیار کیا کہ بچہ گور پولیس اسٹیشن کی حدود سے لاپتہ ہوا اس لیے ادھر ہی سے مقدمہ درج کرایا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے ڈی آئی جی پولیس تک رسائی حاصل کی اور یوں مقدمہ درج ہوا۔