لاہور میں گمشدہ چوبرجی کی تلاش اور مقبرہ زیب النساء

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2019

ای میل

میں اپنے کمرے میں سو رہا تھا کہ اچانک موبائل فون کی گھنٹی بجی اور آنکھ کھل گئی۔ اسکرین دیکھی تو فاروق صاحب کی کال تھی جو انگلینڈ کے باسی اور میرے بزرگ دوست عبدالباری صاحب کے قریبی عزیز تھے، اور ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کچھ دن پہلے ملاقات ہوئی تھی تو میں نے باتوں ہی باتوں میں ان سے اندرونِ شہر دکھانے کا وعدہ کرلیا تھا، لہٰذا جیسے ہی موبائل پر فاروق صاحب کا نام نمودار ہوا تو مجھے فوراً اپنا وعدہ یاد آگیا۔

میں نے کال رسیو کی تو کہنے لگے ہاں بھائی کیا پروگرام ہے؟ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو چلیں؟ جواباً میں نے کہا کہ وہاں بھی ضرور چلیں گیں مگر یہاں ہمارے نزدیک ایک حسینہ اپنے ڈھلتے حُسن پر نوحہ کناں ہے اور ایک طویل عرصے سے اپنی شناخت کی متلاشی ہے۔ اس کا وجود قید کی حالت میں ہے۔ ہمسایوں کی بے اعتنائی نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اس کا وجود دیکھ کر فوری اندازہ ہوجاتا کہ اپنی بھرپور جوانی کے دنوں میں حُسن ٹوٹ کر برسا ہوگا۔

میری باتیں سن کر فاروق صاحب کہنے لگے تو پہلے اس حسینہ سے ملاقات کرتے ہیں، یوں ہم دونوں ملاقات کے لیے نکل پڑے۔ علامہ اقبال ٹاؤن سے ملتان روڈ کی طرف جائیں تو اسکیم موڑ آتا ہے جہاں سے پھر یتیم خانے سے آگے جانے پر نواں کوٹ کا علاقہ آتا ہے اور یہی جگہ ہمارا مقام مقصود ہے۔

ملتان روڈ کی طرف سے جائیں تو دائیں ہاتھ اور اگر چوک چوبرجی سے آئیں تو بائیں ہاتھ پر سڑک کنارے شہزادی زیب النسا کے نام سے منسوب مزار آتا ہے۔ شہزادی زیب النسا شہنشاہ ہندوستان اورنگزیب عالمگیر اور دلرس بیگم کی صاحبزادی تھیں اور فارسی زبان کی شاعرہ تھیں۔

زیب النسا نے مخفی کے تخلص سے شاعری کی۔ 1929ء میں دہلی سے اور 2001ء میں ایران میں مخفی کے نام سے ان کا دیوان بھی شائع کیا گیا۔ زیب النسا نے عمر بھر شادی نہیں کی۔ زیب النسا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 3 سال کی عمر میں قران پاک حفظ کرلیا تھا۔ تاریخ کے حوالے یہ بھی بتاتے ہیں کہ زیب النسا نے اپنی عمر کے آخری 20 سال قید میں گزارے تھے۔

1662ء میں جب اورنگزیب عالمگیر کی طبیعت ناساز ہوئی تو فضا کی تبدیلی کے لیے لاہور کا رخ کیا گیا۔ وہ خاندان کے دیگر افراد بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔ اس وقت لاہور پر ان کے ایک وزیر کا بیٹا عاقل خان گورنر تعینات تھا۔ کہا جاتا ہے کہ شہزادی زیب النسا اور عاقل خان ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہوگئے، بادشاہ کو یہ بات گوارا نہ ہوئی لہٰذا شہزادی زیب النسا کو قیدِ تنہائی میں ڈال دیا۔

شہزادی زیب النسا شہنشاہ ہندوستان اورنگزیب عالمگیر اور دلرس بیگم کی صاحبزادی تھیں
شہزادی زیب النسا شہنشاہ ہندوستان اورنگزیب عالمگیر اور دلرس بیگم کی صاحبزادی تھیں

شہزادی زیب النسا کے نام سے منسوب مزار
شہزادی زیب النسا کے نام سے منسوب مزار

ایک اور تحقیق کے مطابق زیب النسا کو موسیقی سے لگاؤ کے باعث قید کیا گیا لیکن ان دونوں واقعات میں سچ تلاش کرنا مشکل ہے۔ ایک تیسرا واقعہ جو زیادہ غور طلب ہے وہ یہ کہ شہزادی زیب النسا کی منگنی اورنگزیب عالمگیر کے بھائی داراشکوہ کے بیٹے سے ہوئی تھی۔ پھر جب تخت شاہی کی جنگ شروع ہوئی تو اورنگزیب عالمگیر اور داراشکوہ جان کے دشمن بن گئے، اور اس دوران شہزادی زیب النسا نے محل کی کچھ باتیں داراشکوہ کے بیٹے کے ساتھ کردیں۔ اس سلسلے میں وہ اپنے والد سے ہم کلام بھی ہوئیں، اسی وجہ سے شہزادی اور بادشاہ کی لاڈلی کی بقیہ عمر قید کی حالت میں گزری۔

شہزادی زیب النسا نے 1702ء میں قید کی حالت میں جب وفات پائی تو اس وقت شہنشاہ ہندوستان دکن کی مہمات میں مصروف تھے۔ زیب النسا کو وفات کے بعد کہاں دفن کیا گیا اس کے بارے میں دو رائے پائی جاتی ہیں۔ مولوی نور احمد چشتی (مصنف تحقیقات چشتی)، مرزا حیرت دہلوی، رائے بہادر کنہیا لال ہندی، شمس علماء خان بہادر اور سید محمد لطیف کی رائے کے مطابق شہزادی کو لاہور میں دفن کیا گیا، ہم یہاں آپ کو بتاتے چلیں کہ مذکورہ تمام تاریخ دانوں نے مولوی نور احمد چشتی کے حوالوں کو ہی استعمال کیا ہے۔

زیب النسا نے 1702ء میں جب وفات پائی تو اس وقت شہنشاہ ہندوستان دکن کی مہمات میں مصروف تھے
زیب النسا نے 1702ء میں جب وفات پائی تو اس وقت شہنشاہ ہندوستان دکن کی مہمات میں مصروف تھے

جبکہ مختلف تحقیقی حوالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زیب النسا کی قبر لاہور میں نہیں سلیم گڑھ دہلی میں تھی۔ بادشاہ کے حکم سے اسے تیس ہزاری باغ میں دفن کیا گیا۔ تیس ہزاری باغ شنشہاہ عالمگیر کی بہن جہاں آرا بیگم کا تھا، جن کی وفات کے بعد یہ باغ زیب النسا کی ملکیت میں آگیا تھا۔

مآثر عالمگیر کے مصنف، جو عالمگیر کے معاصر بھی ہیں، وہ 1702ء کے واقعات میں لکھتے ہیں کہ ’دارالخلافہ کی اطلاع سے معلوم ہوا کہ نواب تقدیس زیب النسا بیگم اللہ سے پیوست ہوگئیں۔ بادشاہ کا دل اس خبر سے بھر آیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ وہ بے طاقتی کی وجہ سے بے قرار تھے۔ صبر کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ بادشاہ نے سید امجد خان، شیخ عطااللہ، حافظ خان کو حکم دیا کہ وہ غریبوں میں شہزادی کے نام پر صدقات اور خیرات تقسیم کریں اور بیگم کا مقبرہ تیس ہزاری میں بنائیں جو ان کا متروکہ بھی ہے۔‘

ایک گمشدہ چوبرجی
ایک گمشدہ چوبرجی

مختلف تحقیقی حوالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زیب النسا کی قبر لاہور میں نہیں سلیم گڑھ دہلی میں تھی
مختلف تحقیقی حوالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زیب النسا کی قبر لاہور میں نہیں سلیم گڑھ دہلی میں تھی

شہزادی زیب النسا کے مقبرے کی سلیم گڑھ دہلی میں موجودگی کی تصدیق مرزا سنگین بیگ نے اپنی کتاب ’سیر المنازل‘ میں کی اور لکھا کہ، ’کابلی دروازے کے باہر شارع عام پر تکیہ بھولو شاہ کے شمال کی جانب زیب النسا کا مقبرہ اور لال پتھر کی مسجد ہے۔‘

اس کے علاوہ سر سید احمد خان کی کتاب ’آثار الصنادید‘ کے صفحہ 43 اور 77 کے مطالعہ سے زیب النسا کے مقبرے کی دہلی میں موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے، تاہم 1875ء میں راجپوتانہ ریلوے تعمیر ہوئی تو یہ مقبرہ مسمار کردیا گیا۔

مشہور شاعر برق دہلوی نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا کہ،

زیب النسا کی قبر جو تھی خاک میں نہاں

صدیوں کے بعد اس کا ملا گمشدہ نشاں

مشہور ہے جو تیس ہزاری کے نام سے

تھا گنج بے بہا اُسی میدان میں نہاں

انگریز مصنف مسٹر بیل لکھتے ہیں کہ ’زیب النسا کا مزار کابلی دروازے کے پاس دہلی میں تھا لیکن راجپوتانہ ریلوے کے تعمیراتی کام کے دوران اسے مسمار کردیا گیا تھا۔ مزار کی مسماری کے بعد زیب النسا کی قبر کو آگرہ میں شہنشاہ اکبر کے مزار کے قریب منتقل کیا گیا تھا۔

تاریخی حوالے یہی ثابت کرتے ہیں کہ لاہور میں زیب النسا کا مزار محض قیاس کی بنیاد پر ہے۔ اس کی ایک اور دلیل بھی ہے اور وہ یہ کہ خاندان مغلیہ کی خواتین کی قبروں کے تعویز 2 منازل پر مشتمل ہوتے تھے، اصل قبر نیچے ہوتی اور خالی تعویز اوپر تعمیر کیا جاتا تھا اور خاتون کی قبر پر تختی بھی بنائی جاتی جبکہ نواں کوٹ کے مقبرے پر ایسی کوئی چیز نظر نہیں آتی ہے۔

شہرِ لاہور کے 3 داخلی دروازے تھے۔ ایک شاہدرہ، دوسرا باغبان پورہ اور تیسرا نواں کوٹ۔ ان تینوں دروازوں کے گردو نواح میں خوبصورت باغات تعمیر کیے گئے تھے۔ لاہور آنے والے ان باغات کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فقرہ اسی دور میں مشہور ہوا تھا کہ جنے لور نی ویکھیا او جنمیا نی (جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا نہیں ہوا)۔

مقبرہ خستہ حالی کا شکار نظر آتا ہے
مقبرہ خستہ حالی کا شکار نظر آتا ہے

نواں کوٹ کا علاقہ مغلیہ دور میں ایک اہم مقام تھا۔ اس علاقے میں بھی نہایت خوبصورت باغات تھے۔ یہاں مغلیہ دور کی تعمیرات اور عمارات کے آثار موجود ہیں۔ اکثر تاریخ دانوں نے تاریخی حوالوں سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اس مزار کے فنِ تعمیر میں عالمگیر کے دور کی خصوصیات موجود نہیں بلکہ یہ مقبرہ شاہ جہاں کے دور میں ہونے والی تعمیرات کے فن سے مطابقت رکھتا ہے۔

ہم یہاں گمشدہ چوبرجی کی تلاش میں آئے تھے۔ اس گمشدہ چوبر جی اور مزار کا آپس میں گہرا تعلق تھا جو فی الحال سامنے نظر نہیں آرہا۔زیب النسا سے منسوب اس مقبرے کی بحالی کا کام ہوچکا تھا، پہلے اس جگہ کی حالت کافی خستہ حالی کا شکار تھی لیکن بحالی کے بعد مقبرہ قدرے بہتر حالت میں نظر آرہا تھا، محکمہءِ آثارِ قدیمہ نے زیب النسا کے نام کی تختی یہاں نصب کر رکھی ہے۔

گنبد پیلے رنگ اور مقبرے کے چاروں اطراف جالیاں تھیں جبکہ قبر کا تعویز سفید سنگِ مرمر سے بنا ہوا تھا۔ ہم مقبرے کی باریکیاں دیکھنے میں مصروف ہی تھے کہ فاروق صاحب نے اچانک کہا کہ آپ جس گمشدہ چوبرجی کی بات کررہے تھے وہ کہاں ہے؟ یہ سن کر میں نے جواب دیا کہ آپ نے وہ شعر نہیں سنا کہ

انہی راستوں پر چل کر آ سکو تو آؤ

میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

سو آئیے چلتے ہیں۔ پھر ہم نے تنگ گلیوں میں چلنا شروع کیا۔ گمشدہ چوبرجی جہاں کھڑی تھی وہاں صرف موٹرسائیکل پر جانا ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ گلی میں پہنچتے ہی ایک برج نظر آیا جو یہاں کے رہائشیوں کے لیے کوڑے دان کا کام دے رہا تھا۔ چھوٹی لال اینٹوں سے بنے ہوئے اس برج کے اوپر گنبد بھی بنا ہوا نظر آیا۔ فاروق صاحب نے برج کی حالت دیکھ کر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔

محکمہءِ آثار قدیمہ نے زیب النسا کے نام کی تختی یہاں نصب کر رکھی ہے
محکمہءِ آثار قدیمہ نے زیب النسا کے نام کی تختی یہاں نصب کر رکھی ہے

اس برج سے کچھ فاصلے پر گمشدہ اور عوام الناس کی نظروں سے اوجھل چوبرجی نظر آ رہی تھی۔ اس عمارت کی موجودہ ظاہری حالت کو لفظوں میں بیان کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ عمارت کی دونوں جانب گندگی کے ڈھیر تھے اور یہ غلاظت یہاں کے مکین ہی یہاں پھینک رہے تھے۔ عمارت کی بنیادوں میں لگی اینٹیں بھی خستہ حال تھیں۔ اندر داخل ہوکر اوپر گبند کی طرف دیکھا تو چمگادڑوں کے گھونسلے نظر آئے، ان گھونسلوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اب تو چھت نظر آنا محال بن چکا ہے۔

باہر کی جانب سے سڑھیاں اوپر جا رہی تھیں جن پر آہنی دروازہ نصب تھا۔ ہماری قسمت اچھی تھی کہ آج وہ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ زینیوں کے آدھے راستے میں بالکونی تھی یہاں سے گنبد کا اندرونی حصہ قریب سے دیکھا جاسکتا تھا۔

چھت کے ہر ایک کونے میں گنبد بنا ہوا ہے، جسے سہارا دینے کے لیے چھوٹے چھوٹے مینار بھی تعمیر کیے گئے تھے جنہیں رنگین پتھروں سے مزین کیا گیا تھا تاہم اب ایک آدھ ہی پتھر نظر آرہے تھے۔

فاروق صاحب بولے یار یہ تو نہایت خستہ حالی کا شکار ہے۔ تاریخی طور پر نہایت اہمیت کی حامل اس عمارت کی اس قدر بے قدری! حکومت کی زیادتی تو ایک طرف، علاقہ مکینوں کی بے حسی کا عالم تو دیکھیے۔

ان کی یہ بات سن کر میں نے کہا کہ ’فاروق صاحب ہم سب بے حس ہیں، یہ صرف یہاں کے لوگوں کی بے حسی نہیں ہے‘۔

فاروق صاحت بولے کہ ’یار میری بات سنو جو چوبرجی چوک میں کھڑی ہے اس کا خیال تو معزز عدالت کو بھی آگیا کہ اس کو بچانا ہے، البتہ یہ عمارت اب بھی توجہ کی طلبگار ہے‘۔

ایک بزرگ رہائشی نے بتایا کہ سڑک کے دوسری جانب بھی 2 برج تھے جو آج سے 40 سال پہلے موجود تھے تاہم بعدازاں لوگوں نے دونوں کو گرا دیا۔ اس بات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک باغ کا داخلی دروازہ تھا، اور یہ برج دیواروں کے کونے پر بنے ہوں گے اور اگر باہر موجود مقبرے، اس داخلی دروازے اور برجوں کو دیکھا جائے تو مقبرہ عین درمیان میں نظر آتا ہے۔

مغلیہ تاریخ کے اس اہم ورثے کو بحالی کے کام کی اشد ضرورت ہے
مغلیہ تاریخ کے اس اہم ورثے کو بحالی کے کام کی اشد ضرورت ہے

یہاں کے مقامی افراد نے بتایا کہ محکمہءِ آثارِ قدیمہ کا چوکیدار کبھی کبھار یہاں آتا ہے۔ اس داخلی دروازے کی حالت محکمے کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ صرف اس جگہ کا نوحہ نہیں ہے بلکہ حکومت سے لے کر عام شہریوں تک کسی نے بھی تاریخ کی ان نشانیوں کو کبھی اہمیت نہیں بخشی۔

فاروق صاحب اور میں نے یہاں کچھ تصاویر بطور یادگار بنوائیں۔

آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ مقبرہ زیب النسا کا نہیں ہے، تو پھر یہ کس کا مقبرہ ہے؟ اور باہر جو چوبرجی کھڑی ہے کیا وہ زیب النسا کے باغ کا داخلی دروازہ تھا؟ فاروق صاحب نے مجھ سے سوال کیا۔

فاروق صاحب چوک والی چوبرجی عالمگیر کی بہن جہاں آرا کا تھا جو بعد میں زیب النسا کو عطا کیا گیا جہاں تک اس مقبرے کی بات ہے تو یہ بات تصدیق شدہ نہیں کہ یہ کس کا مزار ہے۔ البتہ تاریخ کی مختلف کتابوں سے ایک شک جنم لیتا ہے، اور وہ یہ کہ شاہ جہاں کے عہد میں 4 امیر آصف جاہ، علی مردان خان، ہمسرا نصرت خان اور افضل خان علامی وفات پاگئے تھے، ان میں سے 3 کی قبریں تو ملتی ہیں مگر افضل خان علامی کا مزار نہیں ملتا سو غالب امکان یہی ہے کہ اس مزار میں افضل خان علامی دفن ہے۔

البتہ یہ بات بھی قابلِ غور اور تحقیق ہے کہ یہ مزار زیب النسا کے نام سے کیوں منسوب ہوگیا اور تاریخ اس حوالے سے کچھ نہیں بتاتی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سول سیکریٹریٹ میں انارکلی کا مقبرہ موجود ہے اور تاریخ میں مغل دربار میں کسی انارکلی کا ذکر بھی نہیں ملتا۔

بہرحال ہمیں اس گمشدہ چوبرجی کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے، یہ ہماری ٹوٹتی بکھرتی تاریخ کا حصہ ہے۔ میں اور فاروق صاحب کچھ دیر اس مقام کو دیکھتے رہے اور اندر ہی اندر اس عمارت کی خستہ حالی کا دکھ محسوس کرتے رہے۔

آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول

سرائے عبرت دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی

ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی،

سفر کی ابتد میں منزل شرط ہوتی ہے اور جہاں منزل ہو وہاں نشان ضرور ہوتا ہے۔ ہندوستان پر حکومت کرنے والوں میں اپنے پیچھے سب سے زیادہ نشانیاں تیموری خاندان نے چھوڑی ہیں۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد سکھ دورِ حکومت میں مغلیہ تاریخ کو بہت نقصان پہنچایا۔

پاکستان بننے کے بعد جہاں حکمران طبقے کی تاریخ سے عدم دلچسپی تسلسل کے ساتھ جاری رہی وہیں ان تاریخی عمارات کے گرد و نواح میں بسے لوگ بھی اسی کوشش میں رہے کہ کسی طرح ہمارے پکے مکانوں کے نیچے یہ تاریخ ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائے۔

لاہور میٹرو کی تعمیر کے دوران جلد بازی میں چوبرجی اور شالامار کے نزدیک سے میٹرو ٹرین کا راستہ تعمیر کیا گیا تو معزز عدالت نے حکم کے ذریعے چوبرجی اور شالامار سے مخصوص دُوری اختیار کرنے کا حکم جاری کیا۔ چوبرجی لاہور کا اہم مقام ہے روزانہ لاکھوں لوگ اس راستے سے گزرتے ہیں مگر بہت ہی کم جانتے ہیں کہ چوبرجی مغل شہزادی زیب النسا کے باغ کا دروازہ تھا۔

یہ چوبرجی نظروں کے سامنے تھی تو معزز عدالت نے ایک حکم کے ذریعے اسے بچانے اور بحالی کا حکم نامہ جاری کردیا، لیکن اسی چوبرجی سے چند منٹ کی دُوری پر گمشدہ چوبرجی اپنی حالت پر نوحہ کناں ہے۔

مجھے پورا یقین ہے کہ اگر اس تاریخی ورثے کی بحالی کا کام ہوتا تو یہ چوبرجی چوک میں کھڑی چوبرجی سے زیادہ حسین و جمیل ہونے کا اعزاز حاصل کرلیتی۔