ڈیفنس میں لڑکی کا ریپ کرکے ساحل سمندر پر پھینک دیا گیا، پولیس

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2019

ای میل

ایف آئی آر درج کرکے متاثرہ لڑکی کا طبعی معائندہ کرایا گیا، پولیس—فائل فوٹو: ڈان نیوز
ایف آئی آر درج کرکے متاثرہ لڑکی کا طبعی معائندہ کرایا گیا، پولیس—فائل فوٹو: ڈان نیوز

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں مبینہ طور پر ایک لڑکی کو تشدد کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا جو پولیس کےمطابق نیم برہنہ حالت میں ملی تھی۔

ڈیفنس پولیس کا کہنا تھا کہ سی ویو کے پاس نیم برہنہ حالات میں ایک لڑکی ملی تھی جن کو مبینہ طور پر تشدد اور ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

ایس ایس پی ساوتھ شیراز نذیر نے بتایا کہ پولیس حکام کو مددگار15 پر اطلاع ملی کہ سی ویو سے متصل ویلیج ہوٹل کے قریب ایک لڑکی کی لاش پڑی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں غیرت کے نام پر لڑکا، لڑکی قتل، 2 ملزمان گرفتار

انہوں نے بتایا کہ جب پولیس وقوع پر پہنچی تو لڑکی کو نیم بے ہوشی کی حالت میں پایا جسے فوراً ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

بعدازاں ہوش میں آنے والے بعد لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اسے مبینہ طورپر منشیات دی گئیں اور پھر تشدد کے بعد ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق لڑکی کا کہنا تھا کہ 'میرے ساتھ تشدد اور ریپ کی واردات میں علی عرف عمران کے ساتھ کرن نامی خاتون بھی ملوث ہے'

enter image description here

ایس ایس پی نے بتایا کہ ایف آئی آر درج کرکے متاثرہ لڑکی کا طبی معائنہ کرایا گیا ہے۔

علاوہ ازیں درخشانہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او شاہ جہاں لاشاری نے بتایا کہ ڈی ایچ اے کے علاقے مسلم کمرشل میں واقع ایک اپارٹمنٹ میں تقریباً 30 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر منشیات دے کر تشدد اور ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

مزیدپڑھیں: عدالت میں شوہر کا بیوی پر تشدد

انہوں نے بتایا کہ بعدازاں مشتبہ ملزمان نے لڑکی کو کار میں ڈال کر سی ویو پر نیم برہنہ اور نیم بیہوشی کی حالات میں پھینک دیا۔

پولیس نے متاثرہ لڑکی کی شکایت پر ایک شخص اور عورت کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی۔

اس ضمن میں پولیس نے بتایا کہ تاحال کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

دوسری جانب آئی جی پی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے متاثرہ لڑکی پر مبینہ تشدد کا نوٹس لے کر ایس ایس پی ساؤتھ انوسٹی گیشن کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

مزید پڑھیں: کراچی: گھریلو ملازمہ پر تشدد، خاتون سمیت 5 افراد گرفتار

انہوں نے کہا کہ تفتیش کو لڑکی کے بیان اور واقعاتی شواہد کی بنیاد پر انتہائی غیر جانب دار اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔

آئی جی پی سندھ کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد سے جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے۔