‘یورپی ممالک کو اپنی سرزمین پر ایرانی جوہری میزائل گرنے کا انتظار ہے‘

16 جولائ 2019

ای میل

وزرا خارجہ کے نزدیک ایران نے جوہری معاہدے کے خلاف سنگین ورزی نہیں کی، یورپی ممالک کے وزرا خارجہ —فائل فوتو: اے پی
وزرا خارجہ کے نزدیک ایران نے جوہری معاہدے کے خلاف سنگین ورزی نہیں کی، یورپی ممالک کے وزرا خارجہ —فائل فوتو: اے پی

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ایران کے جوہری میزائل یورپی ممالک کی سرزمین پر نہیں گریں گے تب تک وہ نیند سے بیدار نہیں ہوں گے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی میں شائع رپورٹ کے مطابق برسلز میں یورپی ممالک کے وزرا خارجہ نے ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔

مزیدپڑھیں: ایران کے ساتھ تنازع: امریکا نے خلیج فارس میں پیٹرائٹ میزائل دفاعی نظام بھیج دیا

بعدازاں یورپی ممالک کے خارجہ پالیسی چیف فریڈیکا موگیرنی نے کہا کہ وزرا خارجہ کے نزدیک ایران نے جوہری معاہدے کے خلاف سنگین ورزی نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ وزرا خارجہ جوہری معاہدے کے آرٹیکل 36 کو نافذالعمل نہیں سمجھتے۔

واضح رہے جوہری معاہدے کے آرٹیکل 36 میں معاہدے کے خلاف ورزی کی صورت میں ایران پر کڑی اقتصادی پابندیاں کا ذکر ہے۔

وزرا خارجہ کے بیان پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سیخ پا ہو گئے اور انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’یہ بالکل ایسا ہے کہ ایک شخص اپنا سر ریت میں چھپا لے اور خطرے کو نظر انداز کردے‘۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی، خلیج فارس میں امریکی افواج کی مشقیں

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ چند لوگو یورپ میں ایسے ہیں جو یورپی سرزمین پر ایرانی جوہری میزائل گرنے پر اپنی آنکھ کھولیں گے اور تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی‘۔

بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ’ہم ہر صورت میں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکیں گے‘۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے مابین جوہری معاہدے کا تنازع طویل عرصے سے جاری ہے۔

واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدہ منسوخ کیے جانے کے بعد تہران پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کردی گئی تھیں، تاہم ایران کو معاہدے کے دو نکات پر تجارتی استثنیٰ حاصل تھا۔

مزیدپڑھیں: امریکا نے ایرانی ’پاسداران انقلاب‘ کو دہشت گرد قرار دے دیا

بعد ازاں امریکا نے تجارتی استثنیٰ میں توسیع سے بھی انکار کردیا۔

اسی دوران امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیوں کے فوری بعد مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار جہاز اور بی 52 بمبار طیارے تعینات کیے تھے۔

یاد رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان اور ایران پر پابندی کے دوبارہ نفاذ کے بعد ایرانی معیشت بحران کا شکار ہوگئی ہے، جس سے دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔